پاکستان میں کسی نے کسی کو قتل کیا ہو اور وہ بری نہ ہو جائے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے چنانچہ یہ ہوتا ہے اور مسلسل ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے ہر روز سورج نکلتا ہے اور جس طرح، کبھی کبھار، بادل آ جاتے ہیں اور سورج نظر نہیں آتا، ویسے ہی، کبھی کبھی قاتل کو سزا بھی ہو جاتی ہے ۔
بریت نوشتہ ہے ، کتنی دیر میں ہوتی ہے ، اس کا انحصار نوعیت پر ہے ۔ مثلاً مقتول اگر بچہ ہے یا عورت ہے تو بریت جلدی ہو جائے گی بلکہ ان دو معاملات میں تو کیس چلنے کی نوبت ہی کم آتی ہے ۔ کیس داخل ہونے سے پہلے ہی داخل دفتر ہو جاتا ہے چنانچہ دادو کی ماڈل عدالت نے تہرے قتل کے مجرم بری کر دئیے تو کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ پاکستان کے ماڈل انصاف کو اس ماڈل عدالت نے ماڈل ہونے کی علامیت بھی بخش دی ۔
دادو کی اُم رباب نامی خاتون 8 سال اپنے والد، چچا اور دادا کے قتل کا مقدمہ چلانے کیلئے مارچ کرتی رہی۔ اس مارچ کو میڈیا کی کوریج بھی ملی۔ اس مہم سے انصاف تاخیر سے ملا ورنہ یہ کیس کب کا طے ہو چکا ہوتا ۔ قاتلوں میں حکمران پیپلز پارٹی کے دو ایم پی اے بھی شامل تھے ۔ بریت کے اس کیس پر سوشل میڈیا میں خاصی ھاھا کار مچی ہے تاہم ذمہ دار سیاستدانوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف کے حق میں خاموشی اختیار کی ہے ۔ یعنی انصاف کے حق میں اپنا وزن ڈال دیا ہے تاہم ایک غیر ذمہ دار سیاستدان، جماعت اسلامی کے امیر نعیم الرحمن نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے غیر ذمہ دارانہ بیان میں کہا کہ وڈیرہ شاہی جیت گئی، انصاف ہار گیا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے قائد بلاول بھٹو کے سے سوال کیا کہ کیا اُم رباب سندھ کی بیٹی نہیں ہے ۔ بادی النظر میں نعیم الرحمن کا یہ بیان رائج الوقت نظریہ پاکستان کی نفی ہے ۔ رائج الوقت نظریہ پاکستان طویل عرصے سے رائج الوقت ہے لیکن پانچ چھ برسوں سے یہ کچھ زیادہ ہی رائج الوقت ہو چکا ہے ۔
یہاں نظریہ پاکستان کی وضاحت ضروری ہے ۔ ہرچند کہ ہر شخص ہر دو نظریہ پاکستان سے آگاہ ہے ، پھر بھی مکرّر وضاحت ضروری ہے ۔ متروک ہو چکا نظریہ پاکستان وہ تھا جس کے تحت قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے پاکستان بنایا اور جس کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا ملک بنایا جائے جس میں برصغیر کے مسلمان آزاد اور محفوظ زندگی گزار سکیں جہاں ان کے جینے ، رہنے کے حقوق حاصل ہوں اور جہاں ان کی عزت اور مال محفوظ ہو۔ یہ نظریہ پاکستان صرف دس سال بعد سکندر مرزا اور ایوب خاں نے کالعدم کر دیا اور نیا نظریہ پاکستان رائج کیا جس کے تحت جملہ حقوق صرف شرفا کو حاصل ہوں گے ۔
شرفا کی فہرست بہت لمبی ہے ۔ اس میں ہر طرح کی طاقتور بیوروکریسی ، وڈیرے ، بڑے مولوی ، گدّی نشین، پیر، اٹھائی گیر، جیب کترے ، نوسرباز، ٹھگ ، قاتل، ڈکیت جلیل القدر چور شامل تھے ۔ بعد میں یہ فہرست لمبی ہوتی گئی اور اس میں ڈرگ مافیا، بلڈرز مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا ، ہاسنگ مافیا ، قبضہ مافیا ، بھتہ مافیا، اغوا برائے تاوان مافیا، بچے مار اور عورت مار مافیا، نجی سکول کالج مافیا سمیت ان گنت مافیا شامل ہوتے گئے ۔
نئے اور رائج الوقت نظریہ پاکستان پرویز مشرف کے دور میں مستحکم تر ہوا، عمران خاں کے دور میں مستکم ترین ہوا اور اب مستحکم ترین سے بھی آگے کا مرحلہ ہے ، اب سیسہ پلائی دیوار ہے ۔
اُم رباب نے کئی برس پہلے ڈیم چور بابا سے بھی ملاقات کی تھی۔ ڈیم چور پروٹوکول قافلے میں جا رہا تھا۔ اُم رباب نے راستہ روک لیا۔ ڈیم چور نے انصاف دینے کا وعدہ کر کے جان چھڑائی۔
قصہ مختصر۔ ڈیم چور کا یہ وعدہ گزشتہ دنوں ماڈل عدالت نے پورا کر دیا۔
ڈیم چور بابا کا دور بھی یاد ہو گا۔ جب سینکڑوں افراد کے قاتل را انوار کو عدالت میں آمد پر فل کورٹ سلیوٹ مارا جاتا تھا۔
زبان حال سے گڈٹو سی یو" کہہ کر خیرمقدم کیا جاتا تھا۔ شریفوں کے شریف، ڈان آف دی ڈائز، ملک ریاض کیلئے بھی ایسے ہی فل کورٹ سلیوٹ مارے جاتے تھے ۔
اُم رباب والے کیس کے اگلے ہی روز لاہور میں بھی دو افراد کے تین قاتلوں کو معاف مطلب بری کر دیا گیا۔ تینوں نے 2012 ئمیں خوشاب میں دو افراد قتل کر ڈالے تھے ۔ دو کو سزائے موت ہوئی، تیسرے کو عمر قید۔ حتمی سماعت میں تینوں کو بری کر دیا گیا اس سے ایک دو دن پہلے یعنی 29 مارچ کو ایک سات سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے واجد علی کو باعزت بری کر دیا گیا۔ واجد علی نے 2021ء ئمیں جھنگ میں ایک سات سالہ بچی کو ساتھی کے ساتھ مل کر زیادتی کا نشانہ بنایا پھر مار دیا۔
خیر، یہ ہمارا روزمرہ ہے ۔ سپریم کورٹ کے ایک صاحب تھے ، نام ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا۔ ان کی زندگی کا مشن ہی قاتلوں کو بری کرنا اور منتخب حکمرانوں کو سسیلین....مافیا کا خطاب دینا تھا۔ موصوف نے بہت نیک نامی کمائی، ساتھ ہی مال بھی بنایا۔ ریٹائرڈ ہوئے تو کھرب پتی تھے ۔ اب ڈیم چور بابا کی طرح لاپتہ ہیں۔
اسی طرح کا ایک انصاف گزشتہ برس سکھر کی عدالت نے بھی کیا تھا۔ تیرہ عورتوں اور بچوں کے قاتل کو چند برس قید کی سزا سنا دی تھی۔ فی عورت اور فی بچہ گویا، ایک سال یا چند مہینے کی قید۔
اور اس قید کا بڑا حصہ تو صدارتی معافیوں میں ہی منہا ہو جاتا ہے ۔ ہر عید، بقر عید، پہلی رمضان، /14 اگست، ساون بھادوں کی جھڑی پر صدر صاحب قیدیوں کی سزا معاف کرنے کا ریکارڈ بناتے ہیں۔ یہ عادت ہے یا شوق یا آئینی مجبوری یا نظریہ پاکستان جدید سے وفاداری۔ اس کا فیصلہ بھی ہم آپ نہیں کر سکتے ، نظریہ ساز ہی یہ حق رکھتے ہیں۔
63