30

’’بے رحمی پر حیوانات و انسانات۔"

کل کتوں کے کاٹنے سے ایک معصوم بچی کی دردناک ہلاکت کی خبر پر لکھا تھا۔ یہ عالمگیر مسئلہ ہے لیکن ایشیائی ممالک اس مسئلے پر کبھی سنجیدہ نہیں ہوئے۔ کتوں کے کاٹنے سے باولے پنRABBIES کی مہلک بیماری بھی ہو جاتی ہے جس سے ہونے والی موت مرنے والے کیلئے بھی اور اس کے گھر والوں کیلئے بھی بہت اذیت ناک تجربہ ہوتی ہے۔ حیرت ہے، سائنس دان ابھی تک اس مرض کا علاج دریافت نہیں کر سکے، البتہ پیشگی ویکسین کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ جو سگ گزیدہ افراد کو فوراً لگا دی جائے تو وہ بچ جاتا ہے اور یہ ویکسین پالتو جانوروں کو لگا دی جائے تو وہ اس مرض کا باعث نہیں بنتے۔ یعنی وہ کسی کو کاٹ لیں تب بھی یہ بیماری نہیں ہوتی۔ 
ہمارے ہاں ہر سال کتے مار مہم چلائی جاتی ہے جو نہایت ظالمانہ کارروائی ہے۔ کتوں کو بے محابا گولیاں مار دی جاتی ہیں اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتا مرا یا نہیں۔ زخمی کتے طویل عرصہ تڑپنے کے بعد مرتے ہیں۔ اسی طرح انہیں زہر دیا جاتا ہے جو اور بھی ظالمانہ فعل ہے۔ کچھ ہفتے پہلے لاہور ہائی کورٹ نے کتے مار مہم میں انسانیت کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ کراچی میں جو کتے مار مہم چلائی گئی، اس نے تو ظلم اور بربریت کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے۔ لاہور کے علاوہ اسلام آباد میں بھی ایسی غیر انسانی مہم چلائی گئی۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے امریکہ کا ریکارڈ سب سے بہتر اور قابل تقلید ہے۔ امریکہ کی آبادی 35 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور وہاں ریبیز کا 98 فیصد بلکہ اس سے بھی زیادہ حد تک خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ آپ یقین کریں گے کہ امریکہ میں کتوں کے کاٹنے سے ’’ریبیز‘‘ کی بیماری سے اب کوئی شخص نہیں مرتا؟۔ اس کی وجہ ویکسین ہے۔ امریکہ میں گزرے سال ریبیز سے چھ افراد ہلاک ہوئے لیکن یہ کتوں کی نہیں، جنگل کی ریبیز تھی۔ امریکی جنگلوں میں دو ایسے جانور پائے جاتے ہیں جو باقی دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔ ایک کا نام راکون RACOON اور دوسرے کا سکنک SKUNK ہے۔ جنگلوں میں جانے والے افراد بعض اوقات ان کے حملوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ چھ ہلاکتیں انہی دونوں جانوروں کے کاٹنے سے ہونے والی ریبیز کی وجہ سے ہوئیں۔ پاکستان جیسے ملکوں میں کتے مارنے کیلئے جتنی رقم بندوق کی گولیوں یا انہیں زہر دینے پر خرچ ہوتی ہے، اس سے کہیں کم رقم میں ملک بھر کے سارے کتوں کی ویکسی نیشن ہو سکتی ہے۔ بھارت میں سرکاری گنتی کے مطابق ہر سال 5 سے 6 ہزار افراد اس دردناک موت کا شکار ہوتے ہیں جبکہ غیر سرکاری، نجی ویلفیئر تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ گنتی دس ہزار اموات ہر سال کی ہے۔ 

بھارت پاکستان سے چھ سات گنا بڑا ملک ہے۔ وہاں سالانہ 5 ہزار ریبیز اموات یقینا بہت بڑی گنتی ہے لیکن پاکستان کا معاملہ اس سے بھی خوفناک ہے۔ پاکستان کی آبادی بھارت کے مقابلے میں چھ سات گنا کم ہے۔ یہاں اموات بھی چھ سات گنا کم ہوں تب یہ شرح بھارت کے برابر ہوگی لیکن پاکستان میں ریبیز سے مرنے والے افراد کی تعداد کچھ ذرائع کے مطابق سالانہ 2 ہزار اور بعض کے مطابق 5 ہزار ہے، یعنی بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ 
وجہ یہ ہے کہ یہاں ہر متعلقہ ادارہ نہ صرف ادارہ فروغ بے رحمی حیوانات بلکہ ادارہ برائے فروغ بے رحمی ’’انسانات‘‘ بنا ہوا ہے۔ کرپشن اور بے نیازی ہماری حکومتوں اور حکومتی اداروں کی لازمی پہچان ہے۔ 
برسبیل تذکرہ ، ادارہ انسداد بے حمی حیوانات کا نام کتنا برعکس ہے۔ اس کا ترجمہ بنے گا، وہ ادارہ جو جانوروں کی بے رحمی  سے نمٹتا ہے حالانکہ مراد اس سے جانوروں پر ہونے والی بے رحمی کا خاتمہ ہے۔ یعنی انسداد بے رحمی کے بعد ’’بر‘‘ کا لفظ ہونا چاہیے: 
ادارہ برائے انسداد بے رحمی بر حیوانات۔ 

یورپ اور امریکہ میں آوارہ کتوں کی آبادی کو ’’برتھ کنٹرول‘‘ کے ذریعے بھی کم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں تو اس کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔ اس لئے کہ یہاں دن بدن عام آدمی کیلئے غذائیت کی کمی ہوتی جاتی ہے۔ ماضی میں بہت سے لوگ آوارہ کتوں اور بلیوں کو خوراک دیا کرتے تھے، اب ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ، بالخصوص 2000 ء کے بعد سے آنے والی حکومتوں نے غربت بڑھانے کی جو مہمیں چلائی ہیں، ان کے بعد ’’خیرات‘‘ کرنے والوں کی سکت مسلسل کم ہوئی ہے۔ موجودہ دور کی حکومت تو ’’عوام سے انتقام‘‘ کا جھنڈا لہراتی ہوئی آئی ہے اس لئے حالات آنے والے دنوں میں اور خراب ہوں گے۔ ایسے میں جانوروں کی فلاح کا اور کوئی راستہ، بظاہر، ان کی برتھ کنٹرول کے سوا کوئی نظر ہی نہیں آتا۔ 

جانوروں کے حوالے سے ایک اور خبر، اگرچہ بالکل مختلف موضوع پر سامنے آئی ہے۔ خبر یہ ہے کہ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے آسمان پر لاکھوں کووّں کا ہجوم دیکھا گیا جس سے یہودیوں میں خوف پھیل گیا کہ کوئی نحوست یا آفت آنے والی ہے اور یہ بہت بڑی بدشگونی ہے۔ 
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ ہجوم سالانہ مائیگریشن کا حصہ ہے لیکن یہودی کہتے ہیں کہ اس سے پہلے تو اتنے بڑے جھنڈ نہیں دیکھے گئے۔ 
اسلام تو اس طرح کی بدشگونی مانتا ہی نہیں۔ البتہ جہاں تک امر واقع ہے، وہ یہ ہے کہ اسرائیل کا وجود خود بڑی بدشگونی اور نخوست ہے۔ غزہ میں اسرائیل نے لاکھوں افراد کا قتل عام کیا، چھوٹے بچوں کو پوائنٹ بلیک گولی کا نشانہ بنایا۔ فلسطینیوں کے گھر جلا کر راکھ کر دئیے۔ کیا پتہ اس پر قدرت کتنی ناراض ہو۔ 
قرائن سے لگتا ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں بدبختی کا شکار ہونے والی یہ بدبخت ظالم اور غیر انسانی مخلوق جو صہیونی یہودیوں کے نام سے موسوم ہے، ایک بار پھر شامت اعمال کا شکار ہونے والی ہے۔ یہ کوئی پیش گوئی نہیں ہے، بس ایسے لگتا ہے۔

بشکریہ نواےَ وقت