تیسری خلیجی جنگ کے حوالے سے کئی خبریں آ رہی ہیں اور پتہ نہیں چلتا کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔ ایک خبر سب سے زیادہ چل رہی ہے، یہ کہ مذاکرات کے ذریعے جنگ بند ہو جائے گی۔ پاکستان ترکی مصر سرگرم ہیں، سعودی عرب بھی شامل ہے اور چین بھی رابطے میں ہے۔ ایک دوسری خبر یہ ہے کہ ایران جنگ بند کرنے اور امریکہ کے بعض مطالبات (دراصل احکامات) ماننے کو تیار ہے لیکن وہ پاکستان کی گارنٹی چاہتا ہے۔ یہ گارنٹی کہ امریکہ اسرائیل دوبارہ کبھی ایران پر حملہ نہیں کریں گے لیکن پاکستان یہ گارنٹی کیسے دے سکتا ہے۔ اسی خبر کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ امریکی احکامات یا شرطیں ماننے کو ایرانی حکومت تو تیار ہے لیکن پاسداران انقلاب نہیں مان رہے اور ایران میں ویٹو حکومت نہیں، پاسداران کے پاس ہے۔ یعنی مذاکراتی ڈور بھی ایسی اْلجھی ہوئی ہے کہ سرے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔
ایک طرف مذاکراتی خبریں ہیں تو دوسری طرف امریکی فوج جسے میرین کہتے ہیں اور جو سمندر اور خشکی دونوں جگہ جنگ لڑ سکتی ہے یعنی جس کیلئے جل اور تھل ایک ہیں، دھڑا دھڑ علاقے میں پہنچ رہی ہے اور تعداد اب تک 50 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ علاقے سے مراد جنگ کا علاقہ ہے اور امریکہ نے اسے بڑا دلچسپ نام دے رکھا ہے: امریکی ذمہ داری کا علاقہ، انگریزی میں ’’ایریا آف ریسپانسیبلٹی ‘‘۔ ذمہ داری کا علاقہ ایرانی ساحل سے چار ہزار کلومیٹر جنوب میں جزیرے ڈیگوگارشیا سے شروع ہوتا اور شمال میں خلیج اومان اور آبنائے ہرمز تک اور مغرب میں بحیرہ قلزم سے بحیرہ روم کے مشرقی ساحلوں تک پھیلا ہوا ہے۔
اتنا بڑا علاقہ۔ ویسے دنیا میں کون سا علاقہ ہے جو امریکی ذمہ داری میں شامل نہیں۔ برصغیر سارے کا سارا امریکی ذمہ داری کا علاقہ ہے۔ سارا مشرق وسطیٰ اس میں شامل ہے ، بحرالکاہل کا مغربی ساحل یعنی چین جاپان بھی اسی علاقے کا حصہ ہے اور بحرالکاہل کا مشرقی ساحل تو بذات خود امریکہ ہے۔
اس صورت حال میں حالیہ میدان جنگ کا نام امریکہ کی خصوصی ذمہ داری کا علاقہ ہونا چاہیے نہ کہ محض ذمہ داری کا۔
امریکی بلڈ اپ کا مقصد یہ بتاتے ہیں کہ ایران کے محدود علاقوں پر قبضہ کر کے آبنائے ہرمز پر سے اس کا کنٹرول ختم کیا جائے۔ ایران ساحلوں سے حملے کر کے آبنائے میں آنے جانے والے جہازوں پر حملے کرتا ہے جس کی وجہ سے تیل کی ترسیل رک گئی ہے اور تیل کی قلت اور مہنگائی نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
امریکی منصوبے کے تحت ایران کے ساحلی علاقوں اور ساحل کے پاس ہی واقع چار پانچ جزیروں پر قبضہ کیا جائے گا اور خبریں تو یہ ہیں کہ یہ کام 6 اپریل سے پہلے کیا جائے گا۔ میڈیا پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ قابض میرین والوں پر ایران ڈرون مارے گا تو وہ کیا کریں گے۔ کن تہہ خانوں میں چھپیں گے اور کون سا انٹرسبیٹر استعمال کریں گے۔
جنگ کی صورتحال پر دنیا کے سب سے بڑے مسیحی مذہب، کیتھولک چرچ کے پیشوائے اعظم، پوپ لیو نے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ خدا ان لوگوں کی دعائیں نہیں سنتا جن کے ہاتھ لوگوں کے خون سے رنگے ہوتے ہیں۔
پوپ کے مذہب میں دنیا کے ڈیڑھ ارب لوگ شامل ہیں لیکن ان کا مذہب دنیا پر بالادست نہیں بالادستی ایک دوسرے مذہب پروٹسٹنٹ والوں کی ہے جن کی تعداد کیتھولک والوں سے کم ہے۔ یعنی 80 کروڑ۔ غلبہ 80 کروڑ والے مذہب کا ہے، ڈیڑھ ارب والے کا نہیں۔
دوسرا سب سے بڑا عالمی مذہب اسلام ہے جس کے ماننے والے لگ بھگ دو ارب ہیں لیکن ان کا غلبے کا دنیا میں کوئی شمار ہی نہیں۔ اس کا غلبہ تو خود ان کے اپنے ملکوں میں نہیں۔
کیتھولک ممالک میں جو بڑے نام ہیں ان میں برازیل، میکسیکو، فرانس، اٹلی ، سپین وغیرہ شامل ہیں۔ عالمی معاملات میں ان کا عمل دخل برائے نام ہے۔
پروٹسٹنٹ والوں کی زیادہ آبادی امریکہ میں ہے یعنی لگ بھگ 17 کروڑ۔ دوسرا بڑا پروٹسننٹ ملک چین ہے جہاں اس مذہب کے ماننے والوں کی تعداد 16 کروڑ ہے۔ یہ مذہب یہاں تیزی سے پھیل رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایک عشرے کے بعد یہ پروٹسٹنٹ والوں کا اکثریتی ملک ہو جائے گا۔
کبھی چین میں مسلمانوں کی قابل ذکر آبادی تھی۔ اب مسلمان تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ آزادی کے وقت چین کی آبادی 25 کروڑ تھی اور 5 کروڑ ان میں مسلمان تھے۔ اس لحاظ سے اب 25 کروڑ مسلمان ڈیڑھ ارب آبادی والے چین میں ہونے چاہئیں لیکن ان کی تعداد کم ہوتے ہوتے ایک ڈیڑھ کروڑ رہ گئی ہے۔ زیادہ تر مسلمان آبادیوں میں نہیں، جیلوں میں پائے جاتے ہیں۔
پوپ کی یہ بات کہ دوسروں کے خون سے جن کے ہاتھ رنگے ہوں، خدا ان کی دعائیں نہیں سنتا، تمام مذاہب کی مشترکہ سچائی ہے لیکن اس سچائی کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ جن کی دعائیں خدا سنتا ہے، وہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ساری تاریخ انسانی خون سے ہاتھ رنگے کی تاریخ ہے۔ کوئی دور ایسا نہیں جب ایک ساتھ کئی کئی ملکوں میں جنگیں نہ ہو رہی ہوں۔ انسانی تاریخ جنگ اور کشت و خون کی تاریخ ہے۔
اور جنگوں سے ہٹ کر بھی یہ تاریخ خون سے ہاتھ رنگنے کی تاریخ ہے۔ انفرادی قتل، اجتماعی قتل، معاشی قتل، عدالت قتل۔
بڑے بڑے پروٹوکول قافلوں میں گھومنے والے قومی خزانہ لوٹ کر کروڑوں ہم وطنوں کا معاشی قتل کرتے ہیں، انہیں خودکشیوں پر مجبور کرتے ہیں، انہیں اس حالت میں لے آتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ماریں۔
عدالتیں قاتلوں کو باعزت بری کر کے مقتول کو دوبارہ قتل کرتی ہیں، ان کے لواحقین کو زندہ دفن کر دیتی ہیں۔ جن کی دعا خدا سنتا ہے، ان کی تعداد آٹے میں نمک جتنی بھی نہیں۔
89