سائنس کی کلاسوں میں تجربہ گاہ میں تجربہ کر کے بتایا جاتا تھا کہ ہم نے یہ کیمیاوی فارمولا بنانے کیلئے یہ یہ کیا اور یہ فارمولا بن گیا اور ساتھ میں یہ چیز الگ سے بن گئی تو یہ بائی پراڈکٹ ہے۔
ایران کیخلاف اسرائیل اور اس کی دم (ٹرمپ) کی مشترکہ جنگ ابھی جاری ہے۔ کیا نتیجہ نکلے گا، کچھ دنوں بعد ہی پتہ چلے گا لیکن ’’پروڈکٹس‘‘ کا ابھی سے پتہ چل گیا ہے مثلاً پاکستان جیسے غریب ملکوں کاکچومر نکل رہا ہے، خلیج کی ’’جنت شدّاد‘‘ اجڑ رہی ہے بلکہ شاید اجڑ گئی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ میں اسرائیل کی طاقتور لابی، اپنی پوری تاریخ میں ، کمزور سے کمزور ہو گئی ہے اور بتانے والے بتاتے ہیں کہ ابھی اور کمزور ہو گی۔ امریکی رائے عامہ اسرائیل کے اتنی خلاف ہے کہ پہلے کبھی نہیں تھی۔
اسرائیل کو سپرپاور اور ناقابل تسخیر مانا جاتا تھا، اب یہ ’’متھ‘‘ بھی ٹوٹ گئی ہے۔ سچ پوچھئے تو دوسری بار ٹوٹی ہے۔ حماس کا ممولا اسرائیل کے کنڈور condore گدھ سے ایسے لڑا کہ، سب نے کیا دیکھا کہ، اگر امریکہ مسلسل در مسلسل اسرائیل کو بموں کی سپلائی نہ کرتا رہتا تو یہ ممولا اسے لے دے گیا تھا۔ اب اسرائیل کے پاس ایرانی ڈرون اور میزائل روکنے کا بندوبست اتنا کم پڑ گیا کہ جان کے لالے پڑ گئے۔ امریکہ فوری سپلائی نہ کرتا تو نیتن یاہو بحیرہ مردار کی کثافت میں اضافہ کر چکا ہوتا۔
المیے کی سنگینی ایک طرف، دنیا نے اپنی پوری تاریخ میں پہلی بار ایسی جنگ دیکھی جس میں کسی فریق کی فوج میدان جنگ میں نہیں ہے۔ ساری لڑائی بموں اور میزائلوں سے لڑی جا رہی ہے۔
ایران کے بڑے بڑے شہر امریکہ اسرائیل نے کھنڈرات کے ڈھیروں میں بدل دئیے لیکن ایران سے باہر، دبئی میں جو بھگدڑ مچی ، اس کا تو کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ سکائی سکربیز ہائی رائز ٹاور اور برج ویران پڑے ہیں۔ مارکیٹیں اور سڑکیں بیوہ کی مانگ بن گئی گئی ہیں۔ ایرا ن نے دھمکی دی ہے کہ دبئی اور ابوظہبی کے شہری ان علاقوں سے نکل جائںی جہاں امریکی اداروں کے دفاتر اور مفادات ہیں اور وہ تو ان شہروں میں جابجا پھیلے ہوئے ہیں۔
دبئی اتنا بڑا شہر ہے کہ شاید ہی اتنی آبادی والا کوئی اور شہر اتنا پھیلا ہوا ہو۔ ملاحظہ کیجئے۔ کراچی کی آبادی 3 کروڑ بلکہ اس سے بھی بڑھی ہوئی ہے اور اس کا رقبہ 37 سو کلومیٹر ہے جبکہ 40 لاکھ والا دبئی 4 ہزار کلومیٹر رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ لاہور کی سوا، ڈیڑھ کروڑ آبادی 17 سو کلومیٹر رقبے میں سمٹی ہوئی ہے اور اس کے ایک تہائی سے بھی کم آبادی والا دبئی لاہور سے اڑھائی گنا بڑا ہے، جہاں ’’غریب عربوں‘‘ کے گھر بھی چار چار کنال کے ہوں، اس شہر کا پھیلائواتنا تو بنتا ہی ہے۔
دعا ہے خدا دبئی کو محفوظ رکھے اور دوسرے شہروں کو بھی اتنا ہی پھیلا دے۔ زیاد پھیلے شہروں میں غیر قدرتی اموات کم ہوتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں ایک چھت گرنے سے درجنوں ا فراد ہلاک اور اس سے بھی زیادہ زخمی ہوتے ہیں۔ جن کی چھت نہیں گرتی، وہ گھٹن سے مر جاتے ہیں۔
چھت رحیم یار خاں میں بھی گری اور بے نظیر انکم سپورٹ والی مدد لینے کیلئے آئی ہوئی غریب عورتیں اس کی نذر ہو گئیں۔ نو دس تو موقع پر شہید ہو گئیں اور 80 کے قریب زخمی۔ عید سے تین روز پہلے ، رمضان کے روزے کے دوران غریبی اور حکومتی بے نیازی نے ان کی جان لے لی۔ آس پڑوس میں عید ہو گی ان مرنے والیوں کے گھروں میں شام غریباں۔
پاکستان میں اتنی غربت ہے کہ امیر کا بچہ ایک روز میں جتنی رقم ایک دن کے جیب خرچ کے طور پر اڑا دیتا ہے، اس سے کہیں کم رقم بے نظیر فنڈ سے وظیفہ کے طور پر ملتی ہے۔ یہ چھت کس کی ملکیت تھی، اب اس کی تلاش ہو گی اور کیا عجیب، تفتیش کیلئے لے جاتے ہوئے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا بھی جائے لیکن وہ کون ہے جس کی بے نیازی سے پاکستان میں دن بدن اور دم بدم غربت، بھوک ، بدحالی، بے کسی اور بے بسی بڑھتی جاتی ہے جبکہ اشراف کے گھر 4 کنال کی بوسیدہ حد سے نکل کر سو تین سو کنال کی وسعتوں کو بھی ٹاپ گئی ہے۔
برسبیل تذکرہ، اس بات کا اعتراف بھی کر لینا چاہیے کہ فرانس جیسے ملک کو تو محض ایک ملکہ میری ملی، پاکستان جب سے بنا ہے، ملکہ میریوں کی قطار لگی ہوئی ہے۔ ہر نیا آنے والا حکمران یہی بتاتا ہے کہ اصل ملکہ میری تو میں ہوں۔
تازہ خبر ملکہ میریوں کی حکمران کلاس کی یہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ نے سرکاری خزانے سے نو کروڑ کی گاڑی خریدی گئی ہے۔ وفاق سے پنجاب تک، ملکہ میری بننے کی دوڑ جاری ہے۔ سینیٹ والی ملکہ میری کو بھی مبارک ہو،
یہ پیرا لکھا جا چکا تھا کہ وضاحتی خبر بھی آ گئی۔ پتہ چلا کہ قائمہ کمیٹیوں کی ملکہ میریوں، مطلب چیئرمینوں کو بھی ایسی ہی گاڑیاں دی گئی ہیں۔ بلکہ میریوں کی فہرست لمبی ہے، ان سب کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط منظور ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔
دنیا گلف وار 3 اور پاک افغان جھڑپوں کی خبروں میں مرشد کی آنک کو بھول ہی گئی ہے۔ کیا ٹی وی چینل، کیا سوشل میڈیا، مرشد کی آنکھ ہر جگہ سے بس غائب ہو کر ہی رہ گئی۔
مرشد کے لواحقین و متاثرین پریشان نہ ہوں مصدقہ اطلاع ہے کہ مرشد کو دیسی ککّڑوں اور دیسی بھیڈئوں کے گوشت کی بھینٹ بدستور بلاناغہ جاری ہے۔ 15 ڈشوں والے مینو میں ذرا بھی بتدیلی نہیں ہوئی۔ ڈٹا ہوا کپتان ڈٹ کے کھاتا ہے، ڈٹ کے سوتا اور باقی وقت میں ھل من مزید کا نعرہ لگاتا ہے۔
76