45

بات بڑھ گئی

بالکل برحق کہ مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا لیکن بدقسمتی سے ایران ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے اگرچہ اس جنگ نے امریکہ میں اسرائیل کیلئے حمایت اور ہمدردی قریب قریب ختم ہی کر دی ہے۔ سروے ہو رہے ہیں اور یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ 25 فیصد سے بھی کم آبادی اسرائیل کی ہمدرد رہ گئی ہے۔ اس آبادی کا ’’پوسٹ مارٹم‘‘ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ایک تہائی ابو تجلیکل مسیحیوں کے انتہا پسند ہوں گے، ایک تہائی خود یہودی اور ایک تہائی بھارت نڑاد امریکی۔ 
ایران کے سارے شہر کھنڈر بنا دئیے گئے۔ ہزاروں عام شہری بھی شہید ہوئے۔ سب سے دردناک سانحہ سکول پر بمباری کا تھا۔ آبنائے ہرمز کے بالکل کنارے پر واقع شہر مناب کے اس سکول پر بمباری سے 180 بچیاں شہید ہوئیں اور امریکہ اور اسرائیل کی بے پناہ شقاوت دیکھئے کہ ایک لفظ بھی معذرت کا اس بمباری پر نہیں کہا۔ دسیوں ہزار بچے غزہ کی جنگ میں اسرائیل نے امریکہ کی مدد سے شہید کئے، اس پر بھی کوئی لفظ نہیں کہا، ذکر تک نہیں کیا، کسی نے سوال کیا تو سنا تک نہیں۔ 
___
جنگ اصل منصوبے بھی منکشف کر رہی ہے۔ مغرب میں کردستان کو ایران سے الگ کیا جائے گا، شمال مغرب میں آذربائیجان کو۔ کردوں والی بات پہلے ہی بے نقاب ہو چکی جب خود صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ایرانی کرد رہنمائوں سے بات ہوئی ہے اور امریکہ ان کی فوجی مدد کرے گا۔ ایران نے یہاں بھی غلطی کر دی، عراقی کردستان والوں پر بمباری کر ڈالی، اب کرد تو متحرک ہوں گے ہی۔ ایران کے کرد خود کو ایرانی نہیں مانتے۔ اس سے بھی اہم بحران آذربائیجان کا ہو گا۔ وہاں کے لوگ بھی خود کو ایرانی نہیں مانتے۔ بات آذربائیجان نام کے ملک کی نہیں، اس آذربائیجان کی ہو رہی ہے جو ایران کے اندر ہے اور اس کے پانچ صوبے ہیں یعنی مشرقی آذر بائیجان ، مغربی آذر بائیجان ، زنجان، قزوین اور اردبیل ، علاوہ ازیں ملحقہ صوبے ہمدان میں بھی اچھی خاصی آبادی آذری نسل کی ہے۔ یہ سب آذری عرصہ دراز سے چاہتے ہیں کہ ایران سے الگ ہو کر آذر بائیجان نامی ملک سے جا ملیں۔ 
آذر بائیجان بھی ایران کی طرح اثنا عشری شیعہ اکثریت کا ملک ہے لیکن یہ لوگ چونکہ ترک نسل کے ہیں اس لئے خود کو ایرانیوں سے برتر نسل سمجھتے ہیں۔ ادھر ایرانی بھی خود کو آذریوں سے برتر مانتے ہیں۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک آذر بائیجان کی آبادی لگ بھگ ایک کرڑو ہے جبکہ ایران کے آذری باشندوں کی تعداد دو کروڑ 35 لاکھ ہے۔ کرد آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے، یہ دونوں قومیں مل کر پونے چار کروڑ بنتی ہیں جبکہ ایرانیوں یعنی فارسیوں کی آبادی چار کروڑ 90 لاکھ ہے۔ ایران کی کل آبادی 9 کروڑ ہے یعنی آذری اور کرد مل کر 40 فیصد سے بھی زیادہ بن جاتے ہیں۔ امریکی منصوبہ بالکل واضح ہے۔ آذر بائیجان ملک جو بیک وقت ترکی اور اسرائیل کا اتحادی ہے، موقع کا منتظر ہے اور ایران نے کل اس کے صوبے نخی چیون پر بمباری کر کے خطرے کو جگا دیا ہے۔ اس میزائل باری سے محض دو آدمی زخمی ہوئے لیکن ملک کے صدر کا کہنا ہے کہ ہم پر حملہ کیا گیا، ہم بدلہ تو لیں گے۔ یہ بدلہ محض نکتہ آغاز ہو گا۔ 
بات اس سے بھی آگے جا کر ایران بلوچستان پہنچے گی۔ پاکستان کیلئے مسلسل خبرداری کا مرحلہ ہے۔ 
___
خطرناک سرحدی صورت حال، افغانستان سے ہونے والی طالبانی دہشت گردی اور ایران امریکہ معاملے پر حکومت نے تمام جماعتوں کو بریفنگ کیلئے بلایا۔ مرشداتی پارٹی اور ہمنوائوں کے سوا سبھی آئے۔ اس پر لوگوں کو حیرت ہوئی کہ ماجرا کیا ہے، ملکی دفاع اور سلامتی کی صورت حال پر جب بھی بریفنگ ہو یا قومی کانفرنس ، مرشداتی جماعت ہر بار بائیکاٹ کر جاتی ہے۔ 
حیرت کی بات ہونی تو نہیں چاہیے۔ مرشداتی ایجنڈا ایسی بریفنگ میں شرکت کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ یاد ہو گا، مرشداتی جماعت کی حکومت تھی، مرشد بذات خود وزیر اعظم تھے۔ فوج نے بھارتی شرارتوں پر بریفنگ کا اہتمام کیا۔ سبھی آئے، مرشد آئے نہ ان کی جماعت۔ یعنی حکومت اپنی تھی لیکن اس سے بھی فرق نہیں پڑا۔ کیوں؟۔ اس لئے کہ حکومت اپنی جگہ، ایجنڈا اپنی جگہ۔ 
___
مرشد کو آنکھ کے علاج کیلئے ہسپتال لایا گیا۔ چند ہفتے پہلے کی بات ہے لیکن اس ’’آمد‘‘ کی تفصیل خود مرشداتی جماعت کے ایک یوٹیوبر نے لیک کر دی۔ بتایا کہ مرشد سارا وقت ڈاکٹروں سے جواب طلبی کرتے رہے کہ بتائو مجھے جیل میں کیوں بند کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر کیا جواب دیتے، چپ رہے۔ آدھا گھنٹہ یہی ایک سوال دہراتے رہے کہ بتائومجھے جیل کیوں ڈالا ہوا ہے۔ پھر کہا میں بتاتا ہوں مجھے کیوں بند کر رکھا ہے۔ فرمایا، دراصل خدا نے مجھے کسی خاص کام کیلئے مامور کر رکھا ہے۔ اسی لئے جیل میں ڈال رکھا ہے۔ خدا نے مجھ سے بہت ہی خاص کام لینا ہے۔ 
خدا سے کیا مراد ہے، پتہ نہیں اس لئے کہ بہت سے لوگ خدا کی قسم، خدا کیلئے، خدا کو مانو کے الفاظ بطور محاورہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ ممکن ہے یہاں مرشد بھی بامحاورہ ہو گئے ہوں۔ البتہ خاص کام کا ہمیں پتہ ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ وہ خاص کام مرشد کر بھی چکے ، یہ الگ بات ہے کہ مرشد کو اب یاد نہیں رہا کہ وہ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو چکے۔ وہ خاص کام کیا تھا؟۔ یاد کیجئے، 9 مئی کی تاریخ یاد کیجئے، جی ہاں، ٹھیک پہنچے۔ 
___
پاکستان نے طالبانی دہشت گردوں کو ان کے گھر میں گھس کر مارنے کی جو پالیسی اپنائی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پچھلے چھ سات دن سے پختونخواہ میں امن چل رہا ہے، کوئی خاص وقوعہ دہشت گردی کا نہیں ہوا۔ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ دہشت گردی ختم ہو گئی، یہ کر سکتے ہیں کہ کم ہو گئی اور مزید کم ہو جائے گی۔ 
کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ یہ پہلے ہی کیوں نہ کر لیا تو بھائی جی، ہر کام کا وقت ہوتا ہے۔ چلئے، دیر سے کیا۔ مان لیتے ہیں لیکن درست کیا، یہ بھی مان لیں۔ 
مرشداتی حلقوں کو صوبے میں اس امن پر سانپ سونگھ گیا ہے، پچھلے سال جب چھ جہاز گرائے تھے، تب بھی سانپ سونکھ گیا تھا۔ اب پتہ نہیں، اس بار جس سانپ نے سونگھا ہے، یہ وہی پچھلے سال والا ہے یا کوئی نیا ہے؟

بشکریہ نواےَ وقت