ایسے ہی خوش ہوئے جا رہے ہیں، جنگ بندی کرا دی، ہم نے جنگ بندی کرا دی۔ یہ بھی کوئی جنگ بندی ہے جس پر اپنی ہی تعریفیں خود ہی کئے جا رہے ہیں۔ اور پانچ چھ ہفتوں کے بعد جنگ بند کرا بھی دی تو کیا تیر مار لیا۔ اتنا خون خرابہ ہو گیا، اتنا نقصان ہوا، اس کا ذمہ دار کون؟ مفت میں اپنے منہ میاں بیٹھو بنے جا رہے ہیں۔ ہوتا ہمارا مرشد جیل سے باہر تو ایک دن میں جنگ بندی کرا دیتا۔ ساری دنیا مانتی ہے جو وژن مرشد میں ہے ، دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے ۔ ارے میاں، وہ تو دیوار کے پار دیکھ لیتا ہے ۔ ایک دن میں جنگ بندی کیا، اس نے تو جنگ چھڑنے ہی کہاں دینی تھی، اسے تو ایک دن پہلے ہی پتہ چل جاتا کہ جنگ ہونے والی ہے ۔ ایک فون، بس ایک فون اس نے ٹرمپ کو کرنا تھا۔ اوکے ٹرمپ میری بات سنو۔ ہیلو، میری بات سنو، میں مرشد بول رہا ہوں، خبردار اگر حملہ کیا، جو میں کہتا ہوں وہ کرو ورنہ تمہیں نہیں چھوڑونگا ۔ بس اتنی ہی بات کافی ہوتی، ٹرمپ نے اپنے سارے بیڑے شیڑے واپس بلا لینے تھے اور دوسرا فون مرشد نے ایران کو کرنا تھا، اوئے ایران ، یہ ہرمز کا پنگا مت لو، میں اپنی ٹائیگر فورس بھیج رہا ہوں، مراد سعید کی کپتانی میں، ہرمز کا انتظام یہ سنبھالے گی۔ تم بے فکر ہو کر اپنا ملک چلا، ہرمز کا معاملہ ہم دیکھ لیں گے اور بات ختم_ کہاں کی جنگ، کیسی جنگ۔ چھ ہفتے زور لگاتے رہے ، پھر کہیں جا کر جنگ بندی ہوئی، اتنے نالائق نااہل تو یہ فسطائی حکمران ہیں، چور، ڈاکو کہیں کے ۔
امریکہ جنگ بندی کیلئے مذاکرات پر پہلے ہی تیار تھا۔ یہ سب اخبارات میں آ چکا ہے ۔ ایران نے البتہ دو شرطیں لگا دی تھیں۔ ایک یہ کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں، ساتھ ہی یہ اعلان بھی کرنا ہو گا کہ آئندہ امریکہ اور اسرائیل کبھی ایران پر حملہ نہیں کریں گے ۔ اور دوسری شرط یہ تھی کہ اس بات کا اعلان کیا جائے کہ ہرمز پر آج سے ایران کا کنٹرول ہو گا اور وہ اپنی مرضی سے جہازوں پر ٹیکس لگائے گا۔
پھر کیا ہوا کہ ایران دونوں شرطوں سے پیچھے ہٹ گیا۔ حافظ نے قائل کیا یا چین والوں نے سمجھایا۔ چین نے دو ہفتے پہلے ہی ایران والوں کو یہ مشورہ دے دیا تھا کہ جنگ سے نکلو، مذاکرات کی میز پر آ۔ اور حافظ صاحب شہباز شریف کے ساتھ مل کر رات دن رابطوں میں لگے رہے ۔ بظاہر پاکستان کی سعی آخر شب نے کام دکھایا، لگتا ہے ۔
کیا امریکہ پہلے ہی طے کر چکا تھا کہ اس نے کل جنگ بندی کر لینی ہے ؟۔ شاید اسی لئے اس نے وہ کام ایک دن پہلے ہی کر دیا جو 48 گھنٹوں والے الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے کے بعد کیا جانا تھا یعنی ایک دن پہلے ہی ایرانی ریلوے کے چھ پل لٹا ڈالے ۔ یوں خاص طور سے شمالی اور مغربی ایران میں ریل معطل کر کے رکھ دی۔ اب پل ایک منٹ میں تو پھر سے بن نہیں سکتے ۔
امریکہ نے دراصل ایرانی حکمرانوں کے ساتھ اپنی جنگ کو ایرانی عوام کیخلاف کر دیا تھا۔ ریلوے بند ہونے سے تکلیف عوام کو ہوئی۔ بمباری میں بھی جتنے فوجی ایران کے مرے ، اس سے زیادہ عام شہری مارے گئے ۔ سکول کی پونے دو سو معصوم بچیاں الگ سے شہید کر ڈالیں۔ بچے مارنا امریکہ اور اسرائیل کا پرانا شوق ہے ۔ اسرائیل والوں کی مذہبی کتابوں میں تو صاف لکھا ہے کہ دشمن کے بچے مارنا جائز بلکہ فرض ہے ، کیونکہ بڑے ہو کر ان بچوں نے ہمارا دشمن بن جانا ہے ۔ امریکہ نے عراق اور افغانستان (بلکہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھی )میں ہزارہا بچے شہید کر دئیے اور اسرائیل نے حالیہ غزہ جنگ میں جو کیا وہ تو پوری دنیا کا ریکارڈ بن گیا۔ اب دیکھئے ، مذاکرات میں ایران اور کتنی باتیں مان لیتا ہے ۔
مرشداتی جماعت کا اعلان بلکہ حکم تھا کہ (گزری کل اڈیالہ کے باہر دس ہزار لوگ آئیں۔ کم سے کم۔
کیا اتنے لوگ آئے ؟ دس ہزار کے عدد سے ایک صفر ہٹا دیں، پھر باقی گنتی کو دو پر تقسیم کر لیں۔ جو جواب آئے ، بس اتنے ہی آ پائے ۔
اب کہا جا رہا ہے کہ بارش ہو گئی، اس لئے لوگ نہیں آئے ۔ یعنی بارش نہ ہوتی تو پھر تو دس ہزار کیا، دس لاکھ بھی آ جاتے ۔ مرشد کو اپنی ریڈلائن کہنے والے بارش کی بوندوں سے ڈرتے ہیں۔
یعنی وہی بات کہ بارش اسی طرح سے ہوتی رہی تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے ۔ بلکہ مرشداتی جماعت کے محلہ جاتی صدر نے مجھے ایک بات کان میں بتائی۔ کہا، موسم اندر سے فسطائی حکمرانوں کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔
مرشداتی جماعت کی مضافاتی برانچ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود اچکزئی نے کس قیامت کا بیان دیا ہے ۔ کہا ہے ، ہم مرشد کو مائنس کرنے کی کوششوں کی حمایت نہیں کریں گے ۔
پتہ نہیں مرشد تک اچکزئی کا بیان پہنچا کہ نہیں۔ لگتا ہے کہ نہیں پہنچا۔ پہنچا ہوتا تو مرشد کا جوابی بیان بھی آ چکا ہوتا جو کچھ یوں ہوتا کہ :
اوئے اچکزئی۔ سنو، میں مائنس ہو نہیں رہا، میں مائنس ہو چکا ہوں اور یاد رکھو، تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ مجھے مائنس کرنے میں تمہارا اور گلگت والے مولوی کا بھی ہاتھ ہے ، تم دونوں نے مل کر میرے کارکنوں کو ٹرک کی بتّی کے پیچھے لگائے رکھا اور خود مزے لوٹتے رہے ۔ یاد رکھو، تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا، گلگت والے مولوی کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ یاد رکھو!
23