67

ایران کی مشکل پسندی

عام خبریں ہیں کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کسی اور ملک کے حوالے کرنے پر تیار ہو گیا ہے اور آبنائے ہرمز بھی کھول دے گا، یعنی اس پر اپنی ملکیت کے دعوے سے پیچھے ہٹ گیا ہے لیکن ایک مطالبے پر معاہدے والی بات اٹک گئی ہے اور وہ یہ کہ ایٹمی افزودگی نہ کرنے کیلئے 20 سال کی پابندی اسے قبول نہیں ہے۔ گویا مجموعی طور پر اس نے امریکہ کے زیادہ تر بنیادی مطالبات ، مطلب ، احکامات مان لئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ تنازعہ حل ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جس ملک کے حوالے یہ افزودہ یورینیم کیا جائے گا، وہ خود امریکہ ہے اور یہ کہ معاہدہ چند دنوں تک ہو جائے گا۔ 
یہ بنیادی مطالبات پہلے مان لئے جاتے تو جنگ ہوتی ہی نہیں، وہ جنگ جس نیایران کا وہ سارا انفراسٹرکچر تباہ اور برباد کر دیا جو برسرزمین تھا اور جو زیر زمین تھا، اس کا بھی بڑا حصہ ختم ہو گیا، کچھ باقی ہے۔ اور انفراسٹرکچر میں فوجی چھائونیاں ، اڈے ، میزائل لانچر، ہوائی اور سمندری جہاز، تحقیق کے ادارے ، سڑکیں، عمارتیں سبھی شامل ہیں۔ لیکن یہ آسان راستہ ہوتا اگر شروع ہی میں مان لیا جاتا۔ ایران حکومت مشکل پسند ہے، اس نے مشکل پسندی کا راستہ ہی چنا، مشکل راستے کے انتخاب کو گلاس توڑا بارہ آنے نہیں کہنا چاہیے بلکہ بہادری اور فتح قرار دینا چاہیے۔ 
ملک بھر میں بجلی کی مہیب لوڈشیڈنگ شروع کر دی گئی ہے جس سے خدمت کو عزت دینے کے مزید راستے کھل گئے ہیں۔ حکومتی وزیروں نے پریس کانفرنس کی ہے کہ ایسا امریکہ ایران جنگ کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے۔ 
بجا فرمایا لیکن یہ اثرات صرف پاکستان پر کیوں پڑے۔ ایران کے اردگرد یعنی پڑوسی ممالک کو نقشے پر دیکھئے، کلاک وائز شروع ہو جائیے۔ ترکمانستان میں لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی، آذر بائیجان میں بھی نہیں ہو رہی، ترکی میں نہیں ہو رہی، عراق اور کویت میں بھی یہ مسئلہ نہیں ہوا، سعودی عرب، قطر اور بحرین میں بھی چین ہی چین ہے، امارات اور عمان میں بھی لوڈشیڈنگ کا گزر نہیں، مزید مشرق کی طرف آ جائیے، بھارت، نیپال ، سری لنکا، بنگلہ دیش میں بھی کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہے اور سب سے اہم، سب سے دلچسپ بات یہ کہ افغانستان میں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔ 
جنگ کے اثرات نے گویا__ ایک ہم کو چن لیا، سارا جہاں رہنے دیا۔ کمال ہی ہو گیا۔ 
اصل بات کچھ اور ہے جو وزیروں نے نہیں بتائی اور وہ بتا بھی نہیں سکتے اور وہ بتائیں گے بھی نہیں۔ 
اصل بات آئی پی پیز کا معاملہ ہے۔ کچھ لوگ یا شاید خاصے لوگ نہیں جانتے کہ آئی پی پیز کا مطلب کیا ہے۔ دیکھئے آئی کا مطلب ہے چہیتے، پی کا مطلب ہے لاڈلے اور پیز کا مطلب ہے اقربا۔ 
بس یہی گھنڈی ہے۔ انہی اقربا کی پروری کیلئے حکومت آئے دن، مستقل بنیادوں پر بجلی مہنگی کرتی رہتی ہے ، یعنی بجلی بم گراتی رہتی ہے۔ یہ چہیتے لاڈلے اقربا بجلی سازی کریں نہ کریں، حکومت انہیں اربوں کھربوں روپے دیتی رہتی ہے۔ انہی اقربا کی پروری کیلئے حکومت نے سولر بجلی پیدا کرنے والوں پر بجلی گرا دی، انہیں نشان عبرت کر دیا۔ اس جرم میں کہ انہوں نے سستی بجلی پیدا کر کے آئی پی پیز کے جذبات مجروح کئے، ان کا دل دکھایا، انہیں دہشت زدہ کر دیا۔ اس پر سولر والوں کے خلاف دہشت گردی کا کھلا مقدمہ بنتا تھا لیکن رحم دل شہباز سرکار نے رعایت برتی، ان پر دہشت گردی کے مقدمات نہیں بنائے۔ 
ان وزیروں نے بتایا کہ لوڈشیڈنگ صرف پیک آورز PEAK HOUR S میں ہوتی ہے۔ پیک آورز کے معنے معلوم نہیں تھے۔ شہباز اللّغات کھول کر دیکھا، اس میں پیک آورز کے معنے 24 گھنٹے لکھا تھا۔ 
مرشد اڈیالوی کے ایک چیلے نے جو کہ معروف یوٹیوبر ہیں، دو ماہ پہلے چوتھی شادی کی اور شادی کے فوراً بعد اپنی نوبیاہتا بیوی کو اسلام آباد میں اپنے وسیع و عریض فارم ہائوس کے ایک کمرے میں قید کر دیا، اس کا موبائل فون چھین لیا اور روزانہ کی بنیادوں پر اس کی پٹائی کرنے لگا۔ والدین بیٹی سے ملنے آئے یہ یوٹیوبر انہیں گالم گلوچ کر کے بھگا دیتا کہ تمہاری بیٹی اب میری ملکیت ہے۔ میری چیز ہے، تمہیں کیوں دکھائوں۔ والدین نے عدالتی بیلف کے ذریعے اپنی بیٹی کو واگزار کروایا۔ یہ خبر سامنے آئی اور پھر خوب ’’وائرل‘‘ ہوئی۔ 
مزید معلوم ہوا کہ بیلف نے دلہن کو بازیاب کروایا تو یوٹیوبر غصے میں آ گیا، سسرال پہنچا اور جاتے ہی اپنی باپ کی عمر کے سسر پر حملہ کر دیا۔ اتفاق سے بزرگ سسر اس جوان العمر داماد سے زیادہ صحت مند نکلا۔ اس نے اس چھٹے ہوئے داماد کو فرش زمین بنایا اور لاتوں گھونسوں پر رکھ لیا، جم کے اس کی ٹھوکا پیٹی کی۔ چھٹے ہوئے داماد نے چھوٹتے ہی دوڑ لگا دی۔ اور ایک ہسپتال جا کر مرہم پٹی کروائی، سوجن دور کرنے کی دوا کھائی بھی اور ملی بھی۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق مرہم پٹی کے دوران موصوف روتا جاتا تھا اور کچھ بڑبڑاتا جاتا بھی تھا۔ ایک نرس نے کان لگا کر سنا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس نے سنا، وہ کہہ رہا تھا، یہ سسرے ہمیں اس طرح ماریں گے تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے۔ 
مرشد کی تعلیمات، فکر اور فلسفے پر عملدرآمد کی موصوف نے ایک کلاسیکل مثال قائم کی ہے۔ قدر کی جانی چاہیے۔

بشکریہ نواےَ وقت