48

اقوام متحدہ کو بند کردیں!

دنیا میں جب بھی جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں یا کسی خطے میں خونریزی بڑھتی ہے تو عالمی برادری کی نظریں فوراً اقوام متحدہ کی طرف اٹھتی ہیں۔ جیسے ان دنوں امریکا و اسرائیل نے بغیر کسی ٹھوس وجہ اور ثبوتوں کے ایران پر صرف اس لیے حملہ کر دیا کہ وہ اُنہیں آنکھیں دکھاتا ہے ، اور مستقبل میں اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے،،، جس پر اقوام متحدہ میں محض مذمتی اجلاس بلایا گیا، مذمتیں ہوئیں اور اللہ اللہ خیر صلا۔ حالانکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد 1945ء میں یہ ادارہ اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا کہ آئندہ دنیا کو جنگوں کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے۔ مگر آج آٹھ دہائیوں کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا اقوامِ متحدہ واقعی اپنے بنیادی مقصد میں کامیاب ہوئی ہے یا وہ عالمی سیاست کے طاقتور کھلاڑیوں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے؟یہ ادارہ جنگ عظیم دوم کی ہولناک تباہیوں کے بعد قائم ہوا تھا۔ اس جنگ میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے اور پورا یورپ کھنڈر بن گیا۔ اس پس منظر میں عالمی رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جو تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے اور جنگ کو روکنے کے لیے عالمی قوانین نافذ کرے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں کمزور پڑتی نظر آئیں۔لہٰذابتایا جائے کہ اقوام متحدہ نے آج تک کونسے مسائل حل کیے ہیں؟ اور پھر جب آپ نے پانچ ملکوں کو ویٹو پاور دے دی ہے تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ پھر یہی 5ملک ویٹو پاور کا استعمال کرکے پوری دنیا میں بدمعاشی کرتے ہیں، کمزور ممالک پر اپنا دبائو بڑھاتے ہیں، اور بسااوقات چڑھائی بھی کر دیتے ہیں۔ میرے خیال میں یا تو ویٹو پاور ختم کردیں، یا پھر آپ اقوام متحدہ ختم کردیں۔ اگر کچھ نہیں کرنا تو پھر اقوام متحدہ کی ایک بڑی فورس قائم کر لیں، جس کا ڈر خوف ہو، دوسرے ممالک پر ۔ یا جو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کرتا یہ فورس اُس کے خلاف استعمال کی جائے،،، یا اقوام متحدہ میں اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ امریکا کو کہے کہ فلاں جنگ ختم کر دے ورنہ اُسے تنہا کر دیا جائے گا تو امریکا فوراََ عمل درآمد کر ے اور جنگ ختم کرنے کا اعلان کر دے،،، یا اقوام متحدہ روس سے کہے کہ وہ یوکرین سے اپنی فوجیں واپس بلا لے، اور روس فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا اعلان کردے،،، اگر یہ ایسا نہیں کر سکتے تو میرے خیال میں یہ دنیا بھر کے عوام پر بوجھ ہے، اور بڑے ممالک اس پر فنڈنگ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے ہیں۔ لہٰذااگر میں یہ کہوں کہ اقوام متحدہ اور ہماری رویت ہلال کمیٹی میں کوئی فرق نہیں ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،،، میرے خیال میں رویت ہلال کمیٹی کے کہنے پر عید وغیرہ ہو جاتی ہے، لیکن اقوام متحدہ کے کہنے پر تو کوئی ایک ملک بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا۔ جیسے مسئلہ کشمیر کو دیکھ لیں، جس کی قراردادیں 1948کو منظور کی گئی تھیں، لیکن مجال ہے کہ ابھی تک انہیں منظور نہیں کروایا جا سکا۔ یہ ابھی تک فلسطین کی قرار دادیں پر عمل درآمد نہیں کروا سکے،،، حتیٰ کہ ان کی آنکھو ں کے سامنے 70ہزار فلسطینی جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، شہید کر دیے گئے،،،اور اقوام متحدہ محض مذمتوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ آپ عراق کو دیکھ لیں، جس پر حملے کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے اجازت لی گئی،،، مگر وہاں پر بعد میں نہ تو جراثیمی ہتھیار ملے اور نہ ہی ایٹمی تنصیبات ۔ بعد میں اقوام متحدہ نے محض معذرت سے کام چلایا۔ بہرحال یہ اقوام متحدہ ہی ہے کہ جس کے زیر سایہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایک ہی بدمعاش ہے، 1990ء تک روس سپر پاور تھا، اُس وقت تک امریکا ایسی حرکتیں نہیں کرتا تھا، اور دنیا کا توازن بھی قائم تھا۔ لیکن جیسے ہی سویت یونین کو توڑا گیا، امریکا کی من مرضیاں بڑھ گئیں۔ اس لیے جب تک چین امریکا کے زور کو توڑنے کے لیے آگے نہیں آئے گا، تب تک امریکا یہ بدمعاشیاں کرتا رہے گا۔۔۔ اور ویسے بھی یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ طاقت میں ہو تو اپنے نئے اصول پیدا کرتا ہے، کہ ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے،،، فلاں ملک ٹھیک کام نہیں کررہا، انگلینڈ کو اپنے اڈے دے دینے چاہیے تھے،،، اسپین نے اڈے نہیں دیے اس لیے ہم اُس سے تجارت ختم کر رہے ہیں،،، بعد میں دونوں ملک اپنے آپ کو امریکا کے آگے سجدہ ریز کر دیتے ہیں کہ محلے کے اس غنڈے کے سامنے اُن کی کیا اوقات ۔ اس لیے دنیا میں ہر دور میں ایسا ہی ہوا ہے کہ جس کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ اپنے اصول و ضوابط طے کر لیتا ہے۔ اقوام متحدہ ہمہ وقت ہر لحاظ سے اور ہر فورم پر ناکام رہی ہے، بلکہ اس کے ساتھ دیگر تنظیمیں او آئی سی اور عرب لیگ جیسی تنظیمیں بھی مکمل ناکام رہی ہیں،،، اور یہ آج کی نہیں بلکہ تاریخ اس کی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ 2003ء میں عراق پر ہونے والا حملہ اس کی نمایاں مثال ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق جنگ شروع کی، حالانکہ عالمی سطح پر اس کے خلاف شدید اختلافات موجود تھے۔ اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں لوگ مارے گئے اور پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گیا، مگر اقوامِ متحدہ اس جنگ کو روکنے میں ناکام رہی۔اسی طرح 2011ء میں لیبیامیں ہونے والی مداخلت کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں انسانی تحفظ کے نام پر کارروائی کی گئی، مگر بعد میں NATO کی فوجی مداخلت نے ملک کو طویل خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔ آج تک لیبیا مکمل استحکام حاصل نہیں کر سکا۔ آپ شام کو دیکھ لیں، شام کی خانہ جنگی بھی اقوامِ متحدہ کی کمزوری کی ایک بڑی مثال ہے۔ 2011ء سے شروع ہونے والی اس جنگ میں لاکھوں افراد مارے گئے اور کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے۔ کئی بار جنگ بندی کی کوششیں کی گئیں، مگر عالمی طاقتوں کے اختلافات کے باعث کوئی مستقل حل سامنے نہ آ سکا۔اسی طرح حالیہ برسوں میں روس ، یوکرین جنگ نے بھی اقوامِ متحدہ کے کردار پر سوالات کھڑے کر دیے۔ چونکہ روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے، اس لیے اس کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن نہ ہو سکی۔ قراردادیں پیش ہوئیں، بیانات جاری ہوئے، مگر جنگ جاری رہی۔میرے خیال میں اقوام متحدہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے، یہ صرف عالمی طاقتوں سے فنڈز لے کر اپنا پیٹ پالتی ہے،،لہٰذا اگر عالمی برادری واقعی ایک پرامن مستقبل چاہتی ہے تو اقوامِ متحدہ کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ خاص طور پر سلامتی کونسل کے ویٹو نظام پر نظرثانی کیے بغیر عالمی انصاف کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم