ایرانیت

اناسی کے انقلاب میں ایرانی معاشرے میں ایک نئی کلاس کا جنم ہوا۔یہ مستضعفین کی کلاس تھی اور یہی مستضعفین اس وقت ایران کی زمام ِکار سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ معاشرے کے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ان کا نام کچھ بھی رکھ لیں مگر اب یہی لوگ ایران کے وارث ہیں۔ کریش آف سیونٹی نائن نامی ناول بھی اسی انقلاب ِایران کے متعلق تھا۔اس کی اشاعت تو سن چھہتر میں ہوئی مگر اس میں ایران کے انقلاب کی بھی خبر دی گئی تھی۔وہی ہوا اناسی میں واقعی ایران میں انقلاب آیا۔ ایرانی معاشرے کا فیبرک پاک و ہند کے معاشرتی خدوخال سے بالکل مختلف ہے۔یہی سماجی اختلاف ایرانی قوم کو ایک کرتا ہے اور یہی پاک و ہند کے معاشرے کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ہندو معاشرت چار خانوں میں تقسیم ہوتی چلی آ رہی ہے۔صدیوں پہلے درجوں میں استوار معاشرت اب وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے کام آتی ہے۔ انسان کی سماجی حیثیت اس کی پیدائش سے طے ہو اور فوقیت خون اور نسب پر قائم ہو اب ماضی کا قصہ ہے۔ ایران میں بھی اس سے ملتے جلتے چار درجات ہیں۔ ان دنوں ایران کی دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے سامنے کھڑا ہونے کی بات زبان زدِ عام ہے اور اس طرح کے سٹینڈ لینے کی توجیہات ڈھونڈی جا رہی ہیں کہ آخر کس اندرونی طاقت نے اسے یہ حوصلہ دیا ہے اور کس طرح ایرانیت ان کا فخر بنی۔اس کے ساتھ تمام مسلم ممالک کی بے گانگی کے دنوں میں اس کی ایرانیت ایک اور رنگ سے دنیا کے سامنے ظاہر ہوئی ہے۔وہ طاقت جس کا نام ہی سن کر ہماشما لرزہ بر اندام ہو جاتے ہیں وہاں ایران کا تن تنہا کھڑا ہو جانا ایسا واقعہ ہے جس کو کوئی نظر انداز کرنا تو نظر انداز نہیں کر سکتا۔وہ اپنے مذہبی تشخص سے ہٹ کر بھی دنیا کی ایک اہم قوت کے طور پر ابھرا ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں اور کئی پرت۔اس کو وہاں کی معاشرتی درجہ بندی نے بھی طاقت دی ہے مگر سوال ہے وہی سب کچھ دوسرے تمام مسلم ممالک کیوں نہ کر سکے اور بڑی طاقتوں کا تابع مہمل بننے پر ہی راضی کیوں ہیں۔ عرب بادشاہ اور ان کی اولاد جس طرح کی پرتعیش زندگی گزارتے ہیں ایران میں اس کا تصور بھی محال ہے۔جس ذات پات کی قید میں پاک و ہند کا معاشرہ ہے ایران کی سوسائٹی اس سے بالکل پاک ہے۔جو سماجی تقسیم پاکستانی معاشرے میں ہے ایران میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ایران میں یہ ضروری نہیں کہ مذہبی اشرافیہ کی اولاد مذہب کے شعبے تک ہی محدود رہے۔وہ اولاد اب بزنس، ٹیکنالوجی اور دفاع میں بھی خدمات انجام دے رہی ہے۔جو وہاں فوج ہے اس کا مذہبی پس منظر سے کوئی تعلق نہیں۔ان کا اختصاص دفاعی امور میں باصلاحیت ہونا ہے۔وہاں وہ کلاس سسٹم نہیں جو یہاں ہمارے ہاں رواج پا چکا ہے۔ ایران میں سماجی تقیسم طبقاتی اور نسلی بنیادوں پر قائم ہے۔مذہبی رہنماوں کی اولاد آقا زادہ کہلاتی ہے۔اب آقا زادے صرف مذہبی تعلیم حاصل کر کے عالم ہی نہیں بنتے زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ ایران ایک قوم کیسے بنا ہے اور ہم قوم کی کنسیپٹ سے کیوں دور ہیں۔اس پر غور کرنا چاہیے۔ایران میں خون اور نسب کی بنیاد پر کسی کو کم تر نہیں سمجھا جاتا۔ شادی بیاہ میں موروثی رکاوٹیں نہیں ہیں۔اس معاشرت میں تضادات کم ہیں جنہوں نے ان کو ایک مٹھی کی صورت کر دیا ہے۔غربت اور امارت کی تقسیم ہے مگر اس میں Rigidity مفقود ہے۔انقلاب کے بعد مستضعفین کی ایک کلاس نے جنم لیا ہے۔اس غربت نے ان کے تھیسز کو قوت فراہم کی ہے اور اس نے ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے۔عرب معاشرے میں سماجی تقسیم بہت گہری ہے۔ وہاں خون اور نسب کی بنیاد پر معاشرے میں رتبہ متعین ہوتا ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے ورنا نظام جسے منو سمرتی بھی کہا جاتا ہے چار درجات پر مشتمل ہے جس میں برہمن، کھشتری، ویش شودر اور اچھوت شامل ہیں۔ان کی آپس میں شادیاں نہیں ہو سکتیں۔ہمارے معاشرے میں چار ہزار سال پہلے آپس میں شادیوں کا رواج تھا جو دو ہزار سال پہلے ختم ہو گیا۔ایران میں بھی چار درجات تھے جن میں مذہبی پیشوا،جنگجو، کسان اور کاریگر شامل تھے۔ساسانی دور جس کی بنیاد اردشیر نے رکھی تھی۔یہ تقسیم مسلمانوں کی عرب آمد کے بعد ختم ہو گئی۔وہاں اب برہمن اور اچھوت کا تصور اڑ گیا ہے۔ ایران کے معاشرے میں آپس کی شادیاں عام ہیں وہاں تفریق غریب اور امیر کی ہے۔غربت تضحیک کا نشانہ نہیں۔وہاں انقلاب کے بعد ایک کلاس مستضعفین کی بنی ہے۔اس معاشرے میں سماجی حیثیت کا تعین ذات برادری کی بجائے دولت، تعلیم اور سیاسی اثرورسوخ پر ہوتا ہے۔ان کو ایک قوم بنانے میں ان کے آپس میں شادی بیاہ کا بندھن ہے۔وہاں نسلی گروہ زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جیسے کرد، فارس، بلوچ اور عرب۔ان گروہوں کے درمیان سیاسی ترجیحات کی بات ہوتی ہے۔محمد باقر قالیباف کے والد کی چھوٹی سی کریانے کی دوکان تھی۔وہ اس وقت تہران یونیورسٹی میں سیاسی جغرافیے کے استاد ہیں اور پارلیمنٹ کے سپیکر ہین۔عباس عراقچی کے والد کا قالینوں کا بزنس تھا۔ مسعود پزشیکیان،باقر قالیباف اور عباس عراقچی اسی مستضعفین سے تعلق رکھتے ہیں اور اب یہی ملک کے اہم ترین عہدوں پر فائز ہے۔انقلاب ایران کو انقلابِ مستضعفین ہی کہا جاتا ہے۔ایران کا پورا سیاسی نظام انقلاب کے بعد "مستضعفین کے نام پر" بنا۔ اس لیے کریانے کی دکان چلانے والے کا بیٹا باقر قالیباف اسپیکر، تاجر کا پوتا عراقچی وزیر خارجہ، اور ڈاکٹر پزشکیان صدر تک بن سکتا ہے۔ غریب گھرانے سے اٹھ کر اعلیٰ عہدے تک پہنچنا ایران میں عام ہے۔اسی برابری کے تصور سے ایران کا معاشرتی فیبرک مضبوط ہوا ہے۔

بشکریہ روزنامہ آج