ایران کی منطق

آقائے علی خامنائی نے ایران کی فتح کے بعد جب "ایرانی قوم" ہونے پر فخر کیا تو ہمارا ذہن نوے سال پہلے کی بحث کی طرف چلا گیا۔یہ بحث ایک عالمِ دین اور علامہ اقبال کے درمیان ہوئی تھی۔ایک طرف علمائے دیوبند تھے اور دوسری طرف عام آدمی۔حسین احمد مدنی کو مسلمانان ِہند نے اقبالؔ کی پیروی میں ناروا طریقے سے برا بھلا کہا جس کا جواب بھی تہذیب کے دائرے سے باہر آ کر دیا گیا۔آخر انہوں نے آج سے ایک صدی قبل کیا کہا تھا کہ برصغیر کے جذباتی مسلمان ان کی جان کے جیسے دشمن ہی بن گئے۔ حسین احمد مدنی کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں مذاہب سے نہیں۔اس کے جواب میں اقبال نے کہا کہ عجم ہنوز نداند رموزِ دین ورنہ زدیوبند حسین احمد این چہ بوالعجبیست موجودہ ایران اسرائیل جنگ میں ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنائی نے بارہا اس حقیقت کو فخر سے بیان کیا کہ مغرب " ایرانی قوم" سے پوری طرح واقف نہیں۔یہ قوم کسی طاغوت کے سامنے نہ آج تک جھکی ہے اور نہ جھکے گی۔ہم کسی کی زیادتی کے آگے سر نہیں جھکائیں گے کہ "مرنا شکست نہیں جھکنا شکست ہے"۔انہوں اس حقیقت اور نکتے کو " ایران کی منطق " کہہ کر اس کی وضاحت کی۔اس جنگ میں ایرانیوں کی بطور" قوم " تعریف کرنا بہت سارے حقائق سے نقاب کشائی کرتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اس فتح کو انہوں نے اسے عالم اسلام کی فتح کیوں نہیں کہا۔اس کے بارے میں کچھ جاننا ضروری ہے اور قوم اور ملت کے فرق کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے تاکہ ایک صدی قبل جس ناروا طریقے سے اس بحث کو چھیڑا گیا اور ختم کیا گیا یا اس سے بچا جا سکے۔ ملت عربی لفظ ہے اور اس کا معنی راستہ اور طریقہ ہے۔قران کریم میں ارشاد ہوتا ہے ۔ترجمہ: کنزالایمان فرما دیں اللہ سچا ہے تو ابراہیم کے دین پر چلو۔اسلامی اصطلاح میں، "ملت" سے مراد وہ راستہ یا طریقہ ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے، اور اس کا اطلاق مسلمانوں کی جماعت یا امت پر بھی ہوتا ہے۔ملت ابراہیمی کا یہی مطلب ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے راستے پر چلنے والے ایک ملت ہوں گے یعنی تمام عالمِ اسلام ایک ملت تصور ہوتا ہے جبکہ قوم ایک ایسا گروہ ہے جو مشترکہ شناخت، جیسے کہ زبان، تاریخ، نسل، ثقافت یا علاقے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے وابستہ ہوتا ہے۔مزید یہ کہ قومیں اکثر نسلی گروہوں سے زیادہ سیاسی گروہ ہوتی ہیں۔ اب ملت اور قوم کے باہمی فرق کے بعد حسین احمد مدنی کے موقف کو دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ملت کا تصور بھی صرف اسلام میں ہے، کسی دوسرے آسمانی مذہب میں خالص اس طرح کا تصور موجود نہیں۔ جس بات پر حسین احمد مدنی کی اپنی طرف سے گرفت کی گئی تھی وہ یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پہ تو قوموں اور ملکوں کا وجود ہی نہیں ہوتا اور"ملّت اور قوم کو سر اقبال ایک قرار دے کر ملت کو وطنیت کی بنا پر نہ ہونے کی وجہ سے قومیت کو بھی اس سے مْنزّہ قرار دے رہے ہیں؟یہ بوالعجبی نہیں ہے تو کیا ہے؟" آقا خامنائی کا پس منظر بھی سیاسی سے زیادہ علمی ہے اور وہ قوم اور ملت کے مفہوم سے کیونکر نہ جانتے ہوں گے۔ایرانیت کو اپنی پہچان بنا کر کہا ہے مغرب ایرانی قوم کو نہیں جانتی اس قوم نے کسی کے سامنے سرنگوں ہونے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔یہ بدیہی حقیقت ہے کہ ان کی قوم ایران سے اٹھی ہے بحرین، قطر، سعودی عرب اور دیگر ریت میں سر دبائے ہوئے لوگوں کے علاقے سے نہیں۔وقت نے ثابت کیا ہے کہ وہ عرب قوم تو ہیں مگر اس سے اوپر اٹھنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملت کے تصور کو اس صدی میں بہت نقصان پہنچا ہے۔جب علامہ نے مذکورہ اشعار کہے وہ اس وقت بسترِ مرگ پر تھے اور اس مسئلے پر بحث کے دوران ہی ان کی رحلت بھی ہو گئی تھی۔شنید ہے تب وہ بینائی سے بھی محروم ہو چکے تھے اور ان کی انفارمیشن کا ذریعہ ان سے ملنے والے لوگ ہی ہوتے تھے۔اور یہ اشعار بھی محمد شفیع نے املا کیے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ عرب قوم اور ایرانی قوم دو الگ اکائیاں اور قومیں ہیں۔ایسے ہی پنجابی، سندھی، پٹھان اور بلوچ قومیں ہیں اور مل کر ایک قوم پاکستانی بنتے ہیں۔جب پنجابی قوم کا تذکرہ ہوتا ہے تو غیر ضروری ہے کہ اسے مذہب سے جوڑا جائے۔متحدہ پنجاب میں مسلمان، سکھ، پارسی اور ہندو سبھی رہتے تھے مگر وہ سب بالحاظ قوم پنجابی تھے۔وہ بطور قوم پارسی، سکھ یا ہندو نہ تھے، وہ پنجابی الاصل والنسل تھے۔قوم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ماضی کے واقعات اور تجربات اور مشترکہ جدوجہد قوموں کی شناخت کو مضبوط کرتی ہیں۔ عیسائی کوئی قوم نہیں مگر مغربی ممالک اور امریکہ الگ الگ قومیں ہیں۔ ہندو ایک قوم نہیں البتہ ہندوستانی ایک قوم ہیں اور یہی حسین احمد مدنی نے کہا تھا۔موجودہ زمانے میں قومیں ایک ملت نہیں بناتیں ممالک ایک ملت بناتے ہیں۔ مجھے موجودہ جنگ میں ایک بار پھر مدنی کا موقف دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ملت اگر صحیح معنوں میں ملت ہوتی تو ایک ہوتی وہ طاغوتی طاقتوں کی کاسہ بردار نہ ہوتی۔ایرانیوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ بطور قوم تمام عالمی طاقتوں کے خلاف نبرد آزما ہوئی اور سرخرو ہوئی۔بعض حلقوں میں یہ بھی کہا گیا کہ قوم کی جیت ہوئی اور ملت ہار گئی۔ آقا خامنای نے فتح کے خطاب کے دوران اس فرق کو خوب واضح کیا۔ان کے بقول لڑی ایرانی بطور قوم اور جیتی بطور ملت۔ سلامت رہے خامنائی جیسا ایران کا قوم پرست راہنما۔ قوم میں کئی مذہبی گروہ ہو سکتے ہیں ملت میں صرف ایک مذہب کے لوگ ہوں گے یوں قوم کا مفہوم ملت سے Broder مفہوم کا حامل ہے۔

بشکریہ روزنامہ آج