اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر بات آگے بڑھائی نہیں جاسکتی کہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود ٹرمپ نے خود کو عام سفید فام امریکی شہری کا نمائندہ ثابت کیا ہے۔ روایتی سیاستدانوں اور ریاستی اداروں سے مایوسی کے علاوہ ٹرمپ نے نہایت مہارت ا ور ثابت قدمی سے سفید فام امریکی کے دل ودماغ میں نسلوں سے موجود تعصبات کو ڈھٹائی سے اپنالیا۔ اس امر پر مصر رہا کہ دنیا کی سب سے بڑی سپرطاقت غیر ملکوں سے غیر قانونی طورپر امریکہ در آئے افراد خصوصاََ مسلمان تارکین وطن کی وجہ سے زوال پذیر ہورہی ہے۔ اس کے فیصلہ ساز اور سرمایہ کار امریکہ کی ’’عظمت‘‘ بحال کرنے پر توجہ دینے کے بجائے چین کے بعد بھارت اور ویت نام جیسے ملکوں میں کم از کم سرمایہ کاری سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی ہوس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ بے روزگار اور غریب سے غریب تر ہورہے ہیں ’’اصل امریکی شہریوں‘‘کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ سفید فام امریکی اکثریت کے دل ودماغ میں نسلوں سے موجود تعصبات کو ڈھٹائی سے اپناتے ہوئے وہ دوسری بار ایوان صدر پہنچ گیا۔ امریکی آئین کے اعتبار سے وہ تیسری بار منتخب ہونہیں سکتا۔ فی الوقت اس میں ترمیم کے بغیر وہ 2028ء کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہے۔ وائٹ ہائوس میں دوسری بار پہنچ جانے کے بعد امریکی صدور تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے کچھ ’’نیا‘‘ کرنے کو بے چین ہوتے ہیں۔ ان کی اس خواہش کو Legacyکی تمنا کہا جاتا ہے۔ دوسری بار صدر منتخب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نظر بظاہر دنیا کو دیرپاامن فراہم کرنے کا خواہاں نظر آیا۔ آٹھ جنگیں روکنے کا دعوے دار ہے۔ ان جنگوں میں سے ایک گزرے برس کے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی ہوئی تھی۔ وہ یقینا ایٹمی جنگ میں بدل سکتی تھی۔ ٹرمپ اور اس کے معاونین نے مگر راتوں کو جاگ کر پاکستان اور بھارت پر سفارتی دبائو بڑھاتے ہوئے اس جنگ کو رکوایا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے کھلے دل سے اس کی کاوشوں کو سرا ہا۔ اس کے لئے نوبل امن انعام کی چٹھی بھی لکھ دی۔ بھارت مگر اس کا کردار تسلیم کرنے کو آمادہ نہ ہوا۔ بضد ر ہا کہ اپنے اہداف حاصل کرلینے کے بعد وہ جنگ کو مزید جاری رکھنا نہیں چاہ رہا تھا۔ تخت یا تختہ والی ضد درحقیقت پاکستان ہی برت رہا تھا۔ بھارت کو نہیں بلکہ پاکستان کو جنگ سے روکنا مقصود تھا اور ٹرمپ کا تمام تر دبائو پاکستان پر قابو پانے کو وقف رہا۔
نہایت رعونت سے اپنائے اس بھارتی مؤقف نے ٹرمپ کو مودی سے ناراض کردیا۔ اپنے سابقہ دورِ صدارت کے دوران جبکہ وہ مودی کو اپنا جگری یار تصور کرتا رہا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی سیاسی حمایت کو توانا تربنانے کی کوششوں میں بھی حصہ ڈالتے رہے۔ مودی نے ’’ہاڈی موڈی‘‘کے عنوان سے امریکی ریاست ٹیکساس کا دورہ کیا۔ ٹرمپ مودی کے آبائی شہر گجرات میں جلسہ عام سے خطاب کرنے آیا۔ دونوں کے مابین مئی کی پاک بھارت جنگ کی وجہ سے دوستی مگر ایک پنجابی گیت کے مطابق ’’ٹْٹ گئی تڑک کرکے‘‘ ہوگئی تو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ٹرمپ انتظامیہ کے قریب ترلانے کے کئی دروازے کھل گئے۔
توقع تھی کہ جو دروازے کھلے ہیں وہ پاکستان اور امریکہ کو امن استحکام وخوش حالی کی جانب بڑھنے کی نئی راہیں دکھائیں گے۔ مارچ 2026ء کا آغاز ہوتے ہی مگر ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر چڑھ دوڑا۔ امریکہ کے دس سے زیادہ باخبر،مستند اور معتبر گردانے صحافی اور لکھاری مصر ہیں کہ ایران پر جنگ مسلط کرنے سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم اپنے عسکری اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں سمیت
واشنگٹن آیا تھا۔ وائٹ ہائوس میں امریکی صدر اور اس کے معاونین کو تفصیلی بریفنگ کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی کہ اگر ایران کے روحانی رہ نما کو فضائی حملے کے ذ ریعے شہید کردیا جائے تو ایرانی عوام ’’شکر گزاری‘‘ کے اظہار کے لئے سڑکوں پر آجائیں گے۔ یوں بغیر کسی جنگ کے ایران میں ’’رجیم چینج‘‘ ہوجائے گی۔ مذکورہ بریفنگ سے چند ہی ہفتے قبل ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو اس کی بیوی سمیت گرفتار کرلینے کے بعد تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں سرفہرست اس ملک کی فیصلہ سازی کا اختیار حاصل کرلیا تھا۔ وینزویلا میں ہوئی کامیابی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹرمپ ایران کو بھی اپنا مطیع بنانے کی حماقت میں الجھ گیا۔ ایران مگر وینزویلا نہیں۔ فروری 1979ء کے انقلاب کی بدولت وہاں جو نظام قائم ہوا اسے عراق-ایران جنگ کے 8سالوں نے اپنی بقاء کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کے قابل بنادیا۔ دنیا بھر کی لگائی اقتصادی پابندیوں اور بائیکاٹ کے باوجود وہ 47سال سے اپنا وجود اور سیاسی نظام برقرار رکھے ہوئے ہے۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ اس نظام کی بنیادی حقیقتوں کو سمجھ نہ پائے اور خود کو ایسی جنگ میں الجھادیا جس سے باہر آنے کا راستہ نظر نہیں آرہا۔
ایران کے ہاتھوں امریکہ اور اسرائیل کی پسپائی کے علاوہ ذلت ورسوائی مگر ان دو ملکوں سے کہیں زیادہ پاکستان جیسے غریب ومقروض ممالک کے لئے سنگین خطرات کا باعث ہوسکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے خلیجی ملکوں سے آیا تیل نایاب ہونے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ کامل مایوسی کے اس عالم میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ٹرمپ کے دل میں موجود پاکستان کے لئے گڈول کے جذبات کو خطے میں امن کے قیام کے لئے بروئے کار لانے کافیصلہ کیا۔ ایران کے ساتھ دیرینہ رشتے اس ضمن میں کام آئے اور دونوں ملک اسلام آباد میں مذاکرات کو آمادہ ہوگئے۔
47 برسوں کے طویل وقفے کے بعد امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین سطح کے نمائندگان کے مابین اسلام آباد میں 21گھنٹوں تک پھیلی ملاقاتوں سے دیرپا امن کی امید خام خیالی تھی۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے گنجلک سفارتی معاملات کو ٹی-20میچوں کی طرح دیکھنے کے عادی افراد امن کی شاہراہ پر موجود بھول بھلیوں سے آشنا نہیں۔ اس حقیقت کے ا عتراف اور ستائش میں ناکام رہے کہ 47برسوں سے ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوئے امریکہ اور ایران اسلام آباد میں ایک دوسرے سے گفتگو کو رضا مند ہوگئے ہیں اور یہ رضا مندی ایک لمبے سفر کا آغاز ہے۔ اب اس کا دوسرا مرحلہ بھی ہر صورت آنا ہے اور یہ مرحلہ 21 اپریل سے قبل آنا ہوگا جس کے نتیجے میں کم از کم جنگ بندی کو مزید طول دینے پر اتفاق کے بعد مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان ہوسکتا ہے۔ یہ کیسے اور کب ہوگا؟ اس سوال کا جواب عملی صحافت سے ریٹائرہوئے اس قلم گھسیٹ کے لئے فی الحال ممکن نہیں۔
41