پاکستان میں جمعرات کا دن شروع ہوتے ہی امریکی صدر کا جو خطاب نشر ہوا میری دانست میں تشریح و تبصرہ آرائی کا محتاج نہیں۔ اس خطاب نے مہنگائی، بے روزگاری اور کساد بازاری کے خوف سے گھبرائے دلوں میں امید کی آخری شمعیں بھی بجھا دی ہیں۔ میری رائے سے اتفاق نہیں تو موبائل اٹھا کر سوشل میڈیا کے ایکس (X) پلیٹ فارم پر چلے جائیں۔ ٹرمپ کی تقریر ختم ہونے کے چند ہی لمحوں بعد وہاں امریکہ کے وزیر جنگ نے ایک پیغام لکھا: Age ”Stone the to“ Back (پتھر کے دور میں واپسی) ۔ امریکی صدر نے یقیناً ایران کو پتھر کے زمانے میں لوٹا دینے کا پیغام دیا ہے۔ مجھے خبر نہیں کہ وہ مذکورہ ہدف کے حصول میں کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے۔ ایک بات مگر کامل اعتماد سے لکھ سکتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر وہ اپنی ضد پر ڈٹا رہا تو محض ایران ہی پتھر کے دور میں واپس نہیں جائے گا۔ آبنائے ہرمز کے راستے سے آئے تیل، گیس اور کھاد پر کامل انحصار کے عادی پاکستان جیسے کئی ممالک کو بھی غربت اور بے یقینی کی نہ جانے کتنی دہائیاں برداشت کرنا ہوں گی۔ میری زندگی کے جتنے برس رہ گئے ہیں ان میں تو سکھ چین کی ہرگز کوئی امید باقی نہیں رہی۔
حیرت مگر ضرورت سے زیادہ پڑھے اور امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوئے ”دانشوروں“ کے تبصرے پڑھ کر ہو رہی ہیں۔ سینہ پھلا کر دعویٰ کر رہے ہیں کہ اپنے خطاب کے دوران امریکی صدر مایوس سنائی دیا۔ اس کا چہرہ پژمردہ تھا۔ اپنے ملک کو وہ ایران کے ساتھ جنگ میں بری حد تک پھنسا چکا ہے۔ وہاں سے نکلنے کی راہ اسے مل نہیں رہی۔ اپنے اہداف کے حصول میں ناکام ہو جانے کی وجہ سے ہذیانی گفتگو کرنا شروع ہو گیا ہے۔ 1960 ء کی دہائی میں مرتب ہوئے ”سامراج دشمن بیانیہ“ کی بدولت ہوئی ”ذہن سازی“ ٹرمپ کی ”شکست خوردہ“ تقریر کے بعد ایران کو گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو والی ہلاشیری دیتی سنائی دی۔
شاید مجھے خللِ دماغ کا مرض لاحق ہو چکا ہے۔ جمعرات کی صبح ٹرمپ کی تقریر کامل توجہ کے ساتھ سننے کے لئے اٹھا تھا۔ سونے سے قبل خواب آور گولی کے علاوہ دل کو مضطرب کرنے سے محفوظ رکھنے والی ادویات بھی لے کر بستر میں گھس گیا۔ گہری نیند کی بدولت تازہ ذہن کے ساتھ ٹرمپ کا خطاب سنا۔ اپنے خطاب کے ذریعے ٹرمپ وکلاء کی طرح اہم نکات اجاگر کرنے کا عادی نہیں۔ اِدھر اْدھر کی ہانکتے ہوئے عموماً دل کی بات عیاں کرنے سے گریز کرتا ہے۔
میری عاجزانہ رائے میں لیکن جمعرات کی صبح پاکستان میں میسر ہوا ٹرمپ کا خطاب کئی اعتبار سے سفاکانہ حد تک سادہ اور شفاف تھا۔ لگی لپٹی رکھے بغیر ٹرمپ نے بیان کر دیا کہ فروری 1979 ء کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران امریکہ کی مسلسل تذلیل میں مصروف ہے۔ اسے موثر جواب دینے کی مگر کسی امریکی صدر نے ہمت نہیں دکھائی۔ ٹرمپ اپنی دانست میں تقریباً نصف صدی تک پھیلی ذلت و رسوائی کا بدلہ لینے کی ٹھانے ہوئے ہے۔ ”مرگ بہ امریکہ“ کا نعرہ لگانے والے ملک کے حکمرانوں کو نہیں بلکہ عوام کو بھی سبق سکھانا چاہ رہا ہے۔ ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں کا خاتمہ ہی اس کا ہدف نہیں۔ ایران اگر سرنگوں ہونے کو آمادہ نہ ہوا تو آئندہ دو تین ہفتوں میں وہ اس کے تیل کے ذخائر اور بجلی فراہم کرنے کے نظام کو تباہ کرتے ہوئے ہزاروں سال پرانی تہذیب کے حامل ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دے گا۔ مختصر الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ ایران کو فوجی اعتبار سے شکست دینا ہی مقصود نہیں ہے۔ اس کی کامل تباہی اور بربادی حتمی ہدف ہے۔
افغانستان اور عراق پر رواں صدی کے آغاز میں جنگیں مسلط کرتے ہوئے ماضی کی امریکی حکومتوں نے وہاں ”وحشی طالبان“ اور ”جابر صدام حسین“ کی حکومتوں کے خاتمے کے بعد ”جمہوری نظام“ متعارف کروانے کے وعدے کیے تھے۔ اس کے نتیجے میں یہ دونوں ملک قابل رشک حد تک ”مہذب“ اور خوشحال دکھانے کے خواب دکھائے۔ ٹرمپ نے مگر ماضی کے امریکی صدور جیسی منافقت سے کام نہیں لیا۔ صاف الفاظ میں بیان کر دیا ہے کہ فروری 1979 ء سے ایران کے ہاتھوں امریکہ کی مسلسل تذلیل کا بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔ شاید اس کے ذہن میں یہ خیال بھی سما گیا ہے کہ قدرت نے اسے امریکی ”عظمت رفتہ“ کی بحالی کے لئے ایک بار پھر وائٹ ہاؤس بھجوایا ہے۔ اپنے تئیں وہ بغیر کہے ”خدائی مشن“ نبھاتا سناتا دیا۔ ایران کے ساتھ بدلہ لینے کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وہ اپنے سابقہ دورِ صدارت میں اس ملک کے خلاف لئے اقدامات کا ذکر بھی کرتا رہا۔ ایران کی کامل شکست کے علاوہ اس کی کامل تباہی و بربادی سے کم کسی بات پر رضا مند سنائی نہ دیا۔ اس ضمن میں ڈھٹائی کی حد تک سفاکانہ خود غرضی اختیار کیے رکھی۔
پاکستان جیسے بے شمار غریب اور مقروض ملک آبنائے ہرمز کے جلد از جلد کھل جانے کے منتظر ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے انتہائی خوشحال ممالک کو بھی اپنی معیشت رواں رکھنے کے لئے اس آبنائے سے بلاروک ٹوک بحری تجارت درکار ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ کے کسانوں کو بھی اپنی فصلوں کو بارآور بنانے کے لئے آبنائے ہرمز سے آئی کھاد کی اشد ضرورت ہے۔ بدلے کی آگ میں جھلستے ٹرمپ کو مگر ان کروڑوں انسانوں کی ضرورتوں کا ادراک نہیں۔ کندھے اچکا کر دہرائے چلے جا رہا ہے کہ امریکہ اب سعودی عرب اور روس کی اجتماعی صلاحیت سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ دنیا کو اپنی ضرورت کا تیل اور گیس اب امریکہ سے خریدنا چاہیے۔ رواں برس کا آغاز ہوتے ہی امریکہ نے وینزویلا کے تیل پر بھی قبضہ جما لیا۔ آبنائے ہرمز کو بھول کر ”نئے حقائق“ پر توجہ دلاتا ٹرمپ خود غرضی سے مغلوب ہو کر یہ حقیقت نظرانداز کرتا سنائی دیا کہ آبنائے ہرمز سے اس کے ”دوست“ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر کا تیل، گیس، کھاد اور سینکڑوں نوعیت کی معدنیات اور کیمیائی عنصر دنیا بھر میں جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی کامل بندش فقط ایران ہی نہیں ان ممالک کی معیشت بھی تباہ کردے گی۔ مشرقِ وسطیٰ اور اس کے زمینی حقائق مگر اس کے ذہن میں موجود جغرافیائی نقشے پر موجود ہی نظر نہ آئے۔
یورپ میں اپنے نیٹو ”اتحادیوں“ سے بھی وہ اکتایا سنائی دیا۔ فرانس، برطانیہ اور اٹلی کو سوکنوں کی طرح طعنے دیتے ہوئے انہیں اپنی بقاء کے لئے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے اپنے وسائل استعمال کرنے کے مشورے دیتا رہا۔ دنیا کو آبنائے ہرمز سے تیل، گیس اور کھاد جیسی بنیادی ضروریات سے محروم کرنے کے بعد ٹرمپ اس آبنائے کو کھلوانے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ اس پر انحصار کے عادی تمام ممالک کو بلکہ ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہمارے دانشوروں کی اکثریت مگر اس امر پر شادمانی کے اظہار میں مصروف ہے کہ ٹرمپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ خود کو آبنائے ہرمز کی دلدل سے باہر کیسے نکالے؟
