کرونا وائیرس کی وباء سے پہلے دنیا اپنی سیاسی مزہبی۔ لبرل۔زندگیوں میں مگن تھی۔عالمی طاقتیں دشمنوں کو خاک چٹانے اور صدیوں تک پھیلے ہوئے اپنے اپنے مفادات کو حاصل کرنے کی تگ ودو میں لگی ہوئی تھیں۔امریکہ عرب ممالک سے تیل نکال نکال کر صدیوں تک کی ضرورت کیلئے جمع کرچکا تھا تیل کمپنیاں پوری دنیا پراجاراداری قائم کرکے مالیاتی اداروں کو غریب اور پسماندہ ممالک قرضے دینے پر اپنی شفارشات منتخب کرکے ان ممالک کا بٹھہ بٹھا رہی تھیں ۔تیل والے کئی ممالک کو عوامی حقوق کے نام پر کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ایسے میں کرونا کیوجہ سے دنیا پر سکوت طاری ہونے لگا بڑھتی ہوئی شرح اموات نے سپر پاور طاقتوں کو بے بس کرنا شروع کردیا ۔ تیل کی قیمتیں تیزی سے گرنا شروع ہوئیں اور اب ریٹ منفی ہونا شروع ہوگئے ۔تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اپنی تیل کی پیداورار کم کرنا شروع کردی لیکن پھر بھی کوئی فائدہ نہ ہوا ماہرین کہتے ہیں اگر یہ حالت ایک مہینہ اور رہی تو دنیا میں تیل زخیرہ کرنے کی جگہ نہ ہوگی لاکھوں ٹن تیل لئیے جہاز سمنرروں میں کھڑے رہیں گے۔شائد اللہ تعا لیٰ کی زات اپنا سبق سکھانا چاہتی ہے کہ ان ممالک کو احساس ہوجائے کہ جس تیل پر تمہیں اتنا زعم ہے وہ اللہ نے بنایا ہے تمہاری کوئی کارہ گری نہیں . تیل کی قیمتیں منفی پر آجانا سبق ہے ایسے ممالک کیلئے جو اپنی ریشہ دوانیوں جبر وستم اور اپنی ایجنسیوں کے بل بوتے پر تیل لوٹ کر زخیرہ کرکے یہ سمجھتے کہ وہ دنیا کو غلام بنالیں گے انکی بھول ہے کیونکہ مستقبل سے انجان اقوام جب اللہ پر توکل کرلیتی ہیں تووہ ہر حال میں ہماری مدد کرتا ہے ۔ کہاں گے ماہر معاشیات پلاننر سب کی سائنس دھری کی دھری رہ گئی دیکھیں آج مصیبت میں امیر ملک بھی غریب ممالک کی صف میں کھڑے ہیں۔دیکھیں کرونا کے بعد دنیا کی شکل کیا ہوگی رسم وراوج تقافت مزہبی اور سیاسی رویوں میں تبدیلی لازم ہے کئی چیزیں جنہیں لازم وملزوم تصور کیاجاتا رہا ہوگا ماضی بن جائیں گی انسانی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر اسکے اثرات لازم وملزوم ہیں مکافات عمل شروع ہوچکا ہے ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا اللہ سے خیر کی دعا مانگتے رہیں تو وہ خیر ہی کرے گا انشااللہ
مکافات عمل