مشرق وسطیٰ میں بڑھنے والی کشیدگی کم ہوئی امریکہ اور ایران دونوں نے جنگ نہ کرنے کا عندیہ دیا پوری دنیا میں معیشت میں ٹھراو آیا اور اضطرابی کفییت میں کمی آئی تیل اور سونے کی قیمتیں عالمی منڈی میں کم ہونا شروع ہوگئیں یہ بڑی خوشی کی بات ہے خاص طور پر ہمارے ملک کے لئیے جسکاجنگ کی صورت میں بلاوجہ متاثر ہونا لازم تھا ۔ امریکی تھنک ٹینک نے بڑی سوچ بچار کے بعد جنگ میں نہ جانے کا فیصلہ کیا وہاں ایران نے بھی دانشمندی دکھاتے ہوئے اپنے رویے میں نرمی دکھائی تجزیہ نگاریوں کے مطابق اگر جنگ ہوتی توکئی سالوں سے اقتصادی پابندیوں سے الجھتے ہوے ایران کے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا مگر امریکہ کی بڑی فوج کی اس خطے میں موجودگی اورایربیس اڈے ہونے کی وجہ سے کھونے کیلئے بہت کچھ ہے ۔امریکہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کے بعد ایران کی معاشی مسائل سے گھری ہوئی قوم جو اپنے مسائل کے حل کے لئیےاپنی حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہروں پر اتر آئی تھی کو دوبارہ متحد کردیا اور جنرل قاسم سلیمانی کے جنازے میں شرکت اور اپنے رہبر آیت اللہ خامہ نائی سے اظہار یکجہتی کرکے ثابت کیا کہ ڈوللنڈ ٹرمپ تم غلط ہو اور اب تک تمہاری ایران میں اضطراب پیدا کرنے کی کوششیں اور سرمایہ کاری ضائع ہوگیں ۔ایرانی قوم انقلاب ایران کے بعد دوبارہ اسی طرح اکھٹی ہوئی۔
ایران کی خطے میں پوزیشن اور مظبوط ہوگئ۔مسلم امہ میں ایک اور بڑا ملک ترکی جو امریکہ کی چالوں سے باخوبی واقف ہے اور امریکہ ریشہ دانیواں سے امت کو متحد کرنے کیلئے کوشاں ہے ایک ایسا پلٹ فارم مسلمانوں کیلئے بنانے کیلےء کوشش کررہا ہے جو امت مسلمہ کی آواز بنے۔ترکی کو اپنے ایسے اقدام میں پزیرائی اور کامیابی مل رہی ہے۔
اس تمام منظر میں اب اسرائیل کہاں کھڑا ہے چپ ہے کیوں کہ امریکہ اور اسرائیل جس کام کو آسان سمجھ رہے تھے اتنا ہے نہیں۔
میرے خیال میں ایران اور سعودیہ کو دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے آپسی پراکسی وار ختم کرکے مسلمانوں کو متحد کرنا چاہیے ۔ایران کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کہ سعودیہ میں بادشاہی حکومت ہے اور سعودیہ کو اس سے کہ ایران میں کیسی اورکس کی حکومت ہے ۔اپنے اپنے وسائل جنگوں اور پراکسی وارز اور اپنی اپنی دھاک دکھانے کیلئے بیرونی قوتوں کے حوالے کرنے کی بجائے اپنی عوام پر خرچ کرنے چاہیے ۔ حیرت ہے یہ ملک اللہ کو خوش کررہے ہیں روس اور امریک کی طاقتوں کے زریعے ۔
بے یقینی صورتحال