پاکستان میں مسجد کے باہر کھڑے ہو جائیں یا مندر کے سامنے کسی مدرسے میں چلے جائیں یا جامعہ میں کسی سرکاری ادارے میں چلے جائیں یا غیر سرکاری پولیس کے افسران سے پوچھ لو یا سیاست کے نامور لوگوں سے سب ہی پاکستان سے ناراض اور شکوہ کناں دکھائی دیتے ہیں۔کوئی پاکستان کو چھوڑ کر امریکہ جانا چاہتا ہے تو کوئی برطانیہ گو پاکستان میں صرف اور صرف وہی لوگ رہنا چاھتے ہیں جو خوابوں میں بھی دوسرے ممالک کا سوچ نہیں سکتے۔کیا پاکستان ان لوگوں سے خوش ہے آئیے سنتے ہیں پاکستان کی کہانی اسی کی زبانی۔میں پاکستان ہوں میں جب اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر ابھرا اس وقت دنیا سوچتی تھی کہ چند سال ہی میں تنہا رہ پاؤں گا اور پھر سے ہندوستان کے ساتھ ضم ہو جاؤں گا۔مگر میرا بانی جنّاح تھا اس نے مجھے مضبوط بنانے کی ہر ممکن کوشش کی اور ایک سال میں میری بنیادیں اتنی مضبوط کر دی کہ میں قیامت تک قائم رہ سکوں مگر اب اپنے بچوں کی باتیں سنتا ہوں تو تڑپ جاتا ہوں میری بنیادیں لرز جاتی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ میں ایک مقروض ملک ہوں میں جانتا ہوں کہ میں اتنی ترقی نہیں کر رہا مگر اسکی وجہ کون ہے یہی میرے اپنے بچے میرا بانی زندہ تھا تو مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میں دن بہ دن جوان ہو رہا ہوں مگر اب میں اپنے بچوں سے اپنے متعلق باتیں سنتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں بوڑھا ہونے لگا ہوں۔میرے اندر ایک خاموش خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے جو خون ریزی والی خانہ جنگی سے بہت خطرناک ہے۔دل دکھتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ میرے بچے سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔کوئی پیپلز پارٹی کے لیے دوسرے کے خلاف غلیظ گالیوں والی ویڈیو بناتا ہے تو کوئی پاکستان تحریک انصاف کے لئے سر گرم نظر آتا ہے تو کوئی ٹیک ٹوک پر نواز لیگ کے حق میں ماتھے پر ہاتھ مارتا دکھائی دیتا ہے۔یہ بچے جانتے ہیں کہ میرا دل میرا کشمیر مجھ سے جدا ہے وہاں ہوتا ظلم مجھے آگے نہیں بڑھنے دیتا اور یہاں میری چار دیواری میں میرے اپنے مجھے چھوڑ دینے کی باتیں کرتے ہیں۔میں کیسے آگے بڑھ جاؤں میرا حال اس بوڑھے باپ کے جیسا ہو چکا ہے جسکی اولاد اسے ایک ٹکا کما کر نہ دے اور اسکی غربت پر طعنے کستے ہوے اسکو چھوڑ جائے اور باپ ان سے خفا ہو کر گھر کے ایک کونے میں آنسو بہانے لگ جائے۔۱۹۴۷ء سے پہلے سرسید بھی تھا جنّاح کے ساتھ اس نے کہا تھا کہ ترقی کرنی ہے تو تعلیم حاصل کرو اور اب میرے بچوں سے کہا جاتا ہے ترقی کرنی ہے تو اچھی ٹیک ٹوک بناو۔اگر کوئی پڑھتا ہے تو کامیابی کے لئے نہیں میری ترقی کے لئے نہیں بلکہ وه میڈیکل کی ایک ڈگری کے لئے پڑھتا ہے تا کہ اسکو اچھی تنخواہ مل سکے۔وہ انسانیت کے لئے نہیں اپنے مفاد کے لئے اس شعبے میں آتا ہے۔میرے بچوں کے اساتذہ اور والدین بچوں کو کیسی تعلیم دے رہے ہیں کہ ڈاکٹر بن جاؤ کوئی یہ کیوں نہیں بتاتا انکو کہ کامیاب بن جاؤ کوئی کیوں نہیں بتاتا کہ پاکستان کی بنیادیں اسلام کے نام پر قائم ہیں اس لئے حق کی آواز بن جاؤ۔یہی وجہ ہے کہ میں ترقی نہیں کرتا کیوں کہ میرے بچوں کی محدود سوچ نے میرے قدم جھکڑ لئے ہیں انکی محدود سوچ نے محنت کو شرمندگی اور صرف میڈیسن کی ایک ڈگری کو فخر بنا دیا ہے۔میں تب تک ترقی نہیں کر سکوں گا جب تک میری چار دیواریوں میں موجود ہر پیشہ کو ہر شعبے کو عزت نہیں مل جاتی۔میرا دل دکھتا ہے جب یہ لوگ آپس میں سیاسی جماعتوں کے لئے گتھم گتھا ہو جاتے ہیں میرے لئے تو کوئی بھی آواز نہیں اٹھاتا۔مجھے ڈاکٹرؤں کی ضرورت نہیں ہے اچھے اساتذہ کی ضرورت ہے جو میرے بچوں کی ذہنی پرورش کر سکے جو انکو متحد کر دے جو انکو حق کے لئے بولنا سکھا دے جو ان میں شعور پیدا کر دے انکی سوچ تخلیقی بنا دے۔میرا بانی صرف تعلیم یافتہ تھا وه ڈاکٹر نہیں تھا مگر اسکی اعلی سوچ نے مجھے زمین کے ایک ٹکڑے سے الگ پہچان دے دی۔انکو لگتا ہے کہ یہ سب خفا ہو کر جا رہے ہیں تو میں ان سے خوش ہوں نہیں میں بھی سب سے خفا ہوں۔میرا وجود لرز جاتا ہے جب یہ گھر بیٹھے میری سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کو باتیں کرتے ہیں۔مگر میں خاموش ہوں کیوں کہ میں اب بھی کسی جنّاح کا منتظر ہوں جو سب کو جوڑ دے ایک کر دے اور بتا دے علم میں ترقی پوشیدہ ہے۔
ہاں میں پاکستان کسی جنّاح کا منتظر ہوں اپنی بقاه کے لئے اور کشمیر کی آزادی کے لئے۔