زندگی سسكی سے شروع ہو کر ہچکی پر ختم ہونے والا مختصرترین سفر ہےاور اس سفر پر رواں دواں انسان لمحہ لمحہ اس سفر کی طوالت کی خواہش کرتا ہے اور اس سفر کو خوبصورت اور پرسکون بنانے کے لئے دن رات میں فرق بھی بھول جاتا ہے اور اس سفر کو ہمیشہ جاری رکھنے کی خواہش میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور بے شک زندگی رب کائنات کا دیا ہوا ایسا قیمتی اور خوبصورت تحفہ ہے جسکا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔
اس مختصر سفر کے دوران کبھی انسان کا سامنا پھولوں کی طرح مہکتی ہوئی خوشیوں سے ہوتا ہے تو کبھی اسکو اس سفر میں کانٹوں کی طرح بکھرے ہوئے دکھ ملتے ہیں جن سے سامنے کے بعد انسان تکلیف اور اذیت سے دو چار ہو جاتا ہے گو کہ پھولوں کی طرح مہکتی خوشیاں ہوں یا کانٹوں کی طرح بکھرے دکھ دونوں ہی زندگی کے ایسے لوازمات ہیں کہ ان کے بغیر زندگی بے رونق بے ذائقہ اور ادھوری محسوس ہوتی ہے لیکن بعض اوقات کچھ ناکامیاں اور دکھ انسان کو مایوسی کے کھونٹے سے اتنی مظبوطی سے باندھ دیتے ہیں کہ وه انسان جو کبھی اپنی زندگی کو خوبصورت اور اور پر سکوں بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیتا ہے وہی انسان ذہنی عارضے میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی ختم کرنے کی تدابیر کرنے لگتا ہے اور پھر ایک روز اسکا شکست خوردہ وجود درخت کی شاخوں کے ساتھ جھولتا ہوا تو کبھی تاریک کمرے میں پنکھے سے لٹکا ہوا یا بستر پر بے سدھ پڑا ہوا ملتا ہے اور اس کے اس عمل کو یہ بے رحم معاشرہ خودکشی کا نام دے دیتا ہے۔
ہر مذہب ہر معاشرہ خودکشی کو ایک برا عمل تصور کرتا ہے مختلف معاشرے اور مذاهب مختلف انداز میں ایسے واقعات پر مختلف طرح سے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں کبھی افسوس کرتے ہیں تو کبھی خودکشی جیسے قبیح عمل کو قابل ستائش قرار دے دیتے ہیں مگر اس عمل کو روکنے کیلئے کوئی بھی آواز بلند نہیں کرتا مایوسی اور بے بسی کی وه کونسی سطح ہوتی ہوگی کہ ایک انسان جو لمبی زندگی کی خواہش رکھتا ہے خود موت کو گلے لگا لیتا ہے کیا ہر خود کشی کی وجہ ذہنی عارضہ ہوتی ہے یا معاشرے کی بے رحمی اور بے حسی ؟؟؟ایک رپورٹ کے مطابق ہر چالیس سیکنڈ میں ایک موت کی وجہ خودکشی ہوتی ہے تو کیا ہر دوسرا انسان ذہنی مریض ہے ؟؟نہیں در حقیقت خودکشی کی وجہ مذہب سے دوری ہے اور ایک ہمارا بے حس معاشرہ ہے جو کامیاب انسان کو تو قبول کر لیتا ہے مگر اسی کامیاب انسان کو ایک معمولی ناکامی کے ساتھ قبول کرنے کا روادار نہیں ہوتا اور پھر وه انسان اسی خوف سے کے لوگ اسے کیا کہیں گے موت کو گلے لگا لیتا ہے۔ہم انسان ایک دوسرے کو اتنی گنجائش نہیں دیتے کہ ایک انسان اپنی ناکامی کے ساتھ بھی پر وقار زندگی گزارے جیسے وه اپنی کامیابی کے ہمراہ ایک پر سکوں زندگی گزار رہا ہوتا ہے اس معاشرے کے سوالات سے فرار ہونے کے لئے انسان خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی زندگی ختم کر لیتا ہے اور یہ معاشرہ اسکی موت کو خودکشی کا نام دے کر بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ خودکشی کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب اس نے رواج کی صورت اختیار کر لی ہے اور خودکشی کرنے والوں میں سب سے بڑی تعداد مردوں کی کامیاب لوگوں کی اور طالب علموں کی ہے۔اگر روزانہ رپورٹ ہونے والے خود کشی کے واقعات کی مکمل پڑتال کی جائے تو معلوم ہو گا کہ ہر خودکشی خودکشی نہیں ہوتی بلکہ ایک خاموش قتل ہوتا ہے جو ہم سب مل کر ایک انسان کا کرتے ہیں ہم انسان کو مايوسی کی اس سطح پر لے آتے ہیں کہ وه انسان دوبارہ کوشش کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتا اور یوں وه انسان معاشرہ کی بےحسی پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں ہمارے معاشرے کی بے حسی پر اتنے سوالیہ نشان جمع ہو گئے ہیں کہ اب انکے جواب تلاش کرنا ناگزیر ہو چکے ہیں۔ہر سال کتنے ہی طالب علم امتحان میں چند نمبر کم آنے پر مایوس ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں آج ہر دوسرا طالب علم ڈپریشن کا شکار ہے اسکا قصور وار ہمارا مفلوج نظام تعلیم نہیں ہے جس پر ہر دوسرا انسان تحاریر لکھتا اور تقارير کرتا دکھائی دیتا ہے در حقیقت طالب علموں کی خودکشی کے پیچھے مفلوج نظام تعلیم نہیں بلکہ آج کے والدین اور استاد ہیں جنہوں مل کر طالب علموں کو گریڈذ اور مارکس کی ایسی ريس میں لگا دیا ہے کہ اس ريس میں بھاگتے بھاگتے طالب علم دین اور قرآن کو بہت پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور پھر اس ريس میں ناکامی پر موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔طالب علموں میں خودکشی کا یہ رجحان سب سے زیادہ زہین طلبہ میں پایا جاتا ہے کیوں کہ ہم اپنے بچوں کو صرف جیتنا سکھاتے ہیں ہم انکو ناکامی کا سامنا کرنا نہیں سیكهاتے اور ایک معمولی ناکامی ایک زندگی لے لیتی ہے اور ہم نظام تعلیم کو ان اموات کی ذمہ داری سونپ کر خود راہ فرار حاصل کر لیتے ہیں۔خودکشی کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد کامیاب فلمی ستاروں کی بھی ہے حال ہی میں ایک مشہور و معروف اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے اپنے چند مسائل سے فرار حاصل کرنے کے لئے موت کو گلے لگا لیا۔کتنے ہی لوگ گھریلو ناچاکیوں کی وجہ سے اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں گو کہ آج کے انسان کو اپنے ہر مسلے کا واحد حل خودکشی میں نظر آنے لگا ہے اور خود کشی ایک بیماری کی طرح ہمارے معاشرے میں مضبوطی سے پنجھے گاڑھ چکی ہے کیوں کہ ہم لوگ ایک انسان کو بے موت مرنے کی اجازت تو دے سکتے ہیں مگر اسکو غلطی سدھارنے کی اجازت نہیں دے سکتےکیوں کہ وہ انسان جو غلطی پر ہو ہم اسے اپنے خاندان کیلئے شرمندگی سمجھتے ہیں اور اسے اس حد تک لے کر آتے ہیں کہ وه موت کو گلے لگا لیتا ہے۔آج کے والدین نے بچوں کو حالات و واقعات سے اور ناکامیوں سے ڈرا کر ڈپریشن کا مریض بنا دیا ہے۔ہمارے ہاں یہ ایک عام رواج بن چکا ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو نصیحت کرنے کی بجائے ڈرانے کی ذمہ داری لے لی ہے کسی زمانے میں بچے غلطیوں سے سبق حاصل کرتے تھے مگر آج کے بچے اپنی پہلی غلطی کے ساتھ آخری سانس بھرتے ہیں اور والدین کو انکی عزت کی پٹاری تھما کر خود آنکھیں موند لیتے ہیں ہم نے اپنے بچوں کے لئے اپنے جیسے جیتے جاگتے انسانوں کے لئے غلطی اور اصلاح کے درمیان خودکشی کے علاوہ کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔ایک وقت تھا کہ ناکامی کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قرار دیا جاتا تھا لیکن آج کے انسان نےناکامی کو موت کی پہلی سیڑھی قرار دے دیا ہے۔ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم غلطی کے بعد آنے والے نتائج پر تو بحث کرتے ہیں مگر غلطی کو سدھارنےکا ذکر بھی نہیں کرتے۔ہم نے دوسروں پر طنزیہ تبصرے کرنے کو وطیرہ بنا کر لوگوں کو تنہائی کا شکار کر دیا ہے آج کا انسان اپنی باتیں اپنے مسلے دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے کترانے لگا ہے۔خودکشی جیسے قبیح عمل کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کو انکی زندگی انکی مرضی سے جینے کا حق دیں ہم اپنے بچوں کو چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر شکر گزار ہونا اور بڑی بڑی ناکامیوں کو بڑے دل سے قبول کرنا اور انکا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرنا سکھائیں۔غلطی پر مایوس ہو کر انتہائی قدم اٹھانے کی بجائے غلطی کی تلافی کرنا سکھائیں۔کوئی بھی انسان مرنا نہیں چاہتا اسےطنزیہ باتیں سنا کر ناکامیوں سے ڈرا کر تنہائی کا شکار کر کے بے موت مت ماریں۔
وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى
اور بیشک (ہر) بعد کی گھڑی آپ کے لئے پہلے سے بہتر (یعنی باعثِ عظمت و رفعت) ہے
(الضُّحٰی، 93 : 4)
گو کہ برے وقت کے بعد اچھا وقت آتا ہے پھر اللّه فرماتا ہے کہ
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اور آپ کا رب عنقریب آپ کو (اتنا کچھ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے
(الضُّحٰی، 93 : 5)
زندگی ایک نعمت ہے اور نعمت کا ضیاع گناہ ہے اور مایوسی کفر ہے۔جب مایوسی حد سے سوا ہونے لگے تو قرآن کھول لیں ہر حرف امید کا جگنو بن کر آپ کی زندگی میں شامل ہو جائے گا اور اللّه اتنا عطا کر دے گا کے تم راضی ہو جاؤ گے اللّه کا انسان سے وعدہ ہے اور اللّه وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔حرام موت کو روک کر مایوسی کو ختم کر کے امید کے نئے دیے جلائیں۔
مایوسی بڑھ جائے ناکامی نا شکری پر مجبور کرے تو ان کامیابیوں اور نعمتوں کو یادکریں جو اللّه نے بن مانگے عطا کر دیں۔
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
اور اپنے رب کی نعمتوں کا (خوب) تذکرہ کریں
(الضُّحٰی، 93 : 11)
شکر گزاری مایوسی سے بچاتی ہے اور
قرآن میں انسان کے ہر شکوے کا جواب موجود ہے اس لئے قرآن کو تھام لیں تا کہ زندگی خوبصورت اور شکووں سے پاک ہو جائے۔
881