سنہ ۱۹۴۷ء سے لے کر اب تک کئی حکومتیں آئیں اور کئی گئی ہیں کسی حکومت نے عوام کو بجلی پانی گیس کی یقین دہانی کرائی تو کسی روٹی اور کپڑے کی مگر ایک نئی سیاسی جماعت بھی آئی جس نے انصاف عدل احتساب کی یقین دہانی کروائی جس نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان کو ریاست مدینہ میں تبدیل کر دینے کا اعلان کیا تھا مگر پاکستان میں تو کچھ بھی نہیں بدلا احتساب ہو رہا ہے سیاسی جماعتوں کا انصاف مل رہا ہے سیاسی جماعتوں کو مگر عام عوام وہ ابھی بھی انصاف کے لئے کورٹ کچہریوں کے چکر کاٹتی ہے۔نئے پاکستان میں بھی ریپ ہوتے ہیں تو مجرم آزاد گھومتے ہیں اور مظلوم شرمندہ سر جھکائے تفتیشی افسران کے سوالوں کے جواب دے رہا ہوتا ہے اور پھر کوئی سی سی پی او صاحب اٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ جی ٹی روڈ سے سفر کر لیتی عورت پیٹرول دیکھ لیتی بھائی انصاف نہیں کرنا تو صاف منع کر دیا کرو عورت کو یوں پوری دنیا کے سامنے متنازع بیان دے کر غلط کیوں کہتے ہو؟؟یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور مجرم آزاد فضا میں گھومتا ہے اور نیا شکار تلاش کرتا ہے اور ہمارے چند دانش ور عورت کے لئے نیا سوال نامہ تیار کرتے ہیں کہ تنگ لباس کیوں پہنتی ہو ایسے چلتی کیوں ہو اور مزید اس طرح کے کئی سوال جو عورت کو ذہنی طور پر پریشان کرنے کو کافی ہوتے ہیں کیا ان مردوں نے قرآن کی یہ آیت نہیں سن رکھی؟؟؟
سورۃ اعراف آیت 26 يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ [٧:٢٦] ”اے اولاد آدم، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں “
اس آیت مبارک سے واضح ہوا کہ جینز پہننا ٹی شرٹس پہننا شارٹس پہننا نا تو مردوں کے لئے جائز ہے اور نا ہی عورتوں کے لئے اس لئے مرد جو خود ایسا لباس پہنتے ہوں جن سے ان کی ستر پوشی نا ہو وه عورتوں پر تنقید نہیں کر سکتے۔اسی طرح مرد خود عورت کے سراپے پر نظر ڈالنے سے باز نہیں آتے جبکہ انکو لپسٹک لگانے سے اور باقی بناؤ سنگھار سے منع کرتے ہیں کیونکہ انکے مطابق عورتیں انکی توجہ اپنی جانب مبزول كرواتی ہیں اور اس طرح ہر ریپ کے پیچھے عورت کی اپنی غلطی ہوتی ہے جبکہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ
سورۃ نور آیت 30 قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ [٢٤:٣٠] ”اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے“
گو کہ اس آیت کے مطابق مومن مردوں کی نظر انکی اپنی ذمہ داری ہے عورتوں کی نہیں اس لئے مجرم کو چھوڑ کر صرف عورت پر فتویٰ لگا دینا ریپ کیسز کا حل نہیں ہے سی سی پی او صاحب کے ایک متنا زع بیان نے پورے معاملے کو مشکوک بنا دیا اور اس ایک گینگ ریپ کے بعد پے در پے کئی کیس آئے۔موٹروے کیس کو تو مردوں نے مل کر عورت کی غلطی ٹھہرا دیا مگر وه عورت جسے اسکے گھر میں آ کر ریپ کر دیا گیا اسکا ذمہ دار کون؟؟؟لائبہ بچی کو اسکے باپ نے بازیاب کروایا اسکا ذمہ دار کون؟؟؟فیصل آباد میں سات سال کے بچے کا ریپ ہوا اسکو انصاف کون دے گا؟؟
کیا ریاست مدینہ ایسی ہوتی ہے جہاں انصاف کے لئے ٹویٹر پر ٹرینڈ چلانا پڑیں؟؟جہاں ریپ کرنے والے کو بچانے کے لئے وکیل مل جائیں جہاں معاملے کو مشکوک بنا کر رفع دفع کر دیا جائے؟جہاں مجرموں کو پکڑنے کے لئے پولیس کو عوام سے مدد طلب کرنا پڑ جائے جہاں عورت کو انصاف کے لئے سڑکوں پر نکلنا پڑ جائے۔ریاست مدینہ میں انصاف کے لئے یوں در در بهٹکنا نہیں پڑتا تھا وہاں زناہ کی سزا شریعت کے مطابق دی جاتی تھی وہاں ظالم شرمندہ ہوتا تھا مظلوم نہیں۔خدارا اپنی قوم کی بیٹیوں کو بہنوں کو ماؤں کو عزت دیں ان سے یوں سوال جواب کر کے انھیں شرمنده نہ کریں یہ نہ ہو کہ اس قوم کی مائیں بیٹے اس قوم کی بہنیں بھائی مانگنا چھوڑ دیں۔عورت کو گالیاں نہیں تحفظ دیں۔