697

 زنجیر

زنجیر میں جکڑا ہوا جانور بہت ہی بے بس ہوتا ہے وہ نہ تواپنی مرضی سے چراگاہوں میں جاسکتا ہے نا اپنی مرضی سے کھا سکتا ہے وہ اپنے مالک کے تابع زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے اور تب تک مجبور رہتا ہے جب  تک زنجیر سے آزاد ہونے  کے لیے ہاتھ پاؤں نہیں مارتا یوں وقت گزرنے  کے ساتھ ساتھ وہ جانور ذہنی طور پر غلام بن جاتا ہے پھر اس کا مالک اس کو زنجیر سے آزاد کر بھی دے تو وہ آگے نہیں بڑھتا بلکہ وہیں  کھونٹے سے لگا کھڑا رہتا ہے 21 ویں صدی کا ترقی یافتہ انسان بھی تین لفظی جملے  لوگ کیا کہیں گے؟؟؟ کی آہنی اور مضبوط زنجیر میں جکڑا ہوا ہے تین لفظوں پر مشتمل اس جملے کا جادو ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے انسان کے سر چڑھ کر بولتا ہے ہمارے شب و روز ز ہماری تمام سرگرمیاں حتیٰ کہ ہماری سوچ بھی اس جملے کی غلام ہے زمانے بیت گئے مگر ابن آدم اس آہنی زنجیر کو نہ توڑ سکا انسان مہد سے سے لحد میں میں اتر جاتا ہے مگر تمام زندگی اس جملے کے سحر سے نہیں نکل پاتا انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے آس پاس لوگ کیا کہیں گے کی تکرار شروع ہوجاتی ہے ارے بھئی بچے کو اچھا پہناؤ اچھا کھلاؤ اچھا بولنا سکھاؤ ورنہ لوگ کیا کہیں گے؟؟ تمہارا بچہ پنجابی بولتا ہےبھئی اس کو اردو  یا انگریزی سکھاؤ پڑھے لکھے والدین ہو تم لوگ ورنہ دیکھنے والے سو سو باتیں کریں گے یہ وہ جملے ہیں جو ہم روزانہ سنتے ہیں کبھی اپنے لیے کبھی دوسروں کے لئے اور کبھی ہم خود یہ جملے بول رہے ہوتے ہیں گو کہ ہر انسان کی زندگی اسی ایک جملے کے گرد گھوم رہی ہے  ہمارے ہاں بچے کو کچھ بھی اس کے لئے نہیں سکھایا جاتا  بلکہ صرف لوگوں کو خوش کرنے کے لئے سکھایا جاتا ہے بچہ انگریزی میں گالی دے اردو میں بدتمیزی کرے تو کہا جاتا ہے ہاو کیوٹ مگر ایک بچہ پنجابی میں احترام سے بھی بات کر لے تو اس کو والدین   کی نا اہلی قرار دے دیا جاتا ہے گو کہ ہمارے ہاں تہذیب کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہمارے ہاں ضروری یہ ہے کہ لوگ کیا کہتے ہیں جبکہ لوگ صرف یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟؟؟ اس سب میں انسان کی اپنی زندگی کہیں دور بےبس اور اداس  کھڑی رہ جاتی ہے  یوں ہر طبقے کے والدین اپنی اولاد کو اس تین لفظی جملے کی زنجیر سے سے جکڑ دیتے ہیں۔ بچے کا اسکول شروع ہوتا ہے تو والدین اس کے لئے پہلا حکم نامہ جاری کر دیتے ہیں کہ بیٹا پہلی پوزیشن لے کر آنا اور اگر بچہ پہلی پوزیشن نہ حاصل کر سکے تو والدین اس بچے کو صرف لوگوں کے ڈر سے نااہل قرار دے دیتے ہیں اٹھتے بیٹھتےاس بچے کے سامنے ایک ہی تکرار کی جاتی ہے کہ اگر تم نے پوزیشن نہ لی اگر تم نے اچھے نمبر نہ لیے اگر تم نے ٹاپ نہ کیا تو لوگ ہمیں کیا کہیں گے؟؟؟ اگر تم ڈاکٹر نہ بنے تو لوگ ہمیں کیا کہیں گے؟؟؟اور یوں وہ بچہ ڈپریشن جسے ذہنی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے کیوں اسے اسکی خوشی کو تو اہمیت ہی نہیں دی جا رہی ہوتی صرف اسکو یہی بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ اگر وہ یہ نا کر سکا تو لوگ اسکو نارمل انسان کے طور پر قبول ہی نہیں کریں گے۔  یہ ایک گھر کی کہانی نہیں ہے یہ پورے پاکستان کی کہانی ہے آپ تمام اسکولوں کا تمام کالجز کا سروے کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس قوم کا بیٹا ہو یا بیٹی کوئی بھی استاد نہیں بننا چاہتا ہر بچے کو  ڈاکٹر بننا ہے انجینئر بننا ہے  پائلٹ بننا ہے کیوں بننا ہے؟؟ افسوس یہ کسی کو بھی معلوم  نہیں۔شعبہ تدریس سے  ہم مکمل بائیکاٹ کر چکے ہیں آج بس وہی اس شعبہ میں آتا ہے جو بلکل ناکام ہو جاتا ہے  اور ڈاکٹر نہیں بن پاتا ۔شعبہ تدریس سے  بائیکاٹ کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں نمبر ایک یا تو ہم مریض ہیں اور ہمیں صرف ڈاکٹروں کی ضرورت ہے  یاپھر ہم  بہت تعلیم یافتہ ہیں اور ہمارے پاس بہت علم ہے  کہ ہمیں اچھے اساتذہ کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ یہاں قصوروار صرف والدین نہیں ہیں بلکہ  اساتذہ بھی ہیں جنہوں نے بچوں کو  یہ بات باور کروا  دی ہے کہ ان کی کامیابی صرف اور صرف طب کے شعبہ میں یا  انجینئرنگ کے شعبہ میں پنہاں ہے گو کہ والدین اور اساتذہ نے مل کر شعبہ تدریس کو طالب علموں کے لئے شرمندگی بنا دیا ہے۔ہر سال کتنے ہی لڑکے اور لڑکیاں میڈیکل کالج میں داخلہ نا ہونے پر دل برداشتہ ہو کر موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور پھر والدین اور استاد دونوں ہی اسکا الزام نظام تعلیم پر ڈال دیتے ہیں ان بڑھتی ہوئی اموات کی وجہ نظام تعلیم نہیں ہے  بلکہ والدین اور استاد ہیں جن کی  محدود سوچ نے بچوں کے پاس کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں چھوڑا ہوتا بھئی  کیسے چھوڑ دیں دوسرا آپشن خدا نا کرے  اگر بچے ڈاکٹر نا بنے تو لوگ کیا کہیں گے؟؟؟ہم کیا جواب دیں گے کہ ہمارے بچے سے یہ مشکل ٹیسٹ نہیں پاس ہو سکا؟؟ چلو اگر خودکشی کرلی تو اچھا ہے ہم شرمندہ تو نہیں ہوں گے نا کہ ہمارے بچے ڈاکٹر نہیں بن سکے پھر اس جملے کی تکرار رکتی نہیں ہے بچہ اچھا پڑھ لکھ کر قابل بن گیا اب اسکو اچھی تنخواہ  والی نوکری چاہیے پھر  اگر اچھی تنخواہ والی نوکری نہیں ملتی تو کم تنخواہ والی ہم نہیں کریں گے کیوں کہ اگر ہم نے کم تنخواہ والی نوکری کر لی تو لوگ کہیں گے اتنا پڑھ لکھ کر بھی یہی کام کرنا تھا اتنا پیسہ ہی لینا تھا تو اتنا مشکل پڑھنے کا کیا فائدہ؟؟؟پھر یہی لوگ بیروزگاری کا رونا روتے ہیں اور حکومت کو کوستے نظر آتے ہیں بےروزگاری کی ذمدار حکومت نہیں ہماری سوچ ہے کہ اگر ہم چھوٹی نوکری کر لیں گے تو لوگ ہمیں باتیں کریں گے اس لئے ہم بےروز گار رہنا تو پسند کر لیتے ہیں مگر حلال کی کم کمائی کو شرمندگی سمجھتے ہیں تو قصوارکون ہے ہم یا حکومت ؟؟؟یقیناً ہم ہیں قصور۔ایسے ہی لیبرل لوگ اور متوسط لوگ ساری زندگی دوسروں کو راضی رکھنے میں گزار دیتے ہیں ۔لیبرل لوگ حجاب نہیں کریں گے اور متوسط طبقہ کے لوگ بے حجاب نہیں ہوتے صرف اس  ڈر سے کہ لوگ کیا کہیں گے؟؟؟؟اور اسی کشمکش میں کہ لوگ کیا کہیں گے؟؟؟ایک دن زندگی کی شام ہو جاتی ہے اور انسان منوں مٹی تلے جا سوتا ہے مگر وہ مرتے دم تک اس زنجیر سے رہائی حاصل نہیں کر پاتا اور اسکے لوا حقین اسکی تدفین کے بعد کہہ رہے ہوتے ہیں کہ کھانا کھلا دو مہمانوں کو دیر ہو گئی تو لوگ کیا کہیں گے؟؟؟؟گو کہ انسان کی زندگی کا آغاز اور اختتام اسی ایک جملے پر ہوتا ہے اور یہ زنجیر اسکو کبھی خود کے لئے جینے نہیں دیتی۔

سورۃ الروم آیت نمبر 7 میں اللہ فرماتا ہے کہ 

" وہ دنیاوی زندگی زندگی کے صرف ظاہری رخ کو جانتے ہیں اور آخرت کے بارے میں ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس سے بالکل غافل ہیں"

یہ آیت ایکسویں صدی کے انسان کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ صرف دنیا کی کامیابی کو اصل کامیابی سمجھ کر اپنے شب و روز لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش میں گزار دیتے ہیں اور کچھ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے نہیں کرتے اچھائی کرتے ہیں تو دنیا کی خوشی کے لئے اور برائی سے رک جاتے ہیں تو دنیا کے ڈر سے ہمیں تو دین اور دنیا دونوں کی کامیابی کیلئے کوشش کرنے کو کہا گیا ہے جبکہ ہم لوگ دین کو اپنی زندگی سے نکال چکے ہیں ہمارا دین صرف مسجد تک محدود ہو گیا ہے۔ 

ذرا سوچئے کہ آپ نے اب تک اپنی زندگی کے کتنے سال کتنے مہینے کتنے دن اپنے لئے اور اللہ کے لئے جئے ہیں ؟؟

یہ زندگی آپ کی ہے اور آپ کو اللہ نے حق دیا ہے کہ اسکو آپ اپنی مرضی سے اللہ کے بتاے ہوۓ احکامات کے مطابق گزاریں ۔

خدارا اس ڈپریشن سے نکلیں کہ لوگ کیا کہیں گے ؟؟؟اس زنجیر کو توڑ کر آزاد ہو کر اپنے لئے اللہ کے لئے جینا سیکھیں یقیناً کامیابی کیلئے آپ کو چن لیا جائے گا۔

سورۃ البقرہ آیت نمبر 152 میں اللہ فرماتا ہے کہ

" پس مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا گا اور میرا شکر کرو اور ناشکری نہ کرو"

اور جو انسان شکر سیکھ لیتاہے اسکی نعمت کو بڑھا دیا جاتا ہے اسکی زندگی کو آسان بنا دیا جاتا ہے۔لوگ کیا کہیں گے؟؟؟اس  زنجیر سے رہائی کے لئے بھی ہمیں طریقہ بتا  دیا گیا ہے 

سورۃ الھود آیت نمبر 88  اللہ فرماتا ہے کہ

" کہہ دو میری کامیابی اللہ کی طرف سے ہے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں"

ہم نے دانستہ طور پر اپنی زندگی مشکل بنا لی ہے خدارا قرآن کو تھام لیں اور اس ڈپریشن والی زندگی کو ہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہہ کر اپنی نئی زندگی شروع کریں آسان اور خوبصورت زندگی آپ کی منتظر ہے اللہ کی اس نعمت کو لوگوں کے ڈر سے ضایع مت کریں۔

بشکریہ اردو کالمز