میں ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہی ہوں جسکی فضا جنسی آلودگی سے ناپاک ہو چکی ہے جہاں ہر طرف ہوس کی آگ بھڑک رہی ہے جہاں انسانوں کے بهيس میں درندے دندناتے پھرتے ہیں جہاں روزانہ کتنی ہی پھولوں جیسی بچیاں اس ہوس کی آگ میں جل کر بهسم ہو جاتی ہیں کتنی ہی مائیں اپنی ننھی کلیوں کو بے آبرو دیکھ کر تڑپ جاتی ہیں کتنے ہی بھائی اور باپ اس نعش کو دفن کرتے وقت مرتے ہیں۔صرف بچیاں ہی نہیں بچے بھی اس ہوس سے محفوظ نہیں رہے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آج کے زمانے میں بچے کی محفوظ پناہ گاہ صرف ماں کی کوکھ ہے ورنہ یہ دنیا کب موت کا گڑھ بن جائے کچھ پتا نہیں۔حال ہی میں ایک اور زینب جسکا نام "ماوراه"ہے کراچی کی رہائشی جنسی تشدد کا شکار ہونے کے بعد اپنا جلا ہوا وجود والدین کو دے کر وادی برزخ میں جا بسی اور نجانے ابھی کتنی ماوراہ جنسی تشدد کا شکار ہوں گی اور کتنے والدین مظلوم ہونے کے باوجود انصاف کی بھیک مانگتے پھریں گے۔افسوس نا ہماری بیٹیاں مدارس میں محفوظ ہیں نہ بازاروں میں محفوظ ہیں نہ سسرال میں محفوظ ہیں کتنا ہی اچھا ہو اگر ہم پھر سے بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی رسم شروع کر دیں کم از کم والدین کو معاشرہ سکون سے جینے دے گا کم از کم وه اس اذیت سے بچ جائیں گے جو انھیں اپنی بیٹیوں کو بے آبرو دیکھ کر ہوتی ہے۔کب تک ہم اپنی بیٹیوں کے لئے انصاف مانگنے کے لئے "ہیش ٹیگ جسٹس" کا استعمال کریں گے؟؟؟انصاف بانٹنے والو اٹھو جاگو اور دیکھو آج لوگ ایک اور زینب کے لئے تم سے انصاف مانگ رہے ہیں اب کہاں جا سوئے ہو؟؟۔ہر سال ہی کوئی ایسا کیس رپورٹ ہوتا ہے جو سوشل میڈیا پر زیر بحث آتا ہے وہی مرد جو عورت کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتا ہے وہی عورت کو لباس پے درس دے رہا ہوتا ہے کہ اپنے جسم کی نمائش نہ کرو تو ایسا نہ ہو وہی مرد بیٹھ کر ماؤں کو قصوروار ٹھہرا رہا ہوتا ہے کہ بچی کو سلیولیس پہناتی ہیں اس لئے ایسے کیس آتے ہیں۔میرا سوال یہ ہے وه بچی جسکو ابھی ا ب پ ٹھیک سے نہیں آتی جسکو جنسی تشدد اس سب سے متعلق علم ہی نہیں ہے اسکو آپ کیسے قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں؟؟چھوٹی بچی اپنے جسم کی نمائش کیسے کر سکتی ہے؟؟چلیں کچھ دیر کے لئے مان لیا کہ کرتی ہے مگر لڑکے وه کیوں جنسی تشدد کا شکار ہو رہے ہیں کیا وه بھی نمائش کرتے ہیں؟؟؟ہمیشہ جنسی تشدد کے شکار ہونے والے خاندان کو اور معاشرہ کی بیٹیوں کو ہی کیوں یہ کہا جاتا ہے لباس ایسا پہن لو بچیوں کو گھر میں رکھو بچوں کو اس سے متعلق بتاؤ کیا بتائیں ہم اپنے نا بالغ بچوں کو؟؟؟انکے معصوم ازهان میں ابھی سے جنسی عوامل سے متعلق باتیں ڈال دیں اور ان جنسی پاگلوں کو سمجھانے اور پوچھنے والا کوئی بھی نہیں ہے؟؟کوئی ایک منصف بھی نہیں ہے جو مجرم کو گردن سے دبوچ کر پوچھے کے اس نے ایسا کیوں کیا؟؟کب تک ہم اپنی ماؤں کو اپنے لباس کو اپنے جسم کو قصوروار ٹھہراتے رہیں گے؟؟آخر کب تک ؟؟؟کوئی تو ہو جو مجرم کو تختہ دار تک لے جا کر عبرت کا نشان بنا دے کہ غلط ہمیشہ عورت نہیں ہوتی غلط مرد بھی ہوتے ہیں غلط لباس نہیں ہوتے غلط ہمارے ازهان بھی ہوتے ہیں۔
779