765

ہم اندھے بہرے گونگے لوگ

 

ہم لوگ خود کوآئینے میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایسے انسان ہیں جو بیک وقت  بینائی، سماعت اور گویائی جیسی نعمتیں رکھنے کے باوجود بھی ان تینوں نعمتوں سے محروم ہیں کیوں کہ ہم لوگ برائی دیکھ کر یوں آنکھیں میچ لیتے ہیں گویا ہم اندھے ہوں مظلوم عوام کی چیخ و پکار پر اپنے کان یوں بند کر لیتے ہیں جیسے ہم پیدائشی بہرے ہوں اور اپنی نظروں کے سامنے ہوتے ظلم کو دیکھ کر زباں پر خاموشی کے قفل ایسے لگاتے ہیں جیسے خالق کائنات نے ہمارے بولنے کی صلاحیت سلب کر کے ہمیں گونگا کر دیا ہو۔آج برما،فلسطین اور کشمیر کے مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں وہ مدد کو پکار رہے ہیں مگر ہم تو ٹھہرے اندھے بہرے گونگے لوگ ہم پر تو ان مظلوم مسلمانوں کی آہ و بكاہ کا ذرا اثر نہیں ہوتا ہم لوگ ظالموں کے ظلم پرافسوس کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے مسلمان ہونے کا حق ادا کر دیا

اللّه تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا۔

"اے موسیٰ اب اس نا فرمان قوم پ افسوس نہ کرنا"(سورت انعام،۵:آیت ٢٦)

یعنی کے اللّه تبارك تعالیٰ نے خود ظالم پر افسوس کرنے سے منع کر دیا ہے اور اگر دیکھا جائے تو ظلم پر خاموشی اختیار کر کے ہم بھی ظالموں میں شامل ہو جاتے ہیں کیوں کہ ہمارے دین نے ہم پر یہ بات آج سے چودہ سو سال پہلے واضح کر دی تھی۔اس ضمن  میں حضرت محمّد صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

"لوگ جب ظالم کو ظلم کرتا دیکھیں،اور اسکے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللّه سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے" (سنن ابی داؤد،حدیث نمبر ۴٣٣٧صحیح)

اس حدیث مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ ظلم پر خاموش تماشائی بن جانا اللّه کو سخت نا پسند ہے۔فلسطین میں ہونے والا ظلم ہو یا کشمیر میں ہونے والی خون ریزیاں آج کا مسلمان ایک خاموش تماشائی بنا کسی آفاقی معجزہ کے انتظار میں ہے کسی محمّد بن قاسم تو کسی ارطغرل غازی کے انتظار میں ہے مگر خود کچھ نہیں کرنا چاہتا۔وہ مسلمان جو کبھی ثالثی کی حثیت رکھتا تھا اب ایک تماشائی بن چکا ہے۔ہمارے اپنے ملک میں ظلم عروج پر ہے چھوٹے بچوں کے ساتھ مبینہ طور پر زيادتی کے روزانہ کتنے ہی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور کتنے ہی پوشیدہ ره جاتے ہیں۔کتنی ہی بچیوں کو محبّت کے نام پر بے آبرو کیا جاتا ہے اور کتنی ہی بچیوں کے ساتھ مبینہ طور پر زيادتی کر کے ویڈیوبنا کر انٹر نیٹ پر وائرل کر دی جاتی ہے اور سونے پر سوہاگہ کے ہم لوگ اسی خاندان پر طعنے کس رہے ہوتے جسکے ساتھ ظلم ہوا ہوتا ہے شاید ہمیں عادت ہو چکی ہے ظالم کا سہارا بننے کی۔ہم سب ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ظالم سر اٹھا کر جبکہ مظلوم سر جھکا کر جیتا ہے۔شایدآج  کے مسلمان کے لئے ہی علامہ اقبال نے کہا تھا کہ 

گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے 

ہچکچا گیا میں خود کو مسلمان کہتے کہتے 

اور اسی وجہ سے ہمارے ہاں بہت سے خاندان بدنامی کے خوف سے کیس واپس لے لیتے ہیں تو کچھ خاندان گواہ نا ملنے کی وجہ سے کیس واپس لے لیتے ہیں اس پر ظلم کی حد کہ اگر ظالم طاقتور و دولت مند ہو تو وہ قانون بھی خرید لیتا ہے گواہ بھی اور طب کا شعبہ بھی تو کبھی وه خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر کیس واپس لینے پر مجبور کر دیتا ہےچنانچہ وه خاندان کیس واپس لے لیتا ہے اور پھر لوگ اسی خاندان کو مجرم قرار دے دیتے ہیں کہ انکی غلطی تھی تبھی کیس واپس لیا یوں ہمیشہ کی طرح ظالم سر خرو اور مظلوم شرمندہ ہو جاتا ہے اور ہمارے اس طرح کے معاشرتی رویے سے ظلم کو مزید تقویت ملتی ہے کیوں کہ ہم دوسروں کوطعنےدےکر باتیں سنا کر بدنام کر کے ظلم سہنےپرمجبور کرتے ہیں ہمیں مظلوم ظالم اور ظالم مظلوم دکھائی دیتا ہے کیوں کہ ہم وہی دیکھتےہیں جو ہمیں دوسرے دکھاتے ہیں وہی سنتے ہیں جو ہمیں سننے کا کہا جاتا ہے اور ہم وہی بولتے ہیں جسکا ہمیں کہا جا رہا ہوتا ہے گو کہ ہم حقیقت سے بہت دور جی رہے ہیں اور  ہماری ان عادات کی وجہ سے ظلم سہنے والا ظلم سہہ کر ظالم کا مدد گار ثابت ہوتا ہےاگر ہم اب بھی اندھوں کی طرح ہر غلط بات کو صحیح اور ظلم کو ظالم کا حق سمجھتے رہے تو ہم بھی عذاب کے حقدار ٹھہرا دیے جائیں گے۔آج ہمارے پاس ظلم کے خلاف تلوار سے زیادہ تیز دھار اور خنجر سے ذیادہ نوکیلا ہتھیار موجود ہے جسکا نام "سوشل میڈیا"ہےاگر ہم اسکے ذریعے زینب کو انصاف دلوا سکتے ہیں تو کشمیر میں ہونے والے ظلم کے لیے آواز بھی بلند کر سکتے ہیں اور  فلسطین کی پکار بھی بن سکتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں لوگ فضول گیمز کو ان بین کروانے کے لئے آٹو ای میلز تو بنا لیتے ہیں سوشل میڈیا پر کمپینز تو چلا لیتے ہیں مگر ظلم کے خلاف نہیں بولتے کہ  ہمارے ایک پوسٹ لگا دینے سے کیا ہوگامگر  وہ یہ بات نہیں سوچتے کہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اپنے گھر میں اپنے بچوں کو مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کا بتائیں انکو ظلم کے خلاف لڑنا اور حق کے لئے بولنا سکھائیں۔سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں اور کشمیر،فلسطین اور برما کے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کریں اور اگر آپکے ارد گرد کوئی ایسا واقع رونما ہوتا ہے جس پر سبکی توجہ دلوانا ضروری ہو تو اسکو سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ کرنے سے پہلے اور اس  سے متلعق تصاویر لگانے سے پہلے معاملے کی تصدیق کر لیں تا کہ غلط خبر سے کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور کسی بھی بات کو آگے پہنچانے سے پہلے اسکی تصدیق کر کے ذمہ دار پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں۔

بشکریہ اردو کالمز