آخر کار ''Forbidden Island''یا ایران کے ''Crown Jewel" کے نام سے پکارا جانے والا یہ جزیرہ امریکہ نے اپنے نشانے پر لے لیا۔ ایران اور امریکہ اسرئیل جنگ کو چودہ دن گذر چکے تھے لیکن اس ممنوعہ سمجھے جانے والے جزیرے پر حملہ کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا ۔ 8مارچ کو ایک پاکستانی صحافی سے یہ خبریں مل رہی تھیں کہ امریکہ ایران کیلئے لائف لائن سمجھے جانے والے اس جزیرے پر قبضہ کرنے کی تیاریاں مکمل کر چکا ہے جہاں بڑی بڑی آئل ریفائنریاں اور بڑے بڑے ٹینکرز کیلئے بندر گاہیں موجود ہیں لیکن پینٹاگان نے شائد اپنے پلان میں تبدیلی کرتے ہوئے صرف اسے بمباری سے تباہ کرنے پر ہی اکتفا کیا کیونکہ یہاں کچھ تعداد میں فوجیں اتاری تو جاسکتی ہیں لیکن اس پر طویل قبضہ شائد ناممکن ہو ؟ 14 مارچ کی صبح امریکہ اور اسرائیل کا اس جزیرے پر حملہ ہوا اور اب ایران ایک زخمی چیتے کی مانند ہو چکاہے ۔ اب یہ ممکن ہی نہیں کہ ایران خلیج اور عرب میں کہیں بھی تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنائے؟ خارگ جزیرے پر حملے کے بعد کے48 گھنٹے بتاسکیںگے کہ ایران کی معاشی شہہ رگ پر حملہ کرتے ہوئے اس کی تباہی سے اس جنگ کا ا ختتام ہو گا یا یہ دور تک پھیل جائے گی ‘‘ خارگ جزیرے پر امریکی حملے اورا س کے بعد ایران پر مرتب اثرات اور اس حملے کا بھر پور جواب دینے کیلئے ایرانی قیادت نے یقیناََ کوئی فیصلہ کر رکھا ہو گا اور یہ کس قسم کا ہو گا کیسے اور کہاں ہو گا اس کچھ دن اہم ہوں گے۔ خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ دنیا کو کوئی ایسی بری خبر نہ ملے کہ جس کے اثرات بنی نوع انسان کو تباہی و بربادی کے ایسے الائو میں جھونک دیں جو اگلی صدی تک محسوس کئے جاتے رہیں‘‘ اس کا انحصار اب ایران پر ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے اور وہ کہاں تک جا سکتا ہے اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ تیل پیدا کرنے اور اسے خریدنے والے کس قسم کی زندگی گذار پائیں گے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اور سپلائی کی نوعیت کتنی متاثر ہو گی؟ پرشین گلف میں واقع 25-30 کلومیٹر طویل ایران کا یہ خارگ جزیرہ کیا تیسری عالمی جنگ کی بنیاد بنے گا۔ جب سعودیہ ، کویت ،عمان، عراق اور خلیجی ریاستوں کے تیل کی عالمی سپلائی لائنز کی جانب دیکھیں تو اگر یہ جزیرہ آگ پکڑتا ہے تو تمام عرب ممالک کے تیل کی تمام پائپ لائنیں ایک نہ ختم ہونے والی آگ کے سمندر کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ۔ کل تک بہت سے دفاعی ماہرین کے علا وہ ایران بھی شائد اسی غلط فہمی کا شکار تھا کہ امریکہ خارگ کو نشانہ بنانے کی کبھی بھی ہمت یا حماقت نہیں کرے گا لیکن پاکستان کے معروف صحافی اور دوست عدنان عادل کی آٹھ مارچ کیX پر اس سٹوری کو نظر انداز کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ امریکہ خارگ کو نشانہ بنانے کی تیاریاں کر رہا ہے ۔ پھر وہی ہوا اور امریکہ نے وہی کچھ کر دکھایا جس کی امید نہیں کی جا رہی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایران امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا یا زندگی اور موت کی آخری جنگ لڑنے کیلئے اسرائیل کو اس کی سخت ترین اور کبھی نہ بھولنے والی سزا دینے کیلئے کسی ایسے ہتھیار کواستعمال کرے گا جس کے متعلق کچھ دفاعی ماہرین دبے دبے لفظوں سے ایک عرصے سے خدشات کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں؟ خارگ جزیرے پر حملے کے فوری بعد شمالی کوریا نے دس میزائل جاپانی سمندروں کی جانب ایسے ہی نہیں پھینک دیئے ۔لگتا ہے کہ اس نے امریکہ کو اشارہ دے دیا ہے کہ اگر موقع سے فائدہ اٹھانے کی حماقت کی تو تمہارے ہر اتحادی کو نشانے پر لے لیا جاسکتا ہے ۔ ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے جنگ شروع ہوتے ہی یہ خدشات محسوس کئے جا رہے تھے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کوگھٹنوں پر جھکانے کیلئے خارگ جزیرے کو تباہ کریں گے جہاں سے 70 لاکھ بیرل تیل ایران روزانہ دنیا کو بھیج سکتاہے اوریہ بھی حقیقت ہے کہ ایرانی تیل کا90 فیصد اسی خارگ جزیرے سے چین اور دوسرے ممالک کو بھیجا جاتا ہے اور امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کو سپلائی کیا جانے والاایرانی تیل اسی خارگ جزیرے سے گذرتا ہے۔ اس جزیرے کی ایران اور چین کی انرجی ضروریات کے با وجود بہت سے لوگ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے اسے نشانہ بنانے کے خدشات ظاہرکررہے تھے وہیںپر ایک بات جو تیل کی عالمی مارکیٹ میں سر عام کہی جا رہی تھی کہ اسرائیل کے سخت ترین دبائو کے با وجود امریکہ اس جزیرے کو نشانہ بنانے سے سختی سے روکے ہوئے ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا تو پھر چین اور شمالی کوریا بھی ہمارے خلاف میدان میں کود پڑیں گے اور یہ تیسری عالمی جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔ اس لئے امریکہ ہر قیمت پر ا سرائیل کو خارگ جزیرے کی طرف بڑھنے سے روکے گا لیکن سب لوگ اس وقت مونہہ میں انگلیاں لے کر رہ گئے جب سیٹلائیٹ کی دنیا میں کہرام مچ گیا کہ امریکہ نے اسی خارگ جزیرے میں ایرانی تیل کی ہر قسم کی تنصیبات کو تباہ کرتے ہوئے بھڑک مار دی ہے کہ اسے چین روس یا کسی بھی دوسرے ملک کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ ہر قسم کی جنگ کیلئے تیار ہے۔ تیل کی مارکیٹ اور بہت سے سفارت کاروں سمیت دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اس وقت اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتا تھا لیکن اس نے یہ حملہ کرنے سے پہلے لازمی طور پرچینی قیا دت کو اعتماد میں لیا ہو گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اکیلے ایران نے چالیس سالہ پابندیوں کے با وجود امریکہ اور یورپ کے لے پالک اسرائیل کی ان چودہ دنوں میں اس کسمپرسی کے با وجود جو درگت بنا چھوڑی ہے وہ ناقابل یقین ہے اور اگر چین جیسا ملک اور شمالی کوریا جیسی ریا ست ایران کی حمایت میں امریکہ اور اسرائیل کے سامنے کھڑی ہو گئی تو پھر امریکہ کی حالت وہی ہوجائے گی جو ہٹلر کے جرمنی کی دوسری جنگ عظیم میں ہو چکی ہے؟ خارگ حملے سے پہلے بھارتی وزارت خارجہ کا رضا شاہ پہلوی کی حمایت اور ایران کے مقابلے میں اسرائیل کی بھر پور حمایت کا اعلان یہ بتا چکا ہے کہ وہ اب ایران کے خلاف باقاعدہ جنگ میں شریک ہو چکا ہے۔ ۔!!
50