لباس ہمارا بدن چھپاتا ہے لیکن ہماری شخصیت آشکار کر دیتا ہے۔ ہم خود کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، ہم کیا چاہتے ہیں دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھے، ہمارے بارے میں کیا رائے قائم کرے، ہم کس موج میں ہیں، ہم کون ہیں، ہم چاہتے کیا ہیں؟ ان تمام سوالوں کے جواب عموماً ہمارے لباس کے انتخاب میں مل جاتے ہیں۔ ہمارے بولنے سے پہلے ہمارا لباس بول پڑتا ہے۔ آس پاس دیکھیں، کوئی ہر روز اجلے سفید لباس میں تو کوئی ہر دن شوخ رنگوں میں لپٹا ہوا، کوئی چسپاں ملبوس میں تو کوئی اپنے سے بڑے ناپ کے چولے میں۔ ان ملبوساتی ترجیہات سے آپ لوگوں کے داخل کو ٹٹول سکتے ہیں۔حکم ران ہر شے کو سیاست کیلئے استعمال کرتے ہیں، اس میں ان کی وضع قطع اور لباس بھی شامل ہے۔ پہلے زمانوں میں بادشاہ بھی یہ کرتے تھے اور آج سیاست دان اپنے لباس سے اپنے سیاسی عقائد اور ترجیہات کا اظہار کرتے ہیں۔ پرانے زمانے میں بادشاہ زر و جواہر پہن کر اپنی دولت کا اظہار کرتے تھے، اپنے اجداد کا تاج سر پر پہن کر اپنے خاندانی حقِ حکم رانی کا پیغام دیتے تھے، اکبر بادشاہ اپنے لباس میں مقامی عناصر شامل کر کے تہذیبوں اور مذاہب کے ادغام کا اعلان کرتے نظر آتے تھے ۔ اور اپنے اودھ والے نواب واجد علی شاہ کے چکن کاری، زردوزی اور کام دانی سے سجے انگرکھے ان کی تلذذ بھری زندگی کے استعارے تھے۔ مغرب میں ملکہ الزبتھ اول اپنے "ورجن کوئین" امیج کو تقویت دینے کیلئے موتیوں کی مالا پہنا کرتی تھیں، اور فر کا گول کالر استعمال کرتیں جو ان کے چہرے کے گرد "تقدس کے ہالے" کا استعارہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح ملکہ الزبتھ دوم ہمیشہ سلطنت کے استحکام کے کنایے کے طور پر یک رنگا شوخ لباس پہنتی تھیں، اور "اپنی رعایا" کے ہجوم میں ممتاز نظر آتی تھیں۔آج بھی دنیا میں کئی سیاست دان اپنے لباس سے بلند آہنگ پیغام دیتے نظر آتے ہیں۔ شمالی کوریا کےکم جونگ ان ماؤ زے تنگ جیسی جیکٹ پہنتے ہیں، یہی لباس ان کے باپ دادا پہنتے تھے، اور یہ لباس انہیں مغربی رہ نماؤں سے بھی ممتاز کرتا ہے۔ بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی عام بنگالنوں جیسی سوتی ساڑھی پہنتی ہیں، اور وہی چند ساڑھیاں بار بار پہنتی ہیں۔ پیرس فیشن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے لہٰذا فرانسیسی صدر میکرون اپنی اسی شناخت کے مطابق انتہائی Chic کپڑے پہنتے ہیں، اٹلی کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم ہونے کے ناطے جارجیا میلونی "پاور ڈریسنگ" کرتی ہیں، پینٹ سوٹ پہنتی ہیں جس سے اتھارٹی اور پروفیشنلزم کا اظہار ہوتا ہے۔ نریندر مودی اکثر آدھی آستینوں والا "مودی کرتا" پہنتے ہیں، جو مقامی سوت اور سلک سے بنا ہوتا ہے، ان کے لباس میں "میڈ ان انڈیا" کا فخر نمایاں ہے۔ نیلسن منڈیلا بھی افریقی پرنٹ والی شرٹس پہنا کرتے تھے جو ان کے مخصوص سیاسی حالات میں افریقی تہذیب کی سربلندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔پاکستانی سیاست دانوں کے لباس سے بھی سیاسی سگنلنگ اخذ کی جا سکتی ہے۔ جناح صاحب کے سیول رو سوٹ، دو رنگے جوتے، اور بعد ازاں شیروانی اور "جناح کیپ" مختلف ادوار کی مختلف سیاسی و نفسیاتی ضروریات کی نسبت سے سمجھے جا سکتے ہیں۔ بھٹو صاحب کے مغربی سوٹ اور پھر رنگ دار عوامی شلوار قمیص کا بھی یہی معاملہ ہے۔ نواز شریف دھیمے رنگوں کے لباس پہنا کرتے تھے مگر کچھ عرصے سے تشویشناک حد تک بینائی سوز سوٹ پہن رہے ہیں۔ شاید وہ اپنی ریٹائرمنٹ سلیبریٹ کر رہے ہیں۔ ویسے اگر ہمارے بس میں ہو تو ہم ان کے وارڈروب کنسلٹنٹ کو کھڑے کھڑے فارغ کر دیں۔اب اس کالم کی شانِ نزول سن لیں۔ ایک صاحب ہیں ڈیرک گائے، مردوں کے فیشن پر فنانشل ٹائمز اور نیویارک ٹائمز جیسے موقر روزناموں میں لکھتے ہیں، ان کی ایک حالیہ ٹوئیٹ دیکھی جس میں وہ ہمارے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خوش لباسی کی مدح کرتے پائے گئے، اپنی پوسٹ میں انہوں نے شہباز صاحب کی ایک تصویر بھی شامل کی جس میں وہ بیج کلر کے ایک سلم فِٹ سوٹ میں خرامِ ناز کرتے ہوئے دکھائی رہے ہیں۔ ہلکے رنگ کے سوٹ کے ساتھ کچھ وظائف جڑے ہوئے تصور کیے جاتے ہیں، مثلاً پرسکون، نرم خوئی، غیر رسمی، پر اعتماد اور سٹائلش۔ در اصل ہم بھی شہباز صاحب کی سٹائل سینس کے ایک مدت سے قتیل ہیں۔ اپنی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں وہ اس طرح کے فیشن ایبل کپڑے تو نہیں پہنتے تھے، مگر ان میں ایک سینس آف سٹائل ضرور تھا، ان کی کھدر کی شرٹس اور بش کوٹ انہیں منفرد بناتے تھے۔ لیکن اپنی وزارتِ عظمی کے دور میں تو ان کے پہناوے انتہائی لطیف ہو گئے، اتنا بڑا ملبوساتی انقلاب کیا کسی وارڈروب کنسلٹنٹ کے بغیر رونما ہو گیا؟ ہم نہیں جانتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہباز صاحب کی خوش پوشی بیش قیمت سوٹوں پر نہیںکھڑی، وہ تو نسبتاً آسان کام ہے، دس بیس ہزار ڈالر خرچ کر کےکام چل جاتا ہے، مگر شہباز صاحب کمبی نیشن پہنتے ہیں، اور ان میں بھی نت نئے تجربات کرتے ہیں، مثلاً ڈیرک گائے نے جو تصویر پوسٹ کی اس میں انہوں نے بیج سوٹ کے ساتھ گرے شرٹ پہنی ہوئی ہے، بلا شبہ معاملاتِ عبا و قبا میں یہ دلیرانہ فیصلے ہیں جن کیلئے لباس اور رنگوں کا عمیق فہم لازم ہے۔ کسی زمانے میں شہباز صاحب اکثر شلوار قمیص اور واسکٹ میں نظر آیا کرتے تھے، مگر اب وہ اس لباس کو یک سر خیر باد کہہ چکے ہیں، غالباً وہ اسے اب اپنے سینس آف سٹائل سے متصادم سمجھتے ہیں، اور درست سمجھتے ہیں۔شہباز صاحب جیسے مختلف رنگوں کی پینٹ، کوٹ اور بوٹوں کے ملاپ سے ایک متوازن اور خوش نما اکائی تخلیق کرتے ہیں یہ انہی کا حصہ ہے۔ غالباً ان کی یہی خوبی موجودہ ہائی برڈ سیاسی نظام کی کامیابی کا باعث بن رہی ہے۔ آخر میں شہباز صاحب آپ کو خصوصی مبارک باد...کم از کم لباس کے معاملے میں آپ نے ملک میں سویلین بالا دستی قائم کر دی ہے۔
اشتہار
مقبول خبریں
قوانین کی اسلامی تعبیر: تین غلط فہمیاں
مہمان کالم
مہمان کالم
قصیدہ گوئی اور مسخرے
مہمان کالم
مہمان کالم
ٹینشن اور ڈپریشن کا علاج
مہمان کالم
مہمان کالم
سبز پرچم، پاسپورٹ اور عوام
مہمان کالم
مہمان کالم
سندھ کے خلاف سازش؟
مہمان کالم
مہمان کالم
گلوبل وارمنگ
مہمان کالم
مہمان کالم
بدلتا عالمی منظر نامہ
مہمان کالم
مہمان کالم
پرل ہاربر سے خلیج فارس تک
مہمان کالم
مہمان کالم
