کبھی کبھی انسان کو یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کے تجزیے تو درست ہوتے ہیں، مگر اس کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے، جہاں ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان کشیدگی نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہےکہ : کیا جنگ واقعی ناگزیر ہے یا اسے روکا جا سکتا ہے؟مجھے اس بات کا شکوہ ہے کہ ہمارے سفارتی اقدامات وزیراعظم کی پینتالیس منٹ کی کال اور فیلڈ مارشل کے تین روزہ دورے کی اہمیت ونزاکت کا وہ ادراک نہیں کیا گیا جو کیا جانا ناگزیر ہے ۔ اگر آخرکار حل مذاکرات ہی ہیں تو پھر بمباری کو موقع دینا دانشمندی نہیں بلکہ حماقت ہے۔ہر بندہ کہہ رہا ہے کہ آخر میں مذاکرات ہی حل ہیں مگر اس سادہ جملے کو سمجھنے کے بجائے ہم اکثر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایران کی محبت میں کیے جانے والے بعض تجزیے دراصل اس کے لیے مفید ثابت نہیں ہو رہے بلکہ الٹا اس کیلئےآزمائش بن رہے ہیں۔ محبت کا مطلب اندھی حمایت نہیں ہوتا۔اگر ایران کو غیر حقیقت پسندانہ بڑھکوں اور جذباتی نعروں کے ذریعے تصادم کی طرف دھکیلا جائے تو یہ محبت ہرگز نہیں۔ اصل محبت یہ ہے کہ اسے ایک اور افغانستان بننے سے بچایا جائے۔افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت تھا جب"افغان باقی، کہسار باقی" جیسے نعرے لگتے تھے، مگر غلط فیصلوں، بیرونی مداخلت اور اندرونی انتہا پسندی نے اسے تورا بورا کی حقیقت تک پہنچا دیا۔ یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ مسلسل غلطیوں اور جذباتی پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہر قیمت پر بچنا چاہیے۔آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ تاریخ سے الگ نہیں۔ World War I سے پہلے بھی مذاکرات ہو رہے تھے، مگر غلط اندازوں نے دنیا کو جنگ میں دھکیل دیا۔ World War II سے پہلے Munich Agreement کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ صرف ایک وقتی وقفہ ثابت ہوا۔ تاریخ ہمیں بار بار یہی بتاتی ہے کہ کمزور یا غیر سنجیدہ سفارت کاری جنگ کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔موجودہ صورتحال میں سیزفائر میں توسیع کو ایک مثبت قدم ضرور کہا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کا دورانیہ بڑھانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابھی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ بظاہر"گرم جنگ"رک چکی ہے، مگر اب ناکہ بندی، بیانات اور دباؤ کی"ٹھنڈی جنگ" جاری ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملے پر بائیکاٹ یا سخت اقدامات مسئلے کو حل نہیں کرتے، بلکہ اسے مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں، کیونکہ ایسے معاملات کا حل ہمیشہ مذاکرات میں ہی نکلتا ہے۔
یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر"فیس سیونگ" کے ذریعے اپنے فیصلوں کو واپس لینے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر واقعی یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ جنگ ایک غلط فیصلہ تھا، تو یہ جنگ رکوانے کیلئے مذاکرات کا ایک نادرموقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کا کردار یہاں اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے حالیہ دنوں میں سفارتی سطح پر ایک فعال اور متحرک حیثیت حاصل کی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک نازک توازن میں کھڑا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، دوسری طرف ایران کی ہمسائیگی یہ صورتحال کسی بھی لمحے پیچیدہ رخ اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے مذاکرات کے لیے ایک پل کا کردار ادا کیا ہے، جو بلاشبہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔
یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بڑی طاقتیں مکمل جنگ سے بچتے ہوئے دباؤ کو برقرار رکھتی ہیں۔ریاستہائے متحدہ امریکہ کیلئےماضی کی جنگیں سبق ضرور ہیں، مگر محدود کشیدگی اسکی حکمت عملی کا حصہ رہتی ہے۔دوسری طرف ایران کے اندرIslamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) جیسے ادارے پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں، جو صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔مجھے خوشی ہے کہ فی الحال بمباری رک گئی ہے، کیونکہ جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام انسان، اس کے گھر، اس کےشہر اور اس کے مستقبل کا ہوتا ہے۔ مگر یہ خوشی اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب اس سیزفائر کو سنجیدہ مذاکرات میں بدلا جائے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے وقفے زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔نجانے لوگ جنگ کی حمایت کیوں کرتے ہیں اور اسے مسئلوں کا حل کیونکر سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جنگ صرف تباہی لاتی ہے، جبکہ حل ہمیشہ بات چیت، سمجھ بوجھ اور حکمت میں پوشیدہ ہوتاہے۔آخر میں بات وہی ہے جو شاید سب سے اہم ہے۔جنگ کو روکنا ممکن ہے، مگر اس کیلئے صرف خواہش کافی نہیں عقل، صبر اور حقیقی سفارت کاری کی ضرورت ہے۔یہ حقیقت یاد رہے کہ عقل بندوق سے بڑی ہےاور ڈپلومیسی جنگ سے زیادہ طاقتور، بشرطیکہ ہمیں اسے استعمال کرنا آتا ہو۔
