18

معاہدہ پشاور کی روداد

افغان صدر نجیب اللہ پر برا وقت آیا تو بھارت نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ اویناش پلییوال اپنی کتاب”میرے دشمن کے دشمن“میں لکھتے ہیں، ’بھارتی سفیر ستیش نمبیار نے دہلی ریڈیو کا استعمال کرتے ہوئے رابطہ کیا،تازہ ترین پیشرفت سے آگاہ کیا اور انڈین سفارتخانے میں نجیب اللہ کو سیاسی پناہ دینے کیلئے حکومت سے اجازت مانگی۔مگر بھارتی حکومت نے نجیب کو ہندوستانی سفارتخانے میں سیاسی پناہ دینے سے انکار کر دیا۔22اپریل 1992 ء کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بطروس غالی اچانک بھارت پہنچے۔ اس دورے کا واحد مقصد وزیراعظم نرسمہا راؤ کوقائل کرکے افغان صدر ڈاکٹر نجیب کوبھارت میں سیاسی پناہ دلوانا تھا۔اویناش پلییوال اپنی کتاب”My Enemy's Enemy“‘ میں لکھتے ہیں کہ بھارت نے نجیب کو فضائی یا کسی اور راستے سے کابل سے باہر نکالنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی، بطروس غالی سے کہا گیا کہ بھارت اپنا طیارہ کابل بھیجے گا۔بتایاگیا کہ اگر اقوام متحدہ کی طرف سے ایسی کوئی درخواست موصول ہوتی ہے تو طیارہ تیار ہے،لیکن یہ درخواست کرنے سے پہلے اقوام متحدہ کو اس معاملے پر پاکستان اور مجاہدین کا اتفاق رائے حاصل کرلینا چاہیے۔ دہلی میں نجیب اللہ کے کنبے کی دیکھ بھال کرنےکے علاوہ،بھارت نے نجیب اللہ کو بچانے کیلئے کچھ نہ کیا۔افغان صدرنجیب اللہ جو اقوام متحدہ کے دفتر میں پناہ لیے ہوئے تھے،ان پر یہ حقیقت واضح ہو چکی تھی کہ سب ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اب انہیں یہیں رہ کر مناسب وقت کا انتظار کرنا ہے۔ایک طرف پاکستان کے حمایت یافتہ جہادی، جوکابل کوتسخیر کرچکے تھے،نجیب اللہ کو محفوظ راستہ دینے کو تیار نہ تھے اور دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم میاں نوازشریف کی حکومت نے ڈاکٹر نجیب اللہ کو اپنے سفارتخانے میں پناہ دینے کی پیشکش کردی۔پاکستان اور ایران کے نمائندے ڈاکٹر نجیب سے بات چیت کرنےکیلئے اقوام متحدہ کے دفتر پہنچے تو بینن سوین نے ان کا استقبال کیا۔ اقوام متحدہ کے عہدیدار فلپ کورون اپنی کتاب”Doomed in Afghanistan: UN officer's memoir of the fall of Kabul and Najibullah's failed escape, 1992“میں اس ملاقات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نجیب اللہ ایران کے نمائندے پر چیخنے لگے۔ ایک وقت تو میں نے محسوس کیا کہ نجیب ایرانی نمائندے کو اٹھا کر کھڑکی سے نیچے پھینک دیں گے۔ نجیب اللہ نے پاکستان اور ایران کے نمائندوں سے کہا، مجھے تم پر قطعی اعتبار نہیں۔ میں تم دونوں کے ذریعے خود کو بچانے کے بجائے مرنے کو ترجیح دوں گا، دوسری بات یہ کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ تم بھی میری حفاظت کرنا چاہتے ہو۔“اس دوران پشاور میں 24اپریل 1992ء کو افغان جہادی تنظیموں کے درمیان اقتدار کی بندر بانٹ کیلئے اتفاق رائے ہوا جسے معاہدہ پشاور کہا گیا۔Pehsawar accordکی رو سے انتقال اقتدار کیلئے 51رُکنی باڈی تشکیل دی گئی۔طے پایا کہ دو ماہ کیلئے قائم ہونے والی عبوری حکومت کے سربراہ صبغت اللہ مجددی ہوں گے۔اسکے بعد لیڈرشپ کونسل قائم کی جائیگی جسکے سربراہ برہان الدین ربانی ہوں گے۔ملک کا نام اسلامی جمہوریہ افغانستان ہوگا۔وزیراعظم اور دیگر وزرا کا تقرر تنظیمات کے سربراہ کریں گے لیکن طے پایا کہ وزیراعظم حکمت یار کی حزب اسلامی سے ہوگا۔ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزارت داخلہ کا منصب اتحاد اسلامی افغانستان کو ملے گا،مولوی یونس خالص کی حزب اسلامی کو ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزارت تعلیم کا منصب دیا جائیگا۔نیشنل اسلامک فرنٹ کو ڈپٹی پرائم منسٹرشپ اوروزارت خارجہ دی جائیگی۔جبکہ سپریم کورٹ حرکت انقلاب اسلامی کے زیرانتظام ہوگی۔صبغت اللہ مجددی جن کا تعلق صوفیوں کے نقشبندی سلسلے سے،ان کے خاندان کو روحانیت کے اعتبار سے افغانستان میں بہت اہم مقام حاصل تھا۔ان کے اثر و رسوخ کا یہ عالم تھا کہ انہیں ”بادشاہ گر“کہا جاتا تھا۔کیمونسٹ صدر نور محمد ترکئی کے دور میں مجددی خاندان کے 79سرکردہ افراد کو قتل کردیا گیا اور صرف صبغت اللہ مجددی بچنے میں کامیاب ہوئے۔صبغت اللہ مجددی نے روسی مداخلت کے بعد سب سے پہلے نیشنل لبریشن فرنٹ آف افغانستان کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کرنے اور ہتھیار اُٹھانے کی اپیل کی۔صبغت اللہ مجددی نے ماسوائے ڈاکٹر نجیب کے،سب کیلئے عام معافی کا اعلان کردیا۔ڈاکٹر نجیب اللہ سے متعلق کہا گیا کہ ان کے مقدر کا فیصلہ عوام کریں گے۔صبغت اللہ مجددی کے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد جب برہان الدین ربانی نے لیڈرشپ کونسل تشکیل دی تو وہ مستعفی ہوگئے اور یوں برہان الدین ربانی صدر بن گئے۔

حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار شراکت اقتدار کے اس فارمولے پر خوش نہ تھے،چنانچہ انہوں نے بغاوت کردی اور کابل پرراکٹ باری کا سلسلہ شروع ہوگیا۔تخت کابل کے حصول کی اس جنگ نے دارالحکومت کو تہس نہس کردیا۔برہان الدین ربانی افغانستان کے صدر تھے اور ان کے فوجی کمانڈر شیر پنجشیر احمد شاہ مسعود وزیر دفاع کا منصب سنبھالے ہوئے تھے۔ گزشتہ 300 سال کے دوران پہلی بار اقتدار پشتونوں سے چھن گیا اور اب حکومت پر تاجکوں کی اجارہ داری تھی۔حامد کرزئی جنہیں نائب وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تھا،ان جیسے پشتون غیر اہم عہدوں پر متمکن تھے۔گلبدین حکمت یار جنہیں آئی ایس آئی کی پشت پناہی حاصل تھی،انہیں یہ صورتحال گوارہ نہ تھی۔ایک بار ان سے بات چیت کرکے وزیراعظم بننے پر قائل کیا گیا اور انہوں نے یہ منصب سنبھال بھی لیا مگر پھر راہیں جداکرلیں کیونکہ وہ صدارت سے کم کوئی منصب قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔صدر برہان الدین ربانی کی حکومت کابل تک محدود تھی اور یہاں بھی راکٹوں کی بارش کا سلسلہ کسی بھی وقت شروع ہو سکتا تھا۔افغانستان کے دیگر علاقوں میں ہر گاؤں،شہر اور علاقے کا الگ کمانڈر تھا۔مغربی صوبے ہرات پر سردار اسماعیل خان کا غلبہ تھا۔شمال کے لگ بھگ 6صوبوں پر جنرل عبدالرشید دوستم کی اجارہ داری تھی۔جنوب اور مشرق کے پشتون علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ گھمبیر تھی۔کابل کے قریب ایک چھوٹے سے علاقے پر حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار قابض تھے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز