246

’’ براس ٹیک دوم ‘‘

گیارہ ستمبر 2017 کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہیڈ کوارٹر گاندھی نگر میں اس وقت کی بھارتی وزیر دفاع نرملا سدھارتھ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ سرکریک چونکہ گجرات جیسی اہم ترین سرحد سے منسلک ہے اس لئے ہم نے پاکستان پر واضح کر دیا ہے کہ بی جے پی گجرات کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر ے گی اور آٹھ سال بعد بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھوج گجرات ائر فیلڈ پر رافیل کے سائے میں کھڑے ہو کر پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ اگر سر کریک پر کوئی حرکت کی تو یاد رکھنا کہ سر کریک سے ایک سڑک کراچی جاتی ہے اور پھرراج ناتھ کی اس دھمکی کو چوبیس گھنٹوں بھی نہیں گذرے تھے کہ ترشول کے نام سے بھارت کی تینوں مسلح افواج جس میں ان کے تمام سپیشل سروسز گروپس شامل ہیں، وسیع پیمانے پر پاکستان کی مغربی سرحدوں کے قریب بھاری جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ان مشقوں کو براس ٹیک دوم کا نام دے سکتے ہیں۔ ان مشقوں سے پہلے راج ناتھ کا یہ فقرہ کہ یہاں سے سڑک کراچی کی طرف جاتی ہے، غور طلب ہے۔ اصل میں ہوا یہ کہ آپریشن سندور میں جو دھوتی پاکستانی افواج کے ہاتھوں کھل کر مودی ٹولے کو سب کے سامنے ننگا کر گئی ہے وہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو چین نہیں لینے دے رہی اور یہ اب کوئی راز بھی نہیں رہا کہ سندور چٹائے جانے کے بعد آر ایس ایس میںمودی کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے ۔اپنے چہرے پر لگی اس کالک کو امیت شاہ، یوگی ادیتہ ناتھ، راج ناتھ اور مودی دھونے کیلئے پاکستان کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ترشول کے نام سے جنگی مشقیں تو دو ہفتے سے جاری ہیں لیکن بھارتی وزارت دفاع نے جو NOTAM جاری کیا ہے اس کے مطا بق تیس اکتوبر سے دس نومبر تک راجستھان اور گجرات کے سرحدی علاقوں میں ہر قسم کی پروازوں پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے!!لیاقت پوسٹ پاکستان نیوی کی سر کریک میں آخری پوسٹ ہے جو96 کلو میٹرکی اس Strip میں دشمن کی ہر قسم کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سر کریک کا سمندری حصہ ہے جس پر بھارت کاغاصبانہ کنٹرول ہے ۔لیاقت پوسٹ کے ٹاور سے کوئی دو کلو میٹر فاصلے پر بنی دشمن کی پوسٹ کے سامنے سینہ تانے ہمہ وقت کھڑے چوکس جانبازوں کے چاروں جانب زہریلے سانپ ، سمندر کی رات بھر چیختی لہریں اور جنگلی جانوروں کی چیخ و پکار اورنہ پانی نہ بجلی۔ بندہ یہ سوچ کر لرز جاتا ہے کہ یہ جانباز اپنے شب و روزیہاں کس طرح گذارتے ہوں گے؟۔ہندوستان سرکریک پر اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں اور احکامات کو پائوں تلے روندتے ہوئے پاکستانی حصے پر جبری قبضہ کیئے ہوئے ہے۔ اسے شائد معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستان کے حصے میں آنے والے اس سمندری علا قے میں تیل اور قدرتی گیس کے کئی کنویں ہیں اور یہ سر کریک کا وہ حصہ ہے جہاں سے بھارت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس متنازعہ حصے سے تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبے پر کام شروع کرنے کی سوچ رکھتا ہے۔ عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق بھارت کی متعلقہ صوبائی گجرات حکومت بھارتی بحریہ کی مکمل معاونت اور تکنیکی مشاورت سے کئی سالوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان زیر تصفیہ اس سمندری حصے پر یہ کہتے ہوئے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے کہ اس طرح سمندری راستوں سے انسانی اور اسلحہ سمگلنگ کو روکا جا سکے گا اور اس کام کیلئے بھارتی حکومت کی دعوت پر جن دو کمپنیوں کو یہ غیر قانونی کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ان میں بھارت کی نیشنل بلڈنگ کنسٹرکشن کارپوریشن اور سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کوسر کریک کے گرد75 کلومیٹر طویل باڑ نصب کرنے کا کہا گیا۔ زیر تصفیہ سر کریک میں لگائی جانے والی اس باڑ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ وہی GABION BOX طرز کی باڑ ہو گی جو بھارت نے ممبئی کی بندر گاہ کے گرد نصب کر رکھی ہے ۔ 2012 میں بھارتی میڈیا کی سر کریک میں مقناطیسی باڑ کے بارے میں پھیلائی جانے والی یہ خبر ابھی تک خبر سے آگے نہیں بڑھی لیکن پاک بحریہ کا عزم ہے کہ بھارت نے اگر سرکریک کے ان متنازعہ حصوں میں یہ باڑیں لگانے کی کوشش کی تو کسی بھی صورت میں اس کی اجا زت نہیں دی جائے گی۔ یہ مقناطیسی باڑیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہر موسم میں حفاظتی تاروں کا کام دیتی ہیںاور ہر قسم کے حالات میں ان میں مقناطیسی طاقت کی صلاحیت رہتی ہے۔ دسمبر2012 میں من موہن سنگھ حکومت کے دوران جب بھارت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی سے سر کریک میں باڑ لگانے کی خبروں پر سوال کیا گیا تو انہوں نے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم تو پاکستان کے ساتھ سر کریک پر مثبت بات چیت کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں اور بہت جلد کسی قابل قبول حل کی طرف بڑھیں گے ؟۔لیکن جنتا پارٹی نے اقتدار سنبھالتے ہی شر انگیزی شروع کر دی۔سر کریک کا پہلا نام بان گنگا تھا لیکن انگریزی دور میں ممبئی پریسیڈنسی نے اسے سر کریک کا نام دے دیا۔1908 میں رائو حکمران اور سندھ حکومت میں سمندر کے اس حصے کا تنازعہ’’ جلانے کیلئے لکڑی کے حصول ‘‘پر ابھرا ۔دوسرا تنازعہ 1914 میں ابھرا اور سر کریک کا سمندری علا قہ بمبئی حکومت کے معاہدے کے تحت حل کیا گیا اور اس معاہدہ کے پیرا9 اور10 کے تحت یہ علا قہ آج پاکستان کا حصہ بنتا ہے اور اس قرار داد کی توثیق کرتے ہوئے حکومت سندھ اور رن آف کچھ کے مہاراجہ نے اس پر با قاعدہ دستخط کر رکھے ہیں۔ تیسرا تنازعہ اپریل1965 میں اس وقت سامنے آیا جب رن آف کچھ میں پاکستان اور بھارت کی جھڑپیں شروع ہوئیں تو اس کے بعد برطانوی وزیر اعظم ہیرلڈ ولسن نے مداخلت کرتے ہوئے ٹربیونل قائم کیا ۔اس طرح چوتھا تنازعہ فروری1968 میں شروع ہوا تو اس وقت انٹر نیشنل ٹر بیونل نے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ سرکریک کا صرف10 فیصد حصہ پاکستان استعمال کر رہا ہے اور باقی نوے فیصد پر بھارت جبری قبضہ کئے ہوئے ہے ۔۔!!

بشکریہ ڈان ںیوز