183

پنجاب ہریانہ کی مائیں اور براہمن

آر ایس ایس اور جنتا پارٹی کا مودی ٹولہ بھارت سے گذرنے والے انڈس دریا میں چودہ کلو میٹر طویل ایک سرنگ کی صورت نقب لگا کر پاکستان کی جانب بہنے والے پانی کا رخ موڑ کر اسے بیاس اور راجستھان کی طرف موڑنے کیلئے ایک منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے اورا س کیلئے پانچ ہزار کروڑ بھارتی روپے کا بجٹ مختص کر دیاہے اس منصوبے کی تکمیل کیلئے 2029 کے سال تک کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے کیونکہ مودی ٹولے کی پلاننگ یہ ہے کہ 29 میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے بھارت کے اتر علا قوں اور راجستھان کیلئے پانی کی بھر مار کر دی جائے انڈس میں سرنگ کے ذریعے نقب لگا کر بھارت دو مقاصد حاصل کر ے گا پہلا دریائے انڈس کے پانی کا رخ موڑ کر پاکستان کو خشک کرے گا اور دوم بیاس میں یہ پانی شامل کر کے بھارتی پنجاب کی بجائے راجستھان اور دوسری ریاستوں کو نوازا جائے گا اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کی جانب بہنے والے راوی، بیاس اور ستلج کا پانی صرف سیلاب کی صورت میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے اور رہا چناب اور جہلم اس میں پانی کی حالت کسی سے بھی پوشیدہ نہیں اور باقی رہ جاتا ہے صرف دریائے سندھ اگر بھارت اس دریا کی جانب بہنے والی گذر گاہ کا پانی بھی اپنی تیار کی گئی چودہ کلو میٹر طویل سرنگ کے ذریعے داخل کر نے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان اور بھارتی پنجاب کے پاس پانی کہاں سے آئے گا؟۔ اس ضمن میں دیکھا جائے تو مشرقی پنجاب کی قسمت اور سالمیت بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان سے جڑی ہوئی ہے اور اس کیلئے بھارت کی سکھ قوم پہلے سے بھی زیا دہ شدت سے اپنے مستقبل بارے سوچ رہی ہے اور خاص طور پر مشرقی پنجاب کو ڈبونے والے حالیہ ’’ براہمن کے تیار کردہ سیلاب ‘‘ نے بھی ان کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔ پاکستان کو چاہئے کہ اب وہ کسی بھی قسم کی بین القوامی یا ہمسائیگی کے احترام کی بجائے اسی طرح کھل کر بھارت کے مقابل خم ٹھونک کرکھڑا ہو جائے جس طرح بھارت کسی بھی قسم کے اخلاقی، قانونی اور بین القوامی قوانین اور طریقہ کار کو جوتے کی نوک پر رکھ کر پاکستان کی جغرافیائی اور علاقائی حدود کا احترام کرنے کی بجائے پاکستان کی اکائیوں کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے کھلم کھلا اعلانات اور ترغیبات دے رہا ہے ۔ اس وقت بھارت میں بسنے والے75 فیصد سے زائد سکھ اور پنجابی براہمن کی غلامی کا طوق گلے سے اتارنے کیلئے تیار ہو چکے ہیں اور چندی گڑھ میں پنجابی یونیورسٹی کے نام کے ساتھ جو کرنے کی کوشش کی گئی اس نے تو مودی ٹولے کا پنجاب دشمن چہرہ سب کے سامنے ننگا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان کو اپنی تمام تر جھجھک اوربین القوامی آداب کو ترک کرتے ہوئے مشرقی پنجاب اور ہریانہ کو اپنے قدیمی سلسلے مغربی پنجاب کے ساتھ باقی ماندہ زندگی گذارنے کی راج ناتھ سنگھ کی طرح کھل کر پیشکش کرنی چاہئے ۔سر کریک پر بھارتی افواج کے تینوں شعبوں اور اس کی تمام پیرا ملٹری فوسرز نے ترشول کے نام سے براس ٹیک طرز کی جنگی مشقوں کے آغاز کے بعد سے ہی بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھوج کے ہوائی اڈے پر کھڑے ہو کر کبھی سر کریک اور کچھ سے کراچی جانے والی کسی سڑک پر چڑھ دوڑنے کی دھمکیاںدیتا ہے تو کبھی سندھ کو بھارت میں سمونے کے خواب دکھانا شروع ہو جاتا ہے راج ناتھ سنگھ نے تو کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیا ہے کہ جلد ہی سندھ پھر سے ہندوستان کا حصہ بننے والا ہے تو ہمیں یہ کہنے میں کیا رکاوٹ ہے کہ مشرقی پنجاب پاکستان سے ملنے کو تیار ہے۔کسی بھی ملک کے وزیر دفاع کا اپنے ہمسایہ ملک کے کسی بھی حصے بارے کھلے عام یہ کہنا کہ بہت جلد اس کا یہ حصہ ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گا۔ کھلی دھمکی کے سوا اور کچھ نہیں پاکستان کو اب کھل کر بھارتی پنجاب اور ہریانہ والوں کو یہ پیغام دے دینا چاہئے کہ اگر وہ بھارت کی غلامی سے نکل کر پاکستان سے الحاق کر لیں تو پاکستان اورخاص طور پر پنجاب کی عوام ان کا دل و جان سے سواگت کرے گی ان کے دھرم اور عبادت گاہوں کا بھارت سے بڑھ کر خیال اور عزت و احترام کیا جائے گا انہیں ہر وہ سہولت اور بین القوامی مقام دیا جائے گا جس کی وہ خواہش کریں گے اگر وہ بھارت سے علیحدہ ہو کر پاکستان کے ساتھ آنا چاہتے ہیں تو دونوں کی افواج ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر بھارت یا اس کے کسی بھی اتحادی کا مقابلہ کریںگی اور پاکستانی افواج کا ہر شعبہ پنجاب اور ہریانہ کی مکمل حفاطت کی اسی طرح ذمہ داری اٹھائے گا جس طرح وہ اب تک پاکستان کی حفاظت کیلئے کر رہا ہے۔ بھوپال ٹائمز نے چیف بھگوت کے آر ایس ایس کے ایک تربیتی کیمپ سے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت کو خوشی ہو گی اگر سندھی بھارت کے ساتھ الحاق کر لیں ایسا کرنے سے بھارت ان کو ممبئی اور دہلی کی طرح سہولیات اور عزت دے گا یقین جانئے اگر پاکستان کی فوج یا ا س کے متعلقہ شعبے بھارت کی اس قسم کی بیان بازیوں کا جواب نہ دے یا بین القوامی طور پر ان کے مقابلے کیلئے اپنے بیانئے کو مضبوط نہ کرے تو پھر یہی سمجھا جائے گا بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں واک اوور مل چکاہے کہ وہ جب چاہے پاکستان کی سالمیت سے کھیلنا شروع کر دے ’’ لہندے اور چڑھدے پنجاب‘‘ کی عوام ایک دوسرے سے ملنے کیلئے تڑپ رہی ہے اور ہر پنجابی کو جان لینا چاہئے کہ مشرقی پنجاب ہو یا ہریانہ اس کی یادیں اور بنیادیں آج کی نئی دہلی اور ممبئی سے نہیں بلکہ پاکستانی پنجاب سے جڑی ہوئی ہیں ان کے لباس بیان سمیت رسم و رواج کی ایک لمبی اور طویل فہرست مدت گذرنے کے بعد بھی ایک جیسی ہی ہیں اب تک پنجاب اور ہریانہ کے ہزاروں بیٹے براہمن کی چھیڑی گئی جنگوں میں مارے جا چکے ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ اب ان کے ہر گھر سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ’’ کیا مشرقی پنجاب اور ہریانہ کی مائیں اپنے بچے براہمن کے راج کیلئے جنتی رہیں گی؟ ۔۔!!

بشکریہ ڈان ںیوز