چھ مارچ سے ہی جوہر ٹائون کی ایک سڑک کے دائیں اور بائیں جانب ہر پٹرول پمپ پر گاڑیوں، پک اپس اور موٹر سائیکلوں کی طویل قطاروں نے دونوں طرف کی آدھی سے زیا دہ سڑکوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔ ٹریفک شدید متاثر ہو رہی تھی۔ صبح سے کچھ حکومتی ذرائع سے یہ خبریں مل رہی تھیں کہ آج رات ملک بھر میں پٹرول کی قیمتیں بیس سے پچیس روپے فی لیٹر بڑھائے جانے کا امکان ہے اور لوگ قیمتیں بڑھنے سے پہلے اس کوشش میں تھے کہ اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ٹینکیاں فل کر الی جائیں تاکہ کچھ تو بچت ہوجائے ۔ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے وہاں پھنسے ہوئے کچھ لوگ جنہیں تیل کی نہیں بلکہ کسی دعوت افطار یا کسی وجہ سے جلدی جلدی اپنی منزل تک پہنچنا تھا وہ قطاروں میں پٹرول لینے کیلئے کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے عوام کی اس حرکت پر غصے سے تلملا رہے تھے۔ اسی ٹریفک میں پھنسے کسی سرکاری افسر نے کہیں اپنے ساتھی افسر کو فون کر دیا جس پر پولیس اور ٹریفک اہلکارسڑک صاف کرانے کیلئے ڈنڈے لئے آگئے ۔ یہ کہتے ہوئے لوگوں کو مارنا شروع کر دیا کہ ٹینکی فل کروا کر کتنی بچت کر لو گے، چند دن بعد پھر نئی قیمت پر ہی پٹرول خریدو گے، چند سو کی بچت کیلئے کیوں اپنے اور دوسروں کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہو؟ پولیس افسر کی یہ بات میرے دل کو لگی اورخود کو اس قطار سے نکالنے کا سوچنے لگا لیکن اب کہیں سے بھی نکلنے کا رستہ نہیں مل رہا تھا۔ میری اس کوشش کو دیکھ کر قریب سے جنریشن ذی کی آواز آئی انکل جی اس وقت پورے ملک کے ہر پٹرول پمپ پر اسی قسم کی صورت حال ہے۔ سوچئے کہ ہر پٹرول پمپ سے آج تیل بھروانے سے مجموعی طور پر فی پٹرول پمپ ایک لاکھ روپے کی بچت ہو تو بتایئے پورے ملک میں کتنے ارب کی بچت ہو گی؟جنریشن ذی مجھے سوچتا ہوا دیکھ کر بولا سنا ہے کہ پنجاب میں108 ہیوی ڈیوٹی نئے وہیکل خریدے جا رہے ہیں اورا س سے پہلے ملکی میڈیا بتا رہا ہے کہ پنجاب اور مرکز 28 ارب روپے کی لاگت سے نئے لگژری قسم کے سترہ سیٹوں والے جہاز خرید چکے ہیں۔ جنریشن ذی نے میرے کان سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ انکل یہ جو ہمیں بیوقوف کہتے ہوئے سمجھا رہے ہیں ہماری یہ بچت تو چند روز کی ہے ۔اس کے بعد تو نئی قیمت پر ہی تیل خریدنا ہو گا تو انہیں سمجھائیے کہ جناب والا اس وقت پورے ملک میں ایک لاکھ سے زائد سرکاری گاڑیاں افسران اور ان کی فیملیز کو لئے ادھر ادھر بھاگ رہی ہیں ۔اگر یہ ایک لاکھ گاڑیاں ایک روز کا دو لیٹر پٹرول کم خریدا کریں تو اندازہ کیجئے کہ321 اور335 روپے فی لیٹرکے حساب سے ایک دن میں ملکی خزانے کی کتنی بچت ہوگی؟۔ جس طرح ملک بھر سے پاکستانی عوام اپنے ٹرک بسوں ٹریکٹرز اور ٹینکر سمیت گاڑیوں بسوں میں قیمتیں بڑھنے سے پہلے چند سو اور ہزار کی بچت کر رہے ہیں اگر پنجاب اور سندھ کی حکومتیں اپنی تشہیر کیلئے کچھ عرصے کیلئے اربوںروپے کی بچت کر لیں تو کیا یہ بہتر اور منا سب نہیں ہو گا؟۔اگر لگژری گاڑیوں کے قافلے کچھ عرصہ کیلئے محدود کر دیئے جائیں، اگر بڑی بڑی افطار پارٹیاں تاجر صنعت کار اور سیا ست دانوں سمیت ان کے حواری روک دیں تو کیا اس سے عبادت میں کوئی فرق پڑ جائے گا؟ اگر پورے ملک کے سرکاری اور نیم سرکاری افسران سمیت وزراء اور مشیران کے تفریحی، سیا سی اور انتظامی دورے کچھ عرصہ کیلئے محدود کر دیئے جائیں، اگر ہمارے جیسے درجنوں صحافیوں کو اپنے ساتھ ملکی اور غیر ملکی تفریحی دوروں پر ساتھ لے جانا کچھ عرصہ کیلئے بندکر دیا جائے، اگر ہمارے الٹے پلٹے گیت اور کہانیاں سنا کر حکمرانوں سے لئے جانے والے معاوضے اور تحائف روک دیئے جائیں۔ اگر سرکاری افسران کو اپنے ساتھ فیملی کو کسی بھی غیر ملکی دورے کیلئے ساتھ لے جانے کی سہولیات معطل کر دی جائیں ،اگرسکول کالج یونیورسٹیوں میں سرکاری اور نیم سرکاری افسران کے بچوں کیلئے مختص گاڑیاں کچھ عرصہ کیلئے گیراجوں میں بند کر دی جائیں؟ اگر اس سال 23 مارچ ’’ یوم جمہوریہ پاکستان‘‘ منانے کا تکلف نہ ہی کیا جائے اور اگر بہت ہی ضروری سمجھا جائے تو اس دن عالیشان پریڈ اور کئی ہفتوں کی تیاریاں کرنے کی بجائے اسے سادگی سے ایک ہال میں ہی منا لیا جائے ؟اگر خاص خدمات انجام دینے کیلئے ہمارے جیسے قصیدہ گو صحافیوں اور لکھاریوں کو میڈل اور مراعات دینے کیلئے دور دراز سے بلاتے ہوئے مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرانے اور آ نے جانے کیلئے بے تحاشا رقوم دینے سے فی الحال ہاتھ کھینچ لیا جائے تو سوچئے کہ کتنی بچت ہو سکتی ہے اور اس بچت سے پٹرول اور ڈیزل کی بچت بھی ہو گی اور ملکی سرمایہ بھی بچے گا۔اس بچت سے تیل کی قیمتیں کم کی جا سکتی تھیں۔اگر پنجاب سمیت ہر صوبے اور مرکز کی جانب سے اراکین اسمبلی کے انتخابی حلقوں کے ترقیاتی کاموں جن میں پسند ناپسند کی سڑکیں کثیر تعداد میں بنائی جائیں گی اگر ان اراکین اسمبلی کی جی حضوری کیلئے مختص کئے گئے143ارب روپے عارضی طور پر روک کر یہ رقم پٹرول کیلئے ادا کر دی جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟ ہمارے ملک کے تاجروں اور سرمایہ داروں کی ہمیشہ سے یہ ریت چلی آ رہی ہے کہ جیسے ہی مارکیٹ میں کسی چیز کی قلت پیدا ہوتی ہے وہ اپنا سٹاک روک لیتے ہیں۔ جسے سرکاری حکام اور حکمران ذخیرہ اندوزی کا نام دیتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو اب کہیں سے بھی یہ مال نہیں مل رہا تو پھر من مانی قیمتیں بڑھا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس دفعہ یہ ذخیرہ اندوز کوئی اور نہیں بلکہ ہماری حکومت اور ان نجی آئل کمپنیوں نے کر دکھائی ہے ۔ ’’جب سیاں بھئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا‘‘۔۔!
99