اب یہ تو کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہا کہ امریکہ یورپ اور اسرائیل سمیت ان کے اتحادی ایران میں خامنہ ای حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے متحد ہو چکے ہیں اوران کی مدد سے چلائی جانے والی یہ تحریک اس قدر پرتشدد تھی کہ ایران کے ہر شہر ، سرکاری دفاتر اہم عمارات اور حکومت سے تعلق رکھنے والوں کے گھروں کو جلادیا گیا۔ کہنے کو تو یہ مہنگائی کے نام سے شروع کرائی گئی تھی لیکن نادان دوست ٹرمپ کی بونگیوں اور ایرانی لیڈروں کو خوفناک دھمکیوں کی صورت نے سب کو بتا دیا کہ مہنگائی تحریک کے پیچھے کون ہے۔ اس میں تو شک کی گنجائش ہی نہیں کہ ایسے لگ رہا تھا کہ پورا ایران تباہی و بربادی پھیلاتا ہوا خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کو کچلتا ہوا بے قابو ہو کر باہر نکلا توحالات کنٹرول سے باہر ہونے کے نام پر ایرانی فوج میں سے کچھ جنرل یا پاسداران انقلاب کا کوئی حصہ امریکی سی آئی اے کے اشارے پر ملک کا کنٹرول سنبھال لے گا ۔ٹرمپ کی طرح اقتدار کی مسند پر بیٹھنے کیلئے پہلوی خاندان کے فرزند رضا شاہ پہلوی اسرائیل کے چوٹی کے ربیوں کے ساتھ سر پر مخصوص ٹوپی پہنے یہودی ربیوں کے ہمراہ دیوار گریہ پر ٹکریں مارنے کے بعد عالمی میڈیا کے ہجوم میں سامان سفر باندھے اسرائیلی جہاز کی سیڑھیوں کے قریب اڑان بھرنے کیلئے تیار نظر آنے لگے لیکن اچانک نہ جانے کیا ہوا کہ امریکہ اسرائیل اور یورپی یونین کا تیار کر دہ ٹائی ٹینک قم میں صدر خامنہ ای کے حق میں نکلنے والی تیز اور خوفناک سمندری لہروں کو نظر ہوگیا۔ قم اور ایران کے دوسرے بڑے شہروں میں امریکہ مخالف نکالی گئی ریلیوں نے اسرائیلی مہرے کے خوابوں کو لگتا ہے کہ فی الحال ڈبو دیا ہے۔ ان ریلیوں میںایران کی بہت بڑی اکثریت پاسداران انقلاب کے حق میں مرگ بر امریکہ اور اسرائیل کے فلک شگاف نعروںسے گونجنے لگی ۔ اسرائیلی مہرے فی الحال خاموش ہو کر نئی چال چلنے کی تیاریوں میں ہیں اور لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف حملوں کیلئے نئے مورچوں کی کھدائی کے انتظامات کر رہے ہیں۔ پاکستان میں جناح اور لیاقت علی خان سے ایوب خان بھٹو، ضیاء الحق ،مشرف اور خان تک تمام حکومتوں کی تبدیلی اور شخصیات کا خاتمہ امریکہ ہی کرتا رہا اور اب پاکستان اس کیلئے پہلے سے بھی زیا دہ اس لئے اہم ہوتا جا رہا ہے کہ سمندری راستوں پر قبضے اور ناکہ بندیوں کیلئے امریکہ اور چین آمنے سامنے آنے والے ہیں کیونکہ دنیا کی ہر تجارتی گذرگاہ جو چین استعمال کر رہاہے وہاں امریکی اثرو نفوذ ہے ۔ پاکستان اور اس کی گوادر بندرگاہ اور آبنائے ہرمز جسے چینیوں نے اربوں ڈالر اور اپنے سینکڑوں ورکروں کی قربانیاں دینے کے بعد تیار کیا وہ اس سے چھیننے جا رہا ہے کیونکہ امریکہ اب کسی صورت نہیں چاہ رہا کہ چین گوادر کو استعمال کرے یا آبنائے ہرمز میں اسے کوئی روکنے والا نہ ہو۔ اس لئے یاد رکھئے گا کہ پہلوی خاندان کا باجگزار چاہ بہار سمیت ایرانی سمندر صرف امریکہ کیلئے وقف کرنے کیلئے لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اگلی ہرجنگ سمندر اور زمین کی ان گذر گاہوں کیلئے لڑی جائے گی جہاں خزانے موجود ہوں گے اور مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تین دنوں کی سیٹلائیٹ اور میزائلوں کی جنگ دیکھ ہی چکے ہیں۔ ایران میں اس وقت ہلکی سی خاموشی ہے جبکہ گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی یونین جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے وہ روس کو یوکرین کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ خامنہ ای کے خلاف طویل غور و خوض کے بعد تیار کی جانے امریکی تحریک فوری ناکام نہیں ہو سکتی کیونکہ امریکہ رجیم چینج کا بگل بجانے سے پہلے’’ الفا، براوو اور چارلی جیسی ہر قسم کی تیاریاں کرتا ہے ۔کچھ تجزیہ کار اور آزاد بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ امریکی سپانسرڈ تحریک یا تو کمزور ہو گئی ہے یا اس میں کچھ وقفہ لیاگیا ہے۔ اسرائیل کیلئے ایران کی موجو دہ قیادت زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے اس لئے وہ امریکہ کو کبھی بھی ہاتھ ہولا رکھنے کا مشورہ نہیں دے گا کیونکہ افریقہ سے لے کر ایشاء تک جس ملک میں بھی سول جنگوں اور خونی فسادات برپا کر کے گھنائونی سازشوں سے کوئی تبدیلی لائی گئی اس میں براہ راست امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ سامنے آ رہا ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ اگر یورپی یونین اور برطانیہ کو سیا سی اور مالی پریشر کیلئے استعمال کرتا ہے تو اسرائیل اس کیلئے آرمرڈ کور اور انٹیلجنس کا کام دیتا ہے ۔ اب یہ دونوں مل کر دنیا کو فتح اور تابع کرنے کیلئے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں آج کی بات لکھ لیجئے کہ امریکہ اور اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ دنیا میں رجیم چینج کے ذریعے اپنے مہرے فٹ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا جائے صومالیہ سوڈان الجیریا لیبیا سمیت تمام افریقی ، شام ، یمن اور پھر مصر کے محمد مورسی کو ٹھکانے لگانے میں امریکہ اور جنرل سیسی کا اسرائیل نے جس طرح ساتھ دیا وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں!! اس وقت بظاہردنیا کے ہر خطے میں جنگ شروع ہے لیکن اس کا انداز بدلا ہوا ہے کیونکہ اب کنونشنل یعنی براہ راست حملہ آور ہونیکی بجائے بڑے ہی ٹیکنیکل طریقے سے مقابل یا اپنے نشانے کواس کی ملکیت میںظاہر اور چھپے ہوئے خزانوں کو ہتھیانے کیلئے وار کئے جا رہے ہیں اور اس کی مثال وینز ویلا اوراب گرین لینڈ کی صورت میں سامنے ہے۔ ایشیا اور افریقہ سمیت خلیجی ممالک میںکوئی بھی عوامی تحریک اور فوجی انقلاب چاہے وہ کسی بھی ملک میں لانا ہو وہ امریکہ کی مدد اور سٹریٹیجی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اور اب امریکہ نے ایک بالکل ہی نیا طریقہ ایجاد کر لیا ہے جسے دنیا میں نظر نہ آنے والی بغیر کسی اعلان کے تیسری عالمی جنگ کہا جا سکتا ہے جس میں اس ملک کی شہہ رگ پر پائوں رکھتے ہوئے اس کے وسائل کیلئے زمینی ، فضائی اور سمندری راستے اور خزانے ہتھیائے جا رہے ہیں دیکھتے رہئے گا کہ نئے خزانے اب سمندر کی تہوں سے نکلیں گے!! کیونکہ اگلی نصف صدی تک امریکہ کو مضبوط اور قائم رکھنے کیلئے خزانوں سے بھرے ہوئے سمندر ، معدنیات، یورنیم اور سٹریٹیجک بندرگاہیں ہتھیائی جائیں گی ۔ یوکرین اور روس پر برسائے جانے والے بم اور تائیوان کے ارد گرد گھومنے والے جنگی بحری جہاز اور آبدوزیں آسٹریلیا، فلپائن، ملائشیا، ایران، امارات سعودیہ قطر اور انڈونیشیا کے سمندروں کی ایک ایک حرکت کو کھوجنے والے سیٹلائیٹ اور وینزویلا ، گرین لینڈ کے گرد تاک میں چکرلگاتے ہوئے ریڈراز بہت سے بھید کھول رہے ہیں کل کیا ہو گا ا س کیلئے سب کو خبردار اور ہوشیار رہنا ہو گا ایسا نہ ہو کہ پھر سے کوئی ہمیں9/11 کی طرح استعمال کر کے آگ اگلتے ہوئے سمندر میں جھونک دے۔۔!!
59