یہ168 کلیوں کے جنازے میناب کی گلیوں بازاروں سے نہیں اٹھائے گئے بلکہ 168 ملکوں کے سربریدہ جسم اٹھائے گئے یہ 168 شعور و آگہی کی جستجو میں گھروں سے نکلنے والی بیٹیوں کے تابوت نہیں دفنائے گئے بلکہ اقوام عالم کے خارش زدہ مردہ ضمیروں کو منوں مٹی تلے دبایا گیا تھا ستم ظریفی دیکھئے کہ ادھر ان کلیوں جیسی معصوم سی پریوں کے کٹے پھٹے جسم اسکول کے چاروں طرف تڑپ رہے تھے توا دھر سب نے ایک ہی ہا ہا کار مچائی ہوئی تھی کہ ایران نے یہ کیوں کیا وہ کیوں کیا ادھر کے گھروں میں کیوں جھانکا ان کے دروازے کیوں کھٹکھٹائے؟۔ اسے اتنا بھی حق نہیں کہ جس گھر سے جس چھت سے جس دوازے کو استعمال کرتے ہوئے اس کی بیٹیوں کے جسموں کو چیتھڑوں میں اڑایا دیا گیا تھاکیا وہ ان دروازوں کو بند بھی نہ کرے جن چھتوں سے کود کر اس کی بیٹیوں کو اس کی عزتوں کا قتل عام کیا گیا کیا اسے یہ حق ہی نہیں کہ وہ ان چھتوں کے رستے ختم نہ کرے؟۔ ستم دیکھئے کہ ’’ قاتل کی مناسبت سے خاتون اول کہلانے والی میلانیا ٹرمپ عین اس وقت جب یہ میزائل گرائے گئے ’’ تعلیم کے ذریعے امن‘‘ پر سلامتی کونسل کے ایک سیشن کی صدارت کر رہی تھی لیکن مجال ہے کہ ایران کے شہر میناب کے پرائمری اسکول میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مشترکہ بمباری سے شہید ہونے والی 168 معصوم کلیوں کے ذبیحہ پر ایک لفظ بھی کہا ہو؟۔ سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں شریک کسی ایک کو بھی امریکی خاتون اول کے سامنے معصوم پریوں کی شہادت پر ہلکی سی آہ کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی شائد اسی ڈر کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی سب سرکاری ہونٹ سی دیئے گئے ان کی زبانوں پر تالے لگا دیئے گئے اور ایسا لگا کہ اس شہر خاموشاں میں انہیں کسی نے پتہ ہی نہیں لگنے دیا کہ تمہارے ساتھ والے ہمسائے میں تمہارے مسلمان بھائی کی بیٹیوں کا اسکول نیتن یاہو نے بم باری کرتے ہوئے تباہ کر دیا ہے اور اس کے ان میزائل حملوں سے چند درجن نہیں بلکہ168مسلم بیٹیاں تمہارے امن ایوارڈ کے ہیرو کے ہاتھوںبہیمانہ طریقے سے قتل کر دی گئی ہیں ان معصوم بیٹیوں کے پھولوں جیسے جسموں کے ٹکڑے کئی کئی فرلانگ دور تک اڑتے ہوئے دیکھے جا رہے تھے ان کی چیخ و پکار سے آسمان تک کانپ گیا اور فضائوں میں اڑنے والے پرندوں کی نہ ختم ہونے والی قطاریں شائد کسی طاقتور فرشتے کو امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں انجام پانے والے اس ذبیحہ عظیم کی شکایت لگانے کیلئے پوری رفتار سے آسمان کی وسعتوں کی جانب بھاگی جا رہی تھیں وہ تو پرندے تھے جو اپنے رب کو یہ ظلم بتانے جا رہے تھے لیکن زمین پر انسان اس طرح خاموش تھے بلکہ ساتھ ہی مسلمان بھی ایسے سہمے ہوئے تھے جیسے ان کی ایک ہلکی سی آواز بادشاہ سلامت اور امن کے نوبل ایوارڈ کے حقدار کی نیند خراب کر دے گی؟ ۔ 168 مائیں اور باپ خاک اور خون میں لتھڑی معصوم کلیوں کے جسموں کے بکھرے ہوئے ٹکڑے پہچاننے کی کوشش کررہے تھے زمین ان کی چیخ و پکار سے کانپ رہی تھی لیکن دوسری طرف پوری دنیا ایک چپ تان کر سوئی رہی کسی نے اس خوف سے کہ امریکہ اور اسرائیل ان کی کھال نہ کھینچ لے اپنے نادان اور منہ پھٹ بچوں کے منہ بندھ کرنے میںلگی تھی کہ مبادہ کہیں ان کی چیخوں اور شور سے ٹرمپ کا امریکہ اور یورپ کا مہذب معاشرہ پریشان ہو نہ جائے۔ سوات پاکستان میںلڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے جب ملا فضل اللہ گروپ نے ایک بچی پر فائرنگ کرتے ہوئے اسے زخمی کیا تاکہ اس کو مثال بناتے ہوئے علاقے میں لڑکیوں کو تعلیم دینے والوںکی راہ میں خوف اور خون کی دیوار کھڑی کر دی جائے توتعلیم کی آواز بن کر معاشرے کو جگانے والے زخمی ہونے والی اس لڑکی کو دیکھنے کیلئے پوری دنیا پاکستان کی اس بچی کی جانب جھپٹ پڑی صرف اور برطانیہ ہی نہیں بلکہ پورا یورپ اس بچی پر جی جان سے فدا ہو کر اس کی ہمت اور شجائت کی قد رکرتے ہوئے اسے نوبل انعام کی حقدار قرار دیتے ہوئے پورے خاندان کوامریکہ برطانیہ اور یورپ کے ہر خطے کی شہریت ان کے قدموں میں نچھاور کرنے کیلئے بیتاب ہو گیا لیکن ستم ظریفی کہئے کہ اسی پاکستان سے ملحقہ ایران جس کے حکمرانوں کے امریکہ اور یورپ کا سوشل اور الیکٹرانک میڈیا یہ کہتے نہیں تھکتا کہ ان ملا لوگوں نے ایران میں خواتین کے حقوق چھین لئے ہیں انہیں تعلیم نہیں دی جاتی انہیں کہیں آنے جانے اور کام کرنے کی اجا زت نہیں ایران کے انتہا پسند انقلابی حکمرانوں اور ملائوں نے ایرانی خواتین کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں لیکن اسی ایران کے ایک شہر میناب میں اسی تعلیم کے حصول کیلئے گھروں سے نکلنے والی معصوم بچیوں کے پرائمری اسکول پر امریکہ اور اسرائیلی نے میزائل حملے کرتے ہوئے اس اسکول کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ امریکہ اور برطانیہ کا دوہرا معیار دیکھئے کہ بچیوں کے اس قتل عام پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرنے کی بجائے تمسخر اڑایا جا رہا ہے کہ ایران کی انقلابی حکومت اب روتی کیوں ہے اسے نہیں پتہ کہ جنگوںمیں تو ایسا ہوتا ہی ہے؟۔ ایران کے شہر میناب کی سینکڑوں بچیاں اپنے گھروں سے اپنی تعلیمی درسگاہ تک پہنچیں تو امریکہ اور اسرائیل کی باہمی مہارت اور ٹیکنالوجی میزائلوں کی صورت میں سینکڑوں معصوم بیٹیوںپر قیامت بن کر برس گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ اور خون کے طوفان نے اس درسگاہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جب دھواں چھٹا تو سینکڑوں بچیوں کے کٹے ہوئے جسم ادھر ادھر بکھرے اپنے اللہ سے پوچھ رہے تھے کہ پروردگار کیا تو ہمیں اس حال میں پہنچانے والوں پر اسی طرح کا عذاب نازل کرے گا جس کا تو نے قران میں ہولناک عذاب دینے کا وعدہ کر رکھا ہے‘‘ کیا یہ سچ نہیںہے کہ ہمارے قتل پر چپ رہنے والے ہمارے بھائی بھی اس جرم میں اور مجرم کی حمایت کر کے برا بر کے شریک ہیں؟۔۔ !!
38