66

’’ ٹرمپ اور خان ‘‘

آج پاکستان کی حکمران جماعت کا ہر جتھہ دن رات امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کی جانے والی اپنی توہین آمیز ٹویٹس کو ڈیلیٹ کرنے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ ان کی وزارتیں دو دن سے ان کے مونہہ تک رہی ہیں لیکن وہ منسٹر انکلیو سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہے بلکہ جیسے جیسے وہ کی جانے والی اپنی توہین آمیر ٹویٹس دیکھتے جاتے ہیں ان کے ہاتھ پائوں پھولتے جاتے ہیں۔ ان کے چہروں سے بہنے والا پسینہ دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ انہیں تو کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں بس ایک ہی دھن ہے کہ جلد از جلد ٹرمپ کی تذلیل کرنے والی اپنی ٹویٹس کا اس دنیا سے نام و نشان مٹا دیں۔ پانچ نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات میں کملا دیوی کے پجاریوں اور ٹرمپ کے جانی دشمنوں کا یہ کوئی نیا پینترا نہیں بلکہ فارم47 اور الیکشن کمیشن کی نا قابل فراموش خدمات سے وطن عزیز پر قبضہ کر کے بیٹھے ہوئے ان لوگوں کی یہ پرانی عادت ہے کہ ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ اپنے قارئین کی یاد دہانی کیلئے کملا دیوی کی طرح ہیلری کلنٹن کی کہانی یاد کرائے دیتے ہیں جب کملا کی طرح ہیری کلنٹن ٹرمپ کے خلاف صدارتی الیکشن میں مد مقابل تھی تو اس وقت بھی آج کا یہی حکمران ٹولہ کملا کی طرح ہیلری کلنٹن کی حمایت میں اسی طرح سب سے پیش پیش تھا۔ جس طرح ہمارے وطن عزیز کا قابل فخر میڈیا 8 فروری سے انتخابات سے کئی ماہ پہلے اور تخت پر قبضہ کرنے کے بعد سے اب تک کپتان کی کردار کشی اور مخالفین کے دودھ میں دھلے ہوئے چہرے دکھاتا رہتا ہے اسی طرح امریکہ کا ہر اخبار، ہر ٹی وی چینل، جن میں فوکس نیوز، واشنگٹن پوسٹ، سی بی ایس، این بی سی اور بلومبرگ جیسے دیو شکن چینلز شامل ہیں ٹرمپ کو ایک مجرم ، اناڑی اور جعل سازی کے34 مقدمات کی تفصیلات سنا سنا کر ووٹرز کا رخ دیوی کی طرف گھماتے رہے لیکن نہ جانے کیا ہوا کہ پاکستانیوں کی طرح امریکی عوام نے بھی سرکاری میڈیا کی بجائے سوشل میڈیا کو ہی اپنا ذریعہ معلومات بنالیا اور یہ بڑے بڑے چہرے الٹے پڑے ہیںکہ خان کی طرح ٹرمپ نے بھی میڈیا کے پہاڑوں کو اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ ایلون مسک جنہوں نے ٹرمپ کی انتہائی کامیاب اور حیران کن انتخابی مہم چلائی وہ امریکہ کے حالیہ صدارتی الیکشن میں بار بار کہتے رہے کہ شہری صحافت روائتی میڈیا سے آگے نکلتی جا رہی ہے اور یہ بات پاکستان اور انڈیا سمیت دوسرے کئی ممالک میں ثابت ہو تی جا رہی ہے کہ اب لوگ سوشل میڈیا پر زیا دہ یقین کرتے ہیں ۔ہاں ایک فرق ہے کہ اگر میڈیا آزاد ہو اور سب کو یہ یقین ہو جائے کہ جو وہ سن رہے ہیںاور دیکھ رہے ہیں وہ کسی کشش میں تولا گیا لفط نہیں تو شائد وہاں سوشل میڈیا وہ مقام حاصل نہ کر سکے ۔ امریکی الیکشن میں مین سٹریم میڈیا ٹرمپ کے خلاف تھا اس لئے ٹرمپ نے کئی پود کاسٹ سے روائتی باتوں کی بجائے اپنے خیالات کو اجاگر کیا ۔ یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر پوسٹس کیں۔ جبکہ ان کے مخالف ڈیمو کریٹس نے روائتی میڈیا کو استعمال کیا اور سوشل میڈیا پر اپنی تنخواہ دار ٹیم کو اسی طرح بٹھا دیا جیسے نواز لیگ نے آٹھ مئی کی انتخابی مہم میں بٹھایا تھا۔ ایلون مسک کی بات اب شائد سب کی سمجھ میں آ رہی ہو گی کہ لیڈران کو کسی پر بھروسہ کرنے کی بجائے اب بذات خودX پر پوسٹ کرنی چاہئیں۔کیا وہ وقت آن پہنچاہے کہ لوگ شہری صحافت اور صداقت کو ہی قابل قبول سمجھنے لگیں گے؟۔ پانچ نومبر 2024 کا امریکی انتخاب تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کرے گی کہ اس دن امریکیوں نے ٹرمپ، جوایک سزا یافتہ مجرم تھا، کو تاریخی کامیابی دی لیکن خان کی بجائے ٹرمپ خوش قسمت رہے کہ ان کے ہاں فارم47 نام کی کوئی شے نہیں جو ری پبلکن کی جگہ ڈیمو کریٹ کو یہ کہہ کر تخت نشین کرا دیتا کہ’’ جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘۔ افسوس ان کے ہاں ایسا انتظام نہیں ورنہ دنیا دیکھتی کہ جمہوریت کس طرح امریکی عوام سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا انتقام لیتی ہے‘‘ جب ٹرمپ ہیلری کلنٹن کے مد مقابل تھے تو اس وقت بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز امریکی صدارتی انتخاب کیلئے ہیلری کے مد مقابل ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریروں اور بیانات کے حوالے سے ان پر طنز اور تنقید کے تیر برساتے نہیں تھکتے تھے’’ لیکن جیسے ہی انتخابات مکمل ہونے کے بعد کیلیفورنیا اور چند ایک دوسری ریا ستوں سے ری کائونٹنگ کی امیدیں دم توڑنے لگیں تو سب کے طوطے اڑنے لگے کہ ہائے رام یہ کیا کر دیا؟۔ ان کے مقابلے میں اس وقت کا ریکارڈ دیکھیں تو عمران خان کی پالیسی ان سب سے بہتر اور ایک پاکستانی سٹیٹس مین کی حیثیت سے انتہائی شاندار اور مناسب تھی کیونکہ انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلق یا دلچسپی شخصیت کی بجائے امریکی صدر سے ہونی چاہئے، چاہے وہ ہیلری ہو یا ٹرمپ؟۔ یہی وجہ ہے کہ کل ہی کپتان نے اپنی بہن علیمہ خان سے جیل میں ہونے والی ملاقات میں کہا ہے کہ ٹھیک ہے کہ اسے جیل یاترا اور سختیاں دلوانے والا بائیڈن ٹولہ اب عوام کی نفرت کا نشانہ بن کر دفع ہو چکا ہے لیکن مجھے ٹرمپ کی بجائے اپنے عوام پر بھروسہ ہے جو میری اصل طاقت ہیں اور عمران خان نے اپنی بہن علیمہ خان کے ذریعے قوم کو یہی پیغام دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے امیدیں رکھنے کی بجائے اللہ اور اپنے قوت بازو پر بھروسہ کیجئے۔ ٭٭٭٭٭٭

بشکریہ ڈان ںیوز