27 اکتوبر 2021 ء کو بھارت نے اڑیسہ میں واقع عبد الکلام آزاد کے نام سے موسوم جزیرے سے طویل رینج کے نیوکلیئر وارہیڈ کے حامل اگنی5 کا جب کامیاب تجربہ کرتے ہوئے بڑھک کے انداز میں للکارے مارتے ہوئے اعلانات شروع کر دیئے کہ ہم نے اب وہ نشان منزل عبور کر لیا ہے جس کیلئے مدتوں سے کوششوں میں مصروف تھے اس سے پہلے جیسے ہی1998 میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو جنتا پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ سمیت ہندوتوا نے پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں ۔ اب ذرا سی بھی چوں چرا کی تو تمہارا وہ حال کریں گے کہ زندگی بھر یاد رکھو گے۔ بھارت کا ایٹمی پروگرام کسی اور کیلئے نہیں بلکہ صرف پاکستان کیلئے تھا ۔ایڈوانی سمیت تمام مرکزی وزراء پاکستان کو حقیر سمجھتے ہوئے دھمکیاں دینے لگے کہ آزاد کشمیر چھوڑ دو ،گلگت بلتستان سے نکل جائو سر کریک سے مزید پیچھے چلے جائو ان کا انداز اور پاکستان سے طرز تخاطب ایسا تھا جیسے اپنے کسی ہاری اور مزارع سے بات کررہے ہوں۔ اس قسم کا فرعون نما فخریہ اور متکبرانہ انداز بھارت کی اس سوچ کی عکا سی کرتا تھا جس سے اس کا مقصد اس کے سوا ور کچھ نہیںتھا کہ اپنے ارد گرد اور خطے کی تمام قوموں کو اپنے رعب اور خوف میں لا کر ان پر اپنی بالا دستی قائم کر سکے۔ اڑیسہ کے جزیرہ عبد الکلام کے ساحلی علا قے سے کئے گئے اس ٹیسٹ فائر نے دوسری قوموں کیلئے بھی خطرات کی گھنٹیاں بجا دی جس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ دوسری قوموں نے بھی سوچنا شروع کر دیا کہ وہ بھی اس دوڑ میں شامل ہو نے کی کوشش شروع کر یں ورنہ بھارت سب کو نگل جائے گا۔ دوسرے ممالک کو کسی کی پرواہ کئے بغیر اس قسم کی طاقت کا حصول اسی طرح ہو نے لگا جیسے1998 میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کرتے ہوئے پاکستان کیلئے راہ ہموار کر دی تھی۔ وہ بھی بلا خوف دنیا کو اپنے ایٹمی قوت ہونے کا بتا سکے اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ بھارت ایک ایسی غیر ذمہ دار ایٹمی قوت ہے کو ہر دوسری قوم کی ایٹمی قوت بننے کی جانب بڑھنے کیلئے ہمہ وقت اکساتی رہتی ہے جس سے دنیا پر ہر وقت ایٹمی جنگ کے بادل منڈلانا شروع ہوگئے ہیں۔ توسیع پسندی اور اپنے آپ کو سب کا چوہدری اور خطے کا بلا شرکت غیرے مالک سمجھنے لگ جانا بھارت کی فطرت میں ہے جسے آج کی دنیا میں کوئی قوم بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ اگنی پانچ کے کامیاب تجربے کے بعد بھارت کیDRDO( ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن) سے وابستہ سائنسدانوں نے دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا اگنی بیلاسٹک میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد اب وہ درمیانے اور بین البر اعظمی میزائل رکھنے والی طاقتوں کی اس صف میں شامل ہو چکے ہیںجن میں نیوی گیشن اور گائیڈینس کی ٹیکنالوجی شامل ہے اوراسے جلد ہی بھارتی فوج کے حوالے کر دیا جائے گا جس سے بھارت کو ایک ایسی صلاحیت حاصل ہو جائے گی جو بھارت کو اس کے دشمنوں کے برابری جگہ پر لے آئے گی یہ کہتے ہوئے اس کا اشارہ چین کی جانب تھا ۔اگنی پانچ کے تجربے کے بعد بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم کو مبارکباد یتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے بعد دنیا بھر میں کہیں بھی کسی بھی جگہ پر موجود بھارتیوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہو گا کہ وہ اب دنیا کی کسی بھی ایٹمی قوت سے کم نہیں رہے۔اگنی پانچ کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد ایشیا کے تمام ممالک کے علا وہ پاکستان اور چین ہی نہیں بلکہ یورپ بھی اب بھارت کی ایٹمی صلاحیت کی رینج میں آ چکا ہے اگنی پانچ میزائل کے تجربے کے بعد بھارت دنیا کے ان35 ممالک کی اس میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول گروپ میں شامل ہو چکا ہے جوUnmanned delivery system for Nuclera Weapons پر نظر رکھ سکیں گے نریندر مودی نے باچھیں کھولتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ17 میٹر طویل اور 50 ٹن وزنی اگنی پانچ 5000 کلومیٹر تک مارکرنے والے اس میزائل میں ایک ہزار کلو گرام وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگنی پانچ کا نشانہ دنیا کا ہر ملک بن سکتا ہے۔ پاکستان تو بھارت کے پہلو میں ہے اس لئے اگنی پانچ کے نشانے پر تو دنیا کا ہر ملک آ سکتا ہے اس سے پہلے بھارت اگنی تھری کا تجربہ بھی کر چکا تھا اور جیسے ہی بھارت نے اگنی تھری لانچ کیا تو پاکستان آرمی نے بھی 2000 میں جنرل مشرف کی قیا دت میں انتہائی راز داری سے پاکستان کے نیشنل انجینئر نگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن نے بیلسٹک میزائل پر کام شروع کر دیا ۔ پاکستان 9مارچ 2015ء کو شاہین تھری کا کامیاب تجربہ کر چکا تھا لیکن یہ میڈیم رینج کا بیلسٹک میزائل تھا جس کی رینج2750 کلومیٹر تھی اور یہ رینج بھی صرف بھارت کے انڈیمان اور نکوبر جزائر جہاں اس کے نیوکلیئر سینٹرز ہیں تاکہ کسی بھی جنگ کے دوران یہ نشانہ بنائے جا سکیں اور ان کو بھارت اپنے ثانوی سٹرائیکر مرکز کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔۔!!
145