جو ہوا ہم سانس کے طور پر اپنے پھیپھڑوں کے ذریعے جسم میں داخل کرتے ہیں اسے اگلے ایک منٹ میں باہر نکالنا پڑتا ہے ورنہ ہم زندہ ہی نہیں رہ سکتے ۔ بحیثیت ایک انسان کے نفرت غصہ جیسے منفی جذبات جنہیں ہم دنوں،ہفتوں، مہینوں اور برس ہا برس تک اپنے جسموں میں لئے پھرتے ہیں اور غصے نفرت پر مبنی یہ خیالات اور جذبات اگر جلد باہر نہ پھینک دیئے جائیں تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خطرناک صورت حال اور بھیانک تکلیف اچانک کسی بہت بڑے پچھتاوے کے سمندر میں غرق کر سکتی ہے۔ غصہ ایسا وہ برا ناگ ہے جو اپنے غصے کی وجہ سے زندگی گنوا بیٹھتا ہے کہتے ہیں کسی گائوں میں شام گہری ہوتے ہی دوکان بندکر نے کے بعد ترکھان نے اپنے گھر کی راہ لی تو اس کے جانے کے بعد رات گئے کہیں سے گھومتا ، رینگتا ہوایک کوبرا ناگ اس کی ورکشاپ کے دروازوں کے نیچے سے اندر جاگھسا ادھر ادھر رینگتا ہوا اندھیرے میں وہ ترکھان کی آرا مشین کے قریب سے گذرا تو آرے کے لمبے اور تیز دندے اس کی کھال میں جا چبھے بس پھر کیا تھا غصے سے کوبرا ناگ نے تیزی سے پلٹتے ہوئے اپنی پوری پھنکار اور طاقت سے آرا مشین کو دشمن سمجھتے ہوئے کاٹنے کی کوشش کی تو آرے کے بڑے اور تیز نوکیلے دند وں سے اس کا منہ زخمی ہو گیا جس نے کوبرا ناگ کو پہلے سے بھی زیا دہ غصہ دلا دیا منہ پر لگنے والے ان نئے زخموں نے ناگ کو غصے سے مزید پاگل کر دیااور اس نے اپنے پورے جسم کو آرے کے گرد لپیٹتے ہوئے پوری شدت سے کسنا شروع کر دیا تاکہ اس کے دشمن کا سانس بند ہو نے کے ساتھ ہڈیاں تک بھی کڑا کڑا کر کرچی کرچی ہوجائیں۔ اپنے انتقام اور غصے کی شدت کی کیفیت میں کئے جانیوالے اس حملے سے جیسے جیسے ناگ آرا مشین کو کسنے کی کوشش کرتا اس کے تیز نوکیلے دھار سے لگنے والے زخموں سے اسے مزید تکلیف پہنچتی جس سے وہ غصے سے اور بھی بے قابو ہو کر آرے کو جکڑنے لگتا تاکہ اس کا دشمن ختم ہو جائے۔ اگلی صبح ترکھان جونہی اپنی ورکشاپ میں داخل ہوا تو ایک عجیب وغریب منظر اس کے سامنے تھا جسے دیکھتے ہی وہ چیخیں مارتا ہوا باہر کو دوڑا اس کی زبان سے الفاظ نکل ہی نہیں رہے تھے ملحقہ دوکانوں کے لوگ بھاگ کر اس کی طرف آئے تو دیکھا کہ ورکشاپ کا اندر ایک بہت بڑا کالے رنگ کا کوبرا ناگ کے گوشت کے لوتھڑے اور ہر طرف خون ہی خون تھا۔ اور یہ خون کوبرا ناگ کے تکبر، طیش اور غصے کی صورت میں زمین پر بکھرا اپنی بے چارگی اور بد ترین موت کی داستان سنا رہا تھا۔ ہماری روزمرہ زندگی میں نہ جانے کتنے گھرانے اسی غصے اور نفرت سے اجڑ کر رہ جاتے ہیں اور یہ غصہ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اس نے مجھے گھور کر کیوںدیکھا، میری گاڑی سے آگے نکلنے کی کوشش کیوں کی؟۔ موٹر سائیکل اور گاڑی مجھ سے یا میری گاڑی سے ہلکی سی بھئی کیوں ٹکرائی ؟ کسی نے مجھے گالی کیوں دی اور یہ گالی سن کر طیش سے بے قابو ہونے والا جب سامنے والے کو زخمی یا قتل کر دیتا ہے تو اپنے اس جرم کی پاداش میں قانون کے ہتھے چڑھنے کے بعد تھانے کے عام سے سپاہیوں کی زبان سے صبح شام سر جھکائے اُن چند گالیوں سے بھی بڑھ کر نہ جانے کتنی گندی اور فحش گالیاں سنتا ہے۔پولیس کی حوالات سے جب وہ جو ڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جاتا ہے تو اس کی ماں، بہنیں اور بیٹیاں ملاقات کیلئے جیل یا بخشی خانے پہنچتی ہیں تو اس سے ملنے کے مراحل طے کرتے ہوئے بہنوں ، بیٹیوں اور بیوی کو اس قدر گندی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ انسانیت شرما جاتی ہے۔ جیل کے اندر اس کا اپنا جو حشر ہوتا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے۔ مقدمے کی سنگینی کی نوعیت جیسے جیسے بڑھتی ہے تو وہ شخص جس نے ماں بہن کی گالی پر قتلکیا ہوتا ہے گھورنے یا ہلکی سی گاڑی لگ جانے پر آپے سے باہر ہوجاتا ہے اسی آدمی کے پاس معافی مانگنے کیلئے اپنی بہنوں ، بیٹیوں اور ماں کو بھیجتا ہے جو ننگے سر اس کے اور اس کے گھر کے ایک ایک فرد کے سامنے ہاتھ جوڑتی اور پائوں پڑتی ہیں ۔ روزمرہ زندگی میںمعمولی معمولی باتوں پر غصے میں آکر ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس کا تو کچھ نہیں بگڑا لیکن ہم نے اپنا بہت زیا دہ نقصان کر لیا ہے اچھی اور پر سکون زندگی کیلئے کچھ چیزوں ، کچھ لوگوں ، کچھ حوادث اور کچھ باتوں کو نظر انداز کر دینا آئندہ زندگی کیلئے امن و سکون اور خوشحالی کا پیغام لاتا ہے ورنہ ملک بھر کی جیلوں کا سروے کر کے دیکھ لیجئے کہ ہر جرم کے پیچھے غصہ، نفرت، حسد نظر آئے گا اور یہ چند سیکنڈ کا غصہ ہے چند لمحوں کی چودھراہٹ کا نشہ ہوتا ہے’’ سامنے کی بات ہے کہ چند لمحوں کی عزت اور ناک کٹ جانے کے غصے نے ایک کو بد قسمتی سے پھانسی اور باقی دو کو عمر قید کی سزا دلوا دی تھی۔ غصہ یہ تھا کہ لیڈر قسم کے چند لوگ جب اس کے گھر ملنے آئے تو ان کیلئے سخت گرمیوں کے موسم کی نسبت سے سافٹ ڈرنک لینے کے بھیجے گئے بچے نے آ کر سب کے سامنے بتا دیا کہ ودوکاندار کہتاہے کہ پہلے والی بوتلیں واپس کریں گے تو پھر دوسری بوتلیں دوں گا ۔۔!
78