467

میرے نوجوان نسل کے سوچ کو سلام! 


کہتے ہے انسان تو ہر دن پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کبھی کبھی پیدا ہوتا ہے

اب سوال یہ ہے کے انسان اور انسانیت میں کیا فرق ہے؟

چونکہ دکھنے میں دونوں الفاظ ایک جیسے لگتے ہیں

انسان وہ ہیں جو صرف اپنا سوچے اور اس کے لئے خود سے زیادہ اہم کوئی بھی نہیں ہو  وہ ظلم دیکھتا تو ہے لیکن اس کے خلاف نہیں بولتا

 اسے اپنے علاوہ سب فضول لگتے ہے اس کے ذہن میں "ہم" جیسا الفاظ کبھی نہیں آتا وہ ہمیشہ "میں میں" کرتا رہتا ہے

 اور انسان مردہ ہو یا زندہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کے اس کا ضمیر ہی جب مر چکا ہے تو خالی ڈانچہ اس  اسپتال کے مانند ہے جہاں سہولیات تو موجود ہے لیکن علاج کرنے والا نہیں ہے

انسانیت اسکا بلکل الٹ ہے انسانیت میں "میں" والا لفظ بلکل قابل قبول نہیں ہیں انسانیت کا مطلب اپنے ارد گرد کے لوگوں کا درد بانٹنا انکے درد و غم اور خوشی سب کو اپنا سمجھنا یہ ہے انسانیت

انسانیت کا کسی مذہب یہ کسی بھی ذات سے کوئی تعلق نہیں انسانیت کا تعلق انسانوں سے ہیںاس دور میں خالی دماغ انسان اربوں کے تعداد میں زندہ ہیں لیکن اسی دور میں ہی ہمارے کچھ محنتی نوجوان بھی ہے جن میں انسانیت ہے اور وہ انسانیت کا درس دیا کرتے ہیں
وہ ایتیسٹ ہو کے سوچتے ہیں 
انکا کام بس انسانیت کی مدد کرنا وہ گھر سے نکلتے وقت یہ نہیں سوچتے کے مجھے صرف ہندووں کی مدد کرنی ہے یا مسلمان ،عیسائی یا سکھ کی مدد کرنا ہیں

بلکے وہ گھر سے یہ سوچ کے نکلتے ہیں کے ہمہیں صرف انسانیت کو بچانا ہے انسانیت کی مدد کرنی ہے ہمارا کسی مذہب یا کسی فرقے سے کوئی واسطہ نہیں

دنیا میں یہ "کرونا"کوئی پہلی یہ انوکھا وباء نہیں ہے بلکہ ہر سو سال بعد ایسے وباء آتے رہتے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہیں کے ان وباء کے دوران انسان کسی کام کا نہیں رہا جب اس میں انسانیت نہ ہو کیوں کے انسان صرف خود کو بچاتا ہے اور اسی چکر میں شاہد خود کو بھی نہ بچا پائے 

لیکن "کرونا" جیسے وباء کے بعد دنیا میں جتنے بھی سختیاں سامنے آئے ہیں بھوک و افلاس جیسے سختیوں کا ہمیشہ انسانیت نے ڈٹ کے مقابلہ کیا ہیں

اسی طرح آج بھی "ایف آر فاونڈیشن" شہید میر حاصل فاونڈیشن"بلوچ فاونڈیشن" میر ڈیل" شاہ میر فاونڈیشن"الخدمت فاونڈیشن" کراچی تینکرز فاروم" کراچی کرونا فوڈ ڈرایئب" ریئزینگ یوتھ آف بلوچستان" جی ڈی سی فاونڈیشن" ٹرانس کمیونیٹی اور ان جیسے بہت سارے فاونڈیشنز اور بہت سے انسان دوست تنظیمیں یا زاتی طور پے  انسانیت کے لئے کام کرنے والے نوجوان اپنے ضمیروں کو مطمیئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

کوئی غریب گھرانوں تک راشن پہنچا کے اپنا فرض نبا رہا ہے تو کوئی اگاہی پروگرام کروا کے اپنا فرض نبا رہا ہے تو کہی ہمارے جانباز ڈاکٹرز اپنے جانوں کی پروا کئے بغیر دن رات قوم کے خدمت پے لگے ہیں

نوجوان نسل وہ طاقت ہیں جو اگر کوئی کام دل سے کرنے کا ارادہ رکھے تو اسے کوئی بھی مشکل اپنے ارادے سے نہیں روک سکتا 

اس نازک حال میں بہت سے بے ضمیر انسان اپنا منہ چپائے پھر رہے ہیں لیکن ہمارے بہادر نوجوان قوم کے غریبوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کو انکی ضرورت ہو

کچھ ایسے تنظیمیں ہیں جو طالب علموں نے خود اپنے ہی محنت اور اپنے بلبوطے سے ہی انکی شروعات کی تھی اور آج وہ بہت سے گھروں تک پہنچ چکے ہیں اور بہت سے گھر انکے امید میں بیھٹے ہوئے ہیں میں ان سب نوجوانوں کی جدوجہد اور انسانیت کو سلام پیش کرتی ہوں

 اور انکو ہمیشہ یہ بتانا چاونگی کے تنقید ننانویں لوگ بھی کریں اور ساتھ ایک بھی ہو تب بھی پیچے نہیں ہٹنا کیوں کے کیا پتہ کتنے معصوم بچے اس امید پے بیھٹے ہو کے آج کوئی انکل ہمہیں کھانا دینے آہئیگا

مصیبتیں چٹان ہو اور راستہ کنکر دے بھرا ہوا پھر بھی یہ حوصلا ہو کے میں ان پتھروں کواپنے مقصد کے لئے ضرور پیچھے چھوڑ دونگا کیوں انسان بغیر مقصد کے زندہ رے نہیں سکتا

 اور مقصد کو جو لوگ بیچھ راستے پے چھوڑ دیتے ہیں تو صرف وہ مقصد ہی نہیں بلکہ اس سے جڑے ہوئے ہر چیز تم سے نفرت کرنے لگے گی اور تمہارا ضمیر بھی تمہارا ساتھ چھوڑ دیگا
 

بشکریہ اردو کالمز