577

منشیات ضمیروں کا قاتل!

منشیات وہ بھلا ہے جو ایک طرف گھر تباہ کر رہا ہیں تو
 دوسری طرف لوگوں کے ضمیر مار رہا ہے منشیات فروش وہ بے ضمیر لوگ ہیں جن کو سرخ نوٹوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھائی دیتا
 
منشیات فروش وہ خون خوار لوگ ہیں جن کو تبائی پیھلانے کے علاوہ کچھ نہیں آتا وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کے انہیں پیسہ ملے وہ آرام سے رہیں اور زندگی کے سارے خوشیاں نصیب لیکن افسوس کے تم جن نوجوانوں کو برباد کر رہے ہو انکی ماوں کے ہا جب تمہیں لگینگے تو تم چین سے سو بھی نہیں پاوگے اور نشئی وہ مہرے ہیں جن کو ٹشو کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہیں اور انکے گھروں کے چہلے ہمیشہ کے لئے بجھ جاتے ہیں اور ہنکے والدین انکے دیکھ کے ہر روز مرتے ہیں اور وہ لوگ آرام سے خود کو تبائی کی طرف لے جانے والوں کے بھی ساتھ دے رہے ہیں اور انکے ساتھ قدم سے قدم ملا کے چل رہے ہیں 

مجھے کسی سنگت نے کہا کے تم اس کام سے بہتر ہیں کے تعلیم پیھلاو تو میں اس سنگت کو یہ جواب دونگی کے ہمارے تعلیمی ادارے جنہیں مندر یا مسجد کا رتبہ دیا جاتا ہیں وہاں بھی استاد کے نام پے کچھ دبے ہیں جو طالب علموں کو نشے میں لگا دیتے ہیں اور ہمارے پڑھے لکھے نوجوان  منشیات فروشی میں لگے ہیں وہ پڑھے لکھے نوجوان جو اپنے گھر کے واحد چراگ جن کو اپنے والدین کے سہارے قرار دیئےجاتے ہیں جو  پڑھے لکھے ہونے کے باوجود  نشہ کرتے ہیں انکا کیا ؟ ہمیں ان منشیات فروشوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہیں تا کے ہماری تعلیمی نظام بہتر ہو بچے منشیات کے اہڈوں کے بجائے اسکولوں کا رخ کرسکے

ہمارے لوگ کھلم کھلا منشیات کے کاروبار میں مصروف ہیں ہر عام و خاص دوکان میں منشیات فروخت کی جاتی ہیں اور ہماری غلطی یہ ہے کے ہم انکو بڑاوا دے رہے ہوتے ہیں انکا حوصلا افزائی کرتے رہتے ہیں آخر کیوں اس لئے کے وہ طاقت ور ہیں یہ اس لئے کے وہ خون خوار ہیں یہ اس لئے کی وہ پیسے دیکھا کے اور پھینک کے کچھ بھی کر سکتے ہیں 

تو میرے بھائی! ہمارے قلم اور تعلیم کی طاقت انکے پیسوں اور بندوقوں کے طاقت سے دوگنی ہیں ہم جتنا ڈرتے رئینگے ہماری اتنی ہی نسلیں تباہی کی طرف راغب ہونگی 

ہم قوم بچانے نکلے ہیں او ہمارے ساتھ چلو
ہم منشیات مٹانے نکلے ہیں او ہمارے ساتھ چلو
 

بشکریہ اردو کالمز