منشیات سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہیں کے منشیات کیا بھلا ہے لیکن جان بوج کر خود کو اس منشیات کے کنویں میں ڈال رہے ہیں
منشیات سے ہم اپنے بچوں کو بچا سکتے ہیں کیوں کے ماں باپ ہی تو بچوں کے برے حالت کی زمہ دار ہیں اگر ہم اپنے بچوں کو برے صحبت سے بچائے انکے پاس وقت گزارے یا انکو ہر محفل میں برا بھلا نہ کہے تو وہ کسی حد تک منشیات سے بچ سکتے ہیں
جیسے کے ہم ہر کسی کے سامنے بچے کی غلطیاں بیان کرتے ہیں تو بچہ مایوس ہو جاتا ہے اور اس مایوسی کو دور کرنے کے لئے برے دوستوں کے صحبت میں بیٹھ جاتا ہیں لیکن ماں باپ کو پتہ تک نہیں ہوتا تو اسی طرح وہ بچہ اسی آگ میں جل جاتا ہے اور خود کو برباد کر لیتا ہے
ہمہیں جب پتہ چلتا ہیں کے ہمارا بچہ غلط راستے پے چل رہا ہیں تو ہم اسے مار پیٹھ کر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ مار پیٹھ اسکے لئے بے عزتی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لینے کے لئے اور زیادہ نشے کی طرف بڑھتا ہے اور خود کو زیادہ تباہ کرتا ہے
یہ فطری بات ہے کے جو لوگ نشہ کرتے ہیں ہم انکو حقارت بھری نظر سے دیکھتے ہیں یہ میرا زاتی تجربہ ہیں میں پہلے جس بھی نشئی کو دیکھتی تھی مجھے غصہ آتا تھا اور اس سے نفرت ہونے لگتا تھا اور ہم ان نشئی کو ہی اپنا گنہگار سمجھتے ہیں کہی پے بھی کوئی چوری ہوتی ہے ہم اس نشئی کو چور مان کے سزا دے رہے ہوتے ہیں لیکن یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ انکے بربادی میں کہی نہ کہی ہمارا بھی ہاتھ ہیں ہماری ریاست اور منشیات فروشوں کا ہاتھ ہیں
لیکن ہمارا ہاتھ جب ان منشیات فروش قوم دشمنوں تک نہیں پہنچھ پاتا تو ہم سارا الزام اس نشئی کے سر پر ڈال دیتے ہیں انکے آنکھوں میں جو شکوہ ہوتا ہیں ہم یہ دیکھ ہی نہیں پاتے کہ وہ کس ازیت میں ہیں کیسے دنیا کا سامنا کر رہے ہیں کس طرح گھر والوں کے باتیں سنتے رہتے ہیں
ہمیں سب سے پہلے اپنے علاقے میں جتنے بھی نشئی ہے انکو سننا چائیے کے انکے بربادی کے پیچھے آخر کیا وجہ ہے اور پھر ہمہیں ان سارے منشیات فروشوں کو ٹارگٹ کرنا ہیں جو قوم دشمن ہیں اور نوجوانوں کے دشمن ہیں انکو بے نقاب کر کے ہی تو ہم اپنے قوم کو بچا سکتے ہیں
اگر ہر انسان حکومت سے نشئی لوگوں کے علاج کے لئے اسپتال کا مطالبہ کریں تو حکومت مجبور ہو جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ ہمہیں ایک ہو کے آواز اٹھانا ہیں ہمہیں اپنے قوم کے لئے ایک ہو کے دیکھانا ہیں
ہمیں چائیے کے ہم اپنے بچوں کا خیال رکھیں انہیں ہر غلطی پے پیار سے سمجھائے انکوں ہر سہولت دیں تاکہ ہو اس لعنت سے دور رہیے اور سب سے بڑی بات کہ ہم بلوچستان کے ہر تحصیل میں نشئیوں کے علاج کے لئے ایک اسپتال کا مطالبہ کریں کیوں کے جب ہر نشئی کی علاج ہو رہی ہوگی تو ان منشیات فروشون کا دہھندہ رک جائے گا انکا منہ کالا ہوگا اور وہ خدا سے اپنے زندگی کا بیک مانگتے رئینگے.