381

آج کی قدروقیمت!

وقت کسی کے لئے نہیں رکتا کل
 ماضی تھا آج حال ہے کل مستقبل کہلائے گا ماضی میں بہت سے ایسے کام ہم سے ہوئے ہیں کچھ جان کر کچھ انجان ہو کے لیکن اگے بڑھنے کے لئے ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں کو یاد رکھنا تو چائیے لیکن ان غلطیوں کی افسوس کرتے کرتے اپنے حال کو خراب نہیں کرنا چائیے
 
کیوں کے کہتے ہیں گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا لیکن ہاں البتہ اس حال کو بہتر بنا کے کل کے غلطیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں

اپنے ماضی یا مستقبل کا سوچ کے اپنے حال کو ضائع نہ کریں کیوں کے حال وہ خزانہ ہے جس کو آپ اچھا بھی بنا سکتے ہے اور برا بھی کیوں کے اس پے تمہارا پورا اختیار ہے جو تم چائیے کر سکتے ہو جو چائیے لے سکتے ہو بلکہ یہ کہتے ہیں کہ حال کا مطلب ہے "قسمت کو آزمانہ" تو حال میں اپنے غلطیوں کا پچھتاوا کرتے کرتے یہ مت بھولنا کے تم اپنے حال سے محروم ہو رہے ہے 

اپنے آج کی قدر کرو آج کے لئے جیو کیوں کے نہ تم گزرے ہوئے کل کو واپس لا سکتے ہو اور نہ ہی اپنے آنے والے کل کا معلومات لے سکتے ہو 

آج کے لئے جینے کا احساس اپنے دل میں رکھو کیوں کے جیتے تو سب ہیں لیکن انسانیت اور انسانوں کے لئے کوئی نہیں جیتا جیتے تو سب ہیں لیکن احساسات کے بغیر  جینے کا مطلب بے معنی جینے کے برابر ہے

جو کرنا ہے آج کرو ہم اکثر کہتے ہیں ہے نہ آج نہیں کل سے پڑھائی شروع کرونگی آج نہیں کل اپنے کام کرونگی لیکن میرے دوست کل کس نے دیکھا ہے کیا آپ کہہ سکتے ہے کے کل آپ زندہ رئینگے کیا آپ کہہ سکتے ہے کے کل کو آپکو پڑھنے کا موقع ملے گا 

نہیں میرے دوست! اسی لئے تو رب نے ہمیں آج کا دن نوازا ہے تاکہ ہم اپنے طریقے سے جئے اور اپنے آج کو بہتر بنائے تا کے کل پچھتاوے سے بچ جائے اپنے گزرے ہوئے لمعے کے لئے اپنے آج کی خوشیوں کو برباد کرنا بیوقوفی نہیں بلکہ خوشیوں کا قتل کرنا ہے تو قاتل بننے سے اچھا ہے انسان بن کے اپنے آج کی قدر جان کے آج کو گزاروں نہیں بلکہ آج کو ایسے گزاروں جیسے کہ آخری ہو
 

بشکریہ اردو کالمز