کرونا وائرس تیز رفتار میں پیھلنے والی ایک وبا اور مرض ہے جس نے اب تک بہت سارے ممالک کو اپنے لپیٹ میں لیا ہے اور بہت سارے ممالک میں ہے تباہی پیھلا چکی ہے
چائنہ جیسے ترقی یافتہ ممالک نے ایک حد تک اس بیماری کو کنٹرول کیا ہے ڈاکٹرز کی دن رات محنت اور قابلیت جنہوں نے اپنے جان کی پروا کئے بغیر ملک کے لئے کام سرانجام دے کر انسانیت کا ثبوت دے دیا بغیر ایمان اور بغیر کسی مذہب کے ان سب سے بالاتر ہو کے انہوں نے ملک کو بچایا!
بہت سے ترقی یافتہ ملک اس وبا سے تباہ ہو رہے ہیں جیسے کے اٹلی جو تقریبا سائنسی جدوجہد کا مرکز ہے وہ تباہی کی طرف ایسے جا رہا ہے ہر تین منٹ میں سڑکوں میں ایک لاش دیکھاہی دیتی ہے
جب بات آتی ہے پاکستان کی تو یہاں نہ وسائل موجود ہے اور نہ شعور یافتہ لوگ جو اس مدعے کو سنجیدہ ہو کے لیں جو قوم اور ملک کو بچائے یہاں غربت اتنا زیادہ ہے کے جب جمعے کو دکانے بند ہوتی ہے تو غریب اور مزدور بھوکے سو جاتے ہے
اب یہاں بات آتی ہے لوک ڈاون کی تو جن جن ممالک کے حکومت نے لوک ڈاون کروائی ہے یا کرفیو کروائی ہے تو اپنے عوام کو بنیادی سہولیات جیسے کے ماسک ، سینیٹائزر، راشن وغیرہ فراہم کروا کے لوک ڈاون کی ہے تہ کے عوام بھوک سے نہ مرئے اور پاکستان میں ایسا کچھ نہیں بس کچھ انسان دوست عوام جو اپنی مدد آپ کے تحت حکومت کا کام سانجام دے رہی ہے
امریکہ جیسے سپر پاور ملک وینٹیلیٹرز کا رونا رو رہا ہے جب کے انکے پاس ڈیڑھ لاکھ سے ذائد وینٹیلیٹرز موجود ہیں اور ہمارے پاکستان میں دو ہزار وینٹیلیٹرز بھی نہیں ہے جب یہ وبا پورے ملک کو گیرلیگا تو پورا ملک تباہ ہوگا یہ کون سوچے گا ہماری نائل حکومت تو سیر سپاٹو میں مشگول ہے عوام مر جائے لیکن انکی معاشیت میں فرق نہ پڑیں
پاکستان پہلے سے بہت سے مرض میں مبتلا ہے جنکا علاج کوئی ویکسین نہیں کرسکتا کوئی کے حکومت نے تو اپنے نائلی کا ثبوت دے دیا ہے اب اس عوام کو کسی بھی حکومت پے بروسہ نہیں کراچی اور کوئٹہ میں اس سنگین حالات میں بھی لاپتہ افراد کے لاواقین اپنے بچوں کے جانوں کی بھیک مانگتے پر رہے ہے اور ہماری بہری حکومت اور ریاست کی خاموشی اسے نائل ثابت کرتی ہے
چائنہ کی جنگ صرف کرونا وائرس سے تھا لیکن پاکستان قوم کا جنگ زہنی غلامی ، جہالت اور وائرس تینوں کے ساتھ ہے وائرس کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک زہنی غلامی جو ہمہیں ملاوں کے جھوٹے انسوں سے بہکاتی ہے جہالت جو ہمیں ملاوں پے اندھا یقین کرنے پے مجبور کرتی ہے اور سائنس پے یقین نہیں ہوتا لیکن انتظار اس ویکسین کا ہوتا ہے جو یہودیوں کے ہاتھوں تیار ہو کے آتا ہے
اس قوم کا کیا جو کہتا ہے کے یہ اللہ کا عزاب ہے جو مسلمانوں تک نہیں ائے گا گناہ کریں مسلمان بچوں کے ساتھ ریپ کریں مسلمان رشوت خوری کریں مسلمان اور عزاب بغیر ایمان والوں پے جہالت کی انتہاء ہے اگر یہ عزاب ہے تو ہم مسلمان تو دودھ کے دلہے ہے تو یہ پاکستان تک کیوں آیا ہے یہ وائرس یہ ہماری طرح منافق انسان نہیں جن کے انکھیں ہو اور چن چن کے مارے
یہ وائرس سوشل میل میلاو سے پہلتی ہے اس لئے تو لوک ڈوان کروایا ہے لیکن ہم جائل لوگ ہے گھروں پے آرام نہیں کرتے یہ تک نہیں سوچتے کے بیچارے ڈاکٹرز اپنے جان کی پروا کئے بغیر ہمارے لئے باہر کام کرتے ہے لیکن ہم کہتے ہیں جو بھی ہو مسجدوں میں ہی نماز پڑھنی ہے اور اپنے ساتھ ساتھ سب کو اس وبا کی کنویں میں دکھلنا ہے
اس قوم کی جہالت کا اندازہ اس وقت ہو گیا تھا جب اس قوم نے ہر وبا کو اپنا دہندہ بنا کی ضروریات کے چیزوں کو دگنی داموں میں پیش کیا
ہم اگر میزائل، ایٹم بمب کے بجائے تعلیمی ادارے اور اسپتال بناتے تو شاہد ہمارا یہ قوم اتنا ذلیل نہ ہوتا