460

منشیات سے انکار!

   منشیات زہر ہیں اور ہم سب کو پتہ ہیں کے یہ زہر کون پیھلا رہا ہیں لیکن ہماری غلطی اتنی ہیں کے ہم اپنے جانوں کو زیادہ عزیز تر سمجھتے ہیں قوم کی 67 لاکھ جانوں سے زیادہ ہمہیں اپنے جان عزیز ہیں ہم غلط کو غلط کہنے سے بھی ڈرتے ہیں

 مکران جو امن کا گہوارہ کہلاتا تھا آج وہاں کھلم کھلا منشیات کا دہھندہ چل رہا ہیں پتہ سب کو ہیں کہ یہ منشیات فروش ہے کون لیکن پوچھنے پے وہ کہتے ہیں ہمہیں نہیں پتہ تربت میں اورسیز منشیات فروشوں کا اڈا ہیں اورسیز کے %40 سے  زیادہ لوگ منشیات کا کاروبار کرتے ہیں اور نوجونوں کو جلتے ہوئے آگ میں ڈالتے ہیں یہ جو اسلم شاہ کا فارم ہیں یہاں نشئی بیٹھ کے نشہ پیتے ہیں کیوں کے انکو پتہ ہیں کے ہمارا اڈا نزدیک ہیں ہم آرام سے لے سکتے ہیں بغیر ڈر اور خوف کے

 اورسیز کے اتنے زیادہ نئے مکان جو ابھی تک مکمل نہیں ہے نشئی وہاں جا کے نشہ پیتے ہیں کیچ گراہمر سکول کے پاس اگر میں کہوں 40% لوگ نشہ پیتے ہیں تو شاید میں غلط نپیں ہونگی اور سیز کے بہت سے دوکانوں میں نشہ بھکتا ہیں اور یہ میری اپنی آنکھوں دیکھی بات ہیں 

دشت جہاں پے اگر کوئی رات کے سہ پہر میں بھی باہر نکلتا تھا تو اس کو کوئی ڈر نہیں ہوتا تھا لیکن اب وہی دشت منشیات کا اڈا بن چکا ہیں بل نگور سے لے کر سنگئی تک اور بہت سے دشت ہیں جو اس لعنت کے لپیٹ میں آچکے ہیں جیسے کے شکرو جہاں میں ہر نوجوان نشے میں مبتلا ہیں 

دشت تولگی میں تو نشئی لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہیں اور  افسوس کے سن 2016 میں تو ایک باپ نے اپنے بیوی جو کے نشیئ تھی اس کے ساتھ ملکر نشے کی خاطر اپنے بچے کو 10000 میں پیچھ دیا اور پتہ نہیں نشے کے خاطر کتنے رشتے بھک گئے ہیں یہاں تو جو منشیات فروشوں پے قرضہ آتا ہیں وہ اپنے کنوارے بیٹیوں کو تک دے دیتے ہیں کیا یہئ ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان ؟

کلگ جو تربت سے ایک گھنٹے  کی فاصلے پے واقع ہیں وہاں تک بھی منشیات فروشوں نے اپنے جال بچا دئیے ہیں مکران میں ایک گھر بھی ایسا نہیں ہیں جہاں منشیات فروشوں کو ہر روز گالیوں سے نہیں نوازا جاتا لیکن گھر بیٹھ کے گالیاں دینا اس مسلئے کا حل نہیں اس مسلئے کا حل منشیات فروشوں کو سزا دلوا کے اپنے قوم کو بچانا ہیں

یہاں ہر کوئی منشیات کا جال بیچھا کو خود کو کنارہ کر لیتا ہیں لیکن ہم نے اگر اپنے اپ کو خود نہیں بچایا تو ہمیں کوئی نہیں بچا پائے گا گوادر جہاں پے اتنے زیادہ لوگ نشے میں مبتلا ہیں کے ہر دس دن میں ایک نشئی زندگی سے ہاتھ دھو بیھٹتا ہیں

منشیات کا جال حب کے ہر علاقے تک پہنچ چکا ہیں لوڑی پاڈا سے لیکر جام کولونی الآباد ٹاون اور لیبر کالونی اور مری چوک تک  منشیات سرے عام بھک رہی ہیں جمعہ بازار کے علاقے میں تو منشیات کے اڈوں کو لوگ دیکھ کے اندیکھ کرتے ہیں سب سے بڑی وجہ ہیں ڈر اور خوف ڈاکانہ روڈ میں شراب کے دوکان سرے عام چلائے جا رہے ہیں ریاست خود شامل ہیں اور ہم سب کو ایک ہو کے اس کے خلاف لڑنا ہیں نہیں تو کل کو اس دلدل سے باہر آنا ناممکن ہو جائے گا
 

بشکریہ اردو کالمز