447

مجھے زندان نہیں تعلیم دو!

تحریر::سازین بلوچ

       تعلیم حاصل کرنا ہر انسان پر فرض ہیں چائیے وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ، مسلمان ہو یا غیر مسلم، عربی ہو یا عجمی تعلیم حاصل کرنا سب کا بنیادی حق ہیں

تعلیم وہ واحد خزانہ ہے جو چپانے سے نہیں بلکہ دینے سے بڑھتا ہیں

تعلیم حاصل کرنے کا مقصد شعور یافتہ ہونا نہ کے جہالت اپنانا تعلیم وہ زیور ہے جو مردوں پے اتنا ہی ججتی ہے جتنا عورتوں پے

بزرگوں کا قول ہیں جہاں تمہیں موقع ملے تعلیم حاصل کرنے کا کوتاہی مت دیکھاو تعلیم جیسے دولت کو حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑھے تو جاو 

تعلیم کی طاقت کی کشش اتنا مضبوط ہے جس نے اپنا لیا اس کا ساتھ زندگی بھر نہیں چھوڑتا تعلیم حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی جس بھی وقت جہاں بھی ملے اپنا لو

تعلیم سے محروم لوگ اپنے آپ کو ہمیشہ کھوستے رہتے ہیں اپنے آپکو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

لیکن افسوس کے ساتھ کے پاکستان  جس کو "اسلامی جمہوریہ پاکستان " کہا جاتا ہے وہاں انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا وہاں جو انسان تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے اچھے برے  کا فرق معلوم کرکے اپنا حق مانگنے نکلتے ہیں تو انہیں اغواء کر کے زندانوں میں ڈال دیا جاتا ہیں

ان کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہیں اور باقی طالب علم جو اسکو واپس لانے کے جدوجہد میں سارا سال سڑکوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور انکو تعلیم سے مزید دور کرنے کے لئے ان میں سے کسی اور کو اغواء کر کے زاندان میں ڈالا جاتا ہے اور اسی طرح وہ تعلیم جیسے زیور سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں

تعلیم دوشمن عناصر خود کو طامح کرنے کی کوشش میں یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی قوم کی کامیابی اسکے تعلیمی ادارے اور طالب علموں سے ہیں طالب علموں سے ہی کسی قوم کو تاریکی سے روشنی میں منتقل کیا جا سکتا ہیں تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتا

یہ تعلیم دشمن عناصر وہ لوگ ہیں جو معیشیت بحال کرنے کے چکر میں اس طرح اندھے ہوجاتے ہیں کے قوم کے معماروں کو ضائع کردیتے ہیں اور انکو زندانوں کی تاریکی میں ڈال دیا جاتا ہیں

ہمیں تعلیم کے لئے چین بھی جانا پڑھے تو اس میں بھی کوئی کوتاہی نہ کریں اور تعلیم دشمن عناصر کو چیلنج کیا جائے 

اٹھا کے قلم تجھے حیران کردینگے
ہم پڑھ کے تجھے پریشان کردینگے
 

بشکریہ اردو کالمز