ہم چائے کی دکان پہ میز کے گرد لگی چار کرسیوں پہ اپنے اپنے موبائل فون میں مگھن بیٹھے چائے آنے کا انتظار کر رہے تھے. میرے اور میرے دوست کی مخالف سمت میں دو نوجوان جن سے ہم نا آشنا تھے چائے کے انتظار کے ساتھ ساتھ اپنے نجی معاملات پہ گفتگو کر رہے تھے.
سامنے سڑک پہ ایک رکشے والے کا گزر ہوا جس نے اونچی آواز سے موجودہ دور کے کسی مشہور گلوکار کا گانا چلا رکھا تھا ان نوجوانوں میں سے ایک نے دوسرے سے اس گلوکار کا نام لے کر پوچھا کہ کیا تم اس کے گانے وغیرہ سنتے ہو دوسرے دوست نے طنزیہ مسکراہٹ سے گرم گرم چائے کا ایک گھونٹ لیا اور کپ سامنے پڑے میز پر رکھا اور کہنے لگا کہ میں ایسے گلوکاروں کے گانے سننا اپنی توہین سمجھتا ہوں میں یورپ ممالک کے گلوکاروں کو سنتا ہوں اور ساتھ ہی اس نے کوئی دس بارہ انگریزی گلوکاروں کے نام بھی بتا دیے کہ میں فلاں فلاں کے گانے سنتا ہوں۔
دوستو! یہ تحریر کسی گلوکار کے دفاع کے لیے نہیں لکھ رہا اور نا ہی ایسا ہے کہ آپ انگریزی گلوکاروں کو چھوڑ کر اردو یا پنجابی گلوکار سنیں تو آپ کو ثواب ملے گا ایسا ہر گز نہیں ہے جو چیز شریعت میں حرام ہے وہ کسی صورت بھی حلال نہیں ہو سکتی(پھر چاہے میوزک کے ساتھ نعت شریف ہی کیوں نا پڑھی جائے) البتہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ اندازہ کیجیے کہ ہم کتنی غلامانہ سوچ کے مالک ہیں۔ایک انسان اپنا قومی لباس شلوار قمیض پہن کر اور اپنی مادری زبان پنجابی میں اپنی دوست سے کہہ رہا ہے کہ اردو اور پنجابی ہماری توہین ہے۔انگریزی گانے اور فلمیں دیکھنی چاہیے تاکہ ہماری انگلش بہتر ہو۔اس کے برعکس چاہے ہمیں اردو ٹھیک طرح سے لکھنا اور پڑھنا بھی نا آتا ہو۔یاد رکھیں ہر زبان کی طرح اردو کی بھی اپنی ادائیں ہیں،اپنا ناز اور بانکپن ہے،فنی خوبیاں اور اصولی باریکیاں ہیں المختصر ایک لمبی چوڑی گرائمر بھی ہے اردو زبان پر قابو پانے اور اس پر عبور حاصل کرنے کے لیے اچھی خاصی محنت درکار ہے۔اردو زبان عصر حاضر کی ایک ترقی یافتہ زبان ہے جو پاکستان،ہندوستان،بنگلہ دیش،نیپال اور دیگر ایشیائی علاقوں میں رائج ہے، اردو زبان کو پسند کرنے والے اور اس کی طرف رغبت کرنے والے پوری دنیا میں ہیں اور ہر ملک میں اس کو بولنے،لکھنے اور سمجھنے والوں کی ایک جماعت موجود ہے۔
چند دن پہلے ایک صاحب کا کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ میں تقریباً 22 سال سے نوکری کے سلسلے میں امریکہ میں مقیقم ہوں۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ میں اپنے بائیس سالہ تجربے کی بنا پر مانتا ہوں کہ نوے فیصد یہاں پاکستانی اور ہندوستانی سیاست دانوں کو انگریزی میں ہلکان ہوتے دیکھا ہے اور وہ اپنا مؤقف بھی صیحح طریقے سے بیان نہیں کر پاتے اور الٹا پوری دنیا کا مزاق بھی بن جاتے ہیں حالاں کہ اگر یہی سیاست دان اپنا مؤقف اردو میں پیش کریں تو بہتر انداز میں اپنی بات سمجھا سکتے ہیں۔
معزز قارئین ! توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہم انگریزی میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں بلکہ سر توڑ کوشش بھی کرتے ہیں ،ہم عالمی سطح پر اپنا مؤقف بھی انگلش میں پیش کرتے ہیں اس کے باوجود ہماری بات کو تمباکو سمجھا جاتا ہے اس کے برعکس جاپان ،چائنہ ،برطانیہ ،ترکی اور ان کے علاوہ مزید ایسے ممالک ہیں جو عالمی سطح پر اپنا بیانیہ اپنی قومی زبان میں پیش کرتے ہیں ان ممالک کی باتوں کو نا صرف توجہ دی جاتی ہے بلکہ ان کو من و عن قبول کر کے ان پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔اور ہم انگلش میں بات چیت کرنے کے باوجود گونگے ہیں کوئی بھی یورپی ملک ہماری بات تک نہیں سنتا ہمیں ماننا ہو گا کہ ہمارا مسئلہ انگریزی نہیں ہے بلکہ اردو ہے جس کو ہم آج تک قومی زبان کا درجہ نہیں دے سکے۔ایک اندازے کے مطابق وطن عزیز کے اسی فیصد نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے محض انگلش کی وجہ سے پڑھائی ترک کر دی۔ بہر خدا ! اس بات کو سمجھیے کہ انگلش ترقی کی علامت نہیں ہے انگریزی زبان ضرور سیکھیے لیکن اپنی قومی زبان کی بھی حفاظت کیجیے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں نفسیاتی مرض میں مبتلا نا ہوں۔