گزشتہ چند دنوں سے رفیقۂ حیات کی طبیعت و صحت سخت ناساز تھی محلے کے ڈاکٹرز اور گھریلو ٹوٹکوں سے کوئی بہتری نظر نہیں آرہی تھی بالآخر بہت لیت و لعل اور نا چاہتے ہوئے بھی معائنے کے لیے اسپتال کا رخ کرنا پڑا۔چیک اپ کے دوران میں ہمیں اسپتال میں تقریباً تین سے چار گھنٹے ٹھہرنا پڑا وہ ایک ٹیچنگ ہوسپیٹل تھا جہاں طلبا اور طالبات زیر تعلیم تھے تاہم طلبا تو وہاں کم نظر آ رہے تھے زیادہ طالبات ہی دیکھائی پڑ رہی تھیں۔
جن کے حلیے ,چال چلن, گفتگو اور لباس سے یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہیں بلکہ کسی یورپ ملک کے پارک میں بیٹھے ہوں۔ تقریباً تمام کا ڈوپٹہ سر کے بجائے گلے میں تھا اور بعض نے تو یہ زحمت کرنا بھی گوارا نا سمجھا تھا, میک اپ کے ساتھ ساتھ بعض خواتین نے کالا چشمہ اور پرفیوم بھی لگا رکھا تھا,لباس بھی ایسا کہ جو ایک دفعہ دیکھے وہ بار بار دیکھنے پر مجبور ہو جائے ایسا لگتا تھا کہ وہاں ٹخنوں کو برہنہ رکھنے کی سنت مردوں سے زیادہ عورتیں نبھا رہی ہوں۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ وطن عزیز کے ایک اسپتال کی حالت ہے جہاں مریض اور لواحقین کا تقریباً چوبیس گھنٹے آنا جانا لگا رہتا ہے اور اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تقریباً تمام پبلک پوائنٹس پر اسی نوعیت کا ماحول نظر آتا ہے اس کے علاوہ رہی بات ہمارے تعلیمی اداروں کی تو کالجز اور یونیورسٹیز میں کس نوعیت کی بے حیائی پروان چڑ رہی ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے پھر ایسی بے حیائی کو ہمارے ملک کے سیکولرز دانشور شخصی آزادی کا نام دیتے ہیں۔اسلام سے ناآشنا لوگ سیکولرز دانشواروں کے شخصی آزادی کے فلسفے کو من و عن قبول کرتے ہیں اور حقوق نسواں کے نام پر "میرا جسم میری مرضی " جیسے غلیظ نعروں سے اس بڑھتی ہوئی بے حیائی کو مزید ہوا دیتے ہیں اور رہی سہی کسر ہمارے ٹیلی ویژن چینلز کے اشتہارات پوری کر دیتے ہیں جس میں ایک بسکٹ بیچنے کے لیے وطن عزیز کی نامور اداکارہ مجرا کرتے دیکھائی دیتی ہے۔اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بے خودہ اشتہارات سے جنسی تشدد میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔
معذز قارئین ! اگر ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسپتالوں اور دیگر پبلک پوائنٹس بالخصوص تعلیمی اداروں کا ماحول اسلام کے مطابق نہیں کر سکتے اور اگر وطن عزیز کی مائیں بہنیں غیر مردوں سے پردہ نہیں کر سکتیں, اگر ہم اسی ڈگر پہ چلتے رہے کہ پردہ تو آنکھوں کا ہوتا ہے اور اگر ہمارے چینلز نازیبا اشتہارات چلاتے رہے تو پھر" ماں اور اس کی پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ جنسی تشدد" ایسے مزید واقعات کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔پھر ہمیں سیالکوٹ موٹروے جیسے واقعات کو "دلخراش سانحہ" لکھنے اور بولنے کی زحمت نہیں کرنی چاہیے بلکہ پھر ہمیں مزید ایسے سانحوں کے لیے ذہنی طور پہ تیار رہنا چاہیے کہ ایک پھول جیسی ننھی بچی کھیلنے کے لیے اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے اور وہ اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک درندوں کی ہوس کا شکار ہو جاتی ہے, جی ہاں ہمیں تیار رہنا چاہیے۔