ابو عبداللہ حضرت بلال حبشی ؓ، افریقی نسل کے ان اوّلین مسلمانوں میں سے ہیں جومحسن انسانیت کے دست مبارک پرمشرف بہ اسلام ہوئے اور سابقون الاولون اصحاب ؓمیں ان کا شمارہوا۔آپؓ کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔آپؓ پر کفار مکہ نے مظالم ڈھائے تا کہ تنگ آکر اسلام سے پھر جائیں لیکن ان کی زبان صرف احد احد کرنا جانتی تھی۔ آپ مکہ میں پیدا ہوئے جبکہ بنیادی طور پر آپکا تعلق ابی سنیا سے تھا، جسے آجکل ایتھوپیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صحابہ اور روایات کے مطابق ان کا رنگ سیاہ تھا، قد اونچا اور کسی قدر دبلے پتلے تھے لیکن جب صحابہ ان کی خصوصیات بتاتے تو کہتے کہ وہ صادق القلب تھے، ایک ایسے انسان جنہوں نے سب کچھ محنت اور جدو جہد سے حاصل کیا اور یہ سب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا نتیجہ تھا۔ حضرت بلال کو دو طرح کی خصوصی خدمات دی گئیں جو خود آپ ﷺ نے حضرت بلال کو سونپیں، ایک الخازن، یعنی حضرت بلال، آپ ﷺ کے ذاتی خزانچی تھے اور یہ ان کا لقب بھی ہے, اور دوسرا لقب جو آپ کا ہے وہ مؤذن اول ہے جو کہ سب بخوبی جانتے ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال کو تمام مؤذنوں کا سردار کہا ہے تو دنیا میں قیامت تک جہاں بھی اذان دی جائے گی حضرت بلال ان تمام مؤذنوں کے سردار ہیں۔
ہمارے ہاں عوام الناس میں ایک واقعہ بہت مشہور ہے اور بعض مقررین بڑے غمگین لہجے میں اسے بیان بھی کرتے ہیں کہ "کفار کے ظلم و ستم کی وجہ حضرت بلالؓ کی زبان مبارک میں لکنت آ چکی تھی جس کے باعث وہ "اشھد" کو "اسھد" ادا کرتے تھے اس وجہ سے صحابہ کرام کی ایک جماعت نے پیارے آقاﷺ سے اس بات کا ذکر کیا اور حضورﷺ نے حضرت بلالؓ کو اذان دینے سے منع فرما دیا لہذا حضرت بلالؓ نے فجر کی اذان نہ دی تو اللہ تعالی نے سورج کو طلوع ہونے کا حکم ہی نا دیا پھر حضرت بلالؓ نے اذان دی تو سورج طلوع ہوا"۔
قارئین کرام ! یہ واقعہ کسی حدیث یا تاریخ اسلام کی کتب میں درج نہیں اور نا ہی کسی صحابی سے کوئی اس قسم کی روایت ملتی ہے۔ اس واقعہ کے ضمن میں اگر دیکھا جائے تو عقلی دلیل یہ ہے کہ اسلام کا پہلا مؤذن ہو اور پیارے آقاﷺ اس صحابی کو اتنا بڑا منصب سونپیں کے جس کی زبان میں لکنت ہو ایسا ممکن ہی نہیں ہے اور اگر ایسا ہو جاتا تو کفار کو تو بے تہاشہ اعتراضات کا موقع مل جاتا۔ اور پھر اگر ہم مزید تحقیق کا دائرہ وسیع کریں تو یہ معلوم ہو گا کہ حضرت بلالؓ کی آواز انتہائی خوبصورت تھی اور آپ کی زبان میں کسی قسم کی کوئی لکنت نہیں تھی چناں چہ علامہ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ:"حضرت بلال فصیح و بلیغ انسان تھے اور جو بات لوگوں نے گھڑ لی ہے کہ حضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی، یہاں تک کہ ایک روایت بیان کر ڈالی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کا سین بھی اللہ تعالی کے نزدیک شین ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے"(البداية والنهاية،ج:5، ص: 333، ط: دارالفکر بیروت )
حضرت علامہ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہےاور اگر ایسا ہوتا تو حضور علیہ السلام انہیں مؤذن ہی کیوں کر بناتے اور یوں تو دشمنانِ اسلام کو بہت کچھ کہنے کا موقع مل جاتا، اس لیے مذکورہ واقعہ بیان کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
علامہ عجلونی نے" كشف الخفاء ومزيل الإلباس" میں اس روایت کو لکھنے کے بعد لکھا ہے کہ علامہ جلال الدین سیوطی نے الدرر میں فرمایا کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین مزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے، لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
علامہ عبد المنان اعظمی لکھتے ہیں کہ: حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)
دوستو ! اگر تحقیق اور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً تمام ہی محدثین نے حضرت بلال رضی اللہ کی زبان میں لکنت کی بات کو موضوع ومن گھڑت قرار دیا ہے لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ انتہائی فصیح و بلیغ تھے اور بہت خوب صورت، بلند و بالا اور شریں اور دلکش آواز کے مالک تھے اور یہ کہنا کہ " ان کی زبان میں لکنت تھی سراسر غلط ہے۔اس واقعہ کو بیان کرنے سے احتراز ضروری ہے۔