خاکسار کے سابقہ کالم "وہ بھی انسان ہیں" میں ایک معمولی سی کاوش کی گئی تھی کہ جو ہمارے معاشرے کے ائمہ مساجد ہیں ان لوگوں کو جو مسائل درپیش ہیں ان مسائل کو اجاگر کیا جائے تاکہ جو ہمارے معاشرے کی بااثر کاروباری شخصیات ہیں جن کو اللہ تعالی نے بے شمار وسائل عطا کیے ہیں اور جو راہ خدا میں بلاشبہ لاکھوں روپے دے رہے ہوتے ہیں مسجد کی تعمیر و آرائش کے لیے وہاں وہ کاروباری شخصیات ائمہ مساجد کا بھی خیال کریں کیوں کہ ہم اگر وطن عزیز کے طول و عرض کا معائنہ کریں تو معلوم ہو گا کہ مساجد تو ہم لوگ خوبصورت بنا ہی رہے ہیں اور شاید ہم ثواب کے مستحق بھی ہوں لیکن بنظر غائر دیکھا اور پرکھا جائے تو اس بات کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ائمہ مساجد کا ماہانہ وظیفہ وہی دس سے بارہ ہزار روپے ہے ما سوائے چند ایک کے۔
اس کالم کو تحریر کرنے کے لیے جو شروع میں تمہید باندھی گئی تھی مدعا پیش کرنے کے لیے اس میں ایک امام مسجد کی مثال اور کہانی بیان کی گئی تھی اس غرض سے کہ یہ محض ایک مسجد کے امام کی کہانی ہے اور الحمد اللہ وطن عزیز میں تو لاکھوں مساجد ہیں اور اگر ہم بغور جائزہ لیں تو تقریباً تمام ائمہ مساجد کی اسی نوعیت کی کہانی دیکھنے, پڑھنے اور سننے کو ملے گی۔طالب علم کے چند دوست احباب کو وہ داستان سخت ناگوار گزری وہ بھائی معترض ہیں کہ آپ نے اپنے کالم میں علاقے کے امام مسجد کی کہانی کیونکر تحریر فرمائی جبکہ آپ پس منظر سے واقف بھی نہیں ہیں۔آپ کی اس تصنیف سے مسجد کی انتظامیہ کی دل آزاری ہوئی ہے آپ انتشار پھیلا رہے ہیں اور آپ محض امام مسجد کی خوشامد کر رہے ہیں
مجھے اپنے ان عزیز دوستوں (جو میرے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں) کی منطق سمجھ نہیں آ رہی ایک طرف ان کا کہنا ہے کہ جو لکھا گیا وہ بالکل درست اور سچ ہے اور دوسری رائے ان کی یہ ہے کہ محلے کے امام مسجد کی کہانی کیوں بیان کی گئی کیوں کہ ابھی چار ماہ پہلے ہی تو مسجد انتظامیہ نے حافظ صاحب کا ماہانہ وظیفہ بڑھا کر بارہ ہزار روپے کیا ہے(میں پہلے پیراگراف میں بتلا چکا ہوں کہ کہانی کیوں بیان کی گئی) لہذا آپ کی اس تحریر کی وجہ سے محلے اور مسجد کا ماحول خراب ہوگا اور خاکسار کے ان دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے لکھاری کو دومنٹ میں ٹھپ کر دیا جاتا ہے کیوں کہ کورٹ بھی یہیں ہے,کچہری بھی اور تھانہ بھی۔
میں ان اپنے بڑے بھائیوں سے عاجزانہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اختلاف اور مخالفت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اختلاف نظریے سے ہونا چاہیے کسی کی ذات سے نہیں,بلاشبہ ہر انسان کو اختلاف رائے کا حق ہے تاہم اگر آپ کو اس بندۂ ناچیز کے نظریے سے اختلاف ہے تو بڑے بھائی میں نے ائمہ مساجد کے مسائل بیان کرنے کی کوشش کی۔آپ مجھ سے عمر اور عقل و فہم دونوں میں بڑے ہیں جو اختلاف کرنے کا مناسب طریقہ ہے وہ اپنائیے آپ بھی قلم اٹھائیے اور میرے دلائل کا رد کیجیے آپ ائمہ مساجد کو جو سہولیات میسر ہیں ان پر قوی دلائل کے ساتھ ایک لمبا چوڑا مضمون تحریر فرما دیجیے تاکہ جو بندۂ ناچیز کی تصنیف سے انتشار پھیل رہا ہے اسے روکا جا سکے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو طالب علم معزرت چاہتا ہے اپنے ان عزیز بھائیوں سے جن کی دل شکنی ہوئی تصنیف کی وجہ سے۔تاہم آئندہ کے لیے میں دوست احباب سے مؤدبانہ کہنا چاہوں گا کہ اللہ کے فضل سے ہمیشہ سچ لکھتا رہوں گا لیکن جو میں خدا تعالی کے فضل سے لکھوں گا میں اس کی وضاحت پیش کر سکتا ہوں, پڑھنے کے بعد جو آپ سمجھیں گے میں اس کی وضاحت پیش کرنے سے قاصر ہوں۔