433

"تصویر"

 

سب سے پہلے میں سیف الرحمن ادیب صاحب کو ادبی سفر کے آغاز پر مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے تاریخ کے اس دور میں جہاں ٹیکنالوجی ،موبائل ،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے حضرت انسان کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہو ، جہاں کتاب پر موبائل کو فوقیت حاصل ہو ،جہاں کتاب سے محبت کرنے اور مطالعہ کے شوقین لوگوں کا فقدان ہو،جہاں لکھاری کو اپنی لکھی کہانی ،مضمون یا پھر دیگر کوئی تصنیف کسی اخبار یا رسالے میں شائع کروانے کے لیے بھی سفارش کی حاجت ہو،جہاں مصنف کو کتاب شائع کروانے کے بعد کتاب کی تشہیر اور سیل بھی خود ہی کرنی ہو اور جہاں پبلشر امیر سے امیر اور مصنف غریب سے غریب ہوتا جا رہا ہو۔اس خوف ناک دور میں سیف بھائی نے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا اور اپنی تخلیق کی گئی سو الفاظ کی کہانیوں کو کتابی شکل میں شائع کروا کر واقعتاً ایک معرکہ سر انجام دیا۔

 

ہر معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ مخصوص افکار اور فلسفوں کو پروان چڑھاتا ہے ،جو کہ بظاہر آپس میں مختلف ہونے کے باوجود اپنی بنیاد میں ہم آہنگی کے حوالے سے سماجی و تہذیبی شناخت رکھتے ہیں بلکہ یوں سمجھیے کہ ادب زندگی کے تمام شعبوں کا نمائندہ ہوتا ہے۔ ایک ادیب اپنی تخلیق ،دانش،بصیرت،تجزیہ،تنقید اور حساسیت کے حوالے سے معاشرے کا ایک اہم ترین رکن تصور کیا جاتا ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہ درست طور پر سمجھا ہی نہیں گیا کہ شاعر اور ادیب کا معاشرے میں کیا کردار اور مقام ہے۔

 

ایک ادیب جب تفکر کے عمل سے گزرتا ہے تو وہ حیات و کائنات کے حوالے سے اپنے نظریے کی تشکیل کی طرف بہت زمہ داری کے ساتھ بڑھتا ہے وہ اپنی کچھ ذہنی الجھنوں اور سوالوں کے جوابات کی تلاش کرتا ہے۔سیف الرحمن ادیب صاحب نے اپنے انہیں سوالات کے جوابات اپنی سو الفاظ کی کہانیوں میں لکھنے کی کوشش کی ہے اور اتنی سادگی اور اسلوب سے کہانیاں لکھی گئی ہیں کہ ایک عام فرد بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے۔اور سب سے اہم بات یہ کتاب عصر حاضر کی ضرورت کے عین مطابق لکھی گئی ہے کہ یہ اپنے قاری کا زیادہ وقت نہیں لیتی ،قاری ایک ہی نشست میں مکمل کتاب کا مطالعہ کر لیتا ہے اور تقریباً ہر کہانی میں ہی پڑھنے والے کو اپنی تصویر نظر آتی ہے۔

 

 کتاب کے شروع میں تاثرات دینے والوں نے بھی لکھا ہے کہ کہانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ایک حساس دل رکھنے والے انسان ہے لیکن ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ سیف صاحب کی کتاب پڑھ کہ یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ مصنف زندگی کی بہت سی بہاریں دیکھ چکا ہے اور غالباً مصنف بڑھاپے میں قدم رکھ چکا ہے لیکن مصنف ابھی اپنی بھر پور جوانی میں ہیں اور ان کی عمر محض بیس یا اکیس سال ہے اور یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔آنے والا وقت ان کا ہے کم عمری میں صاحب کتاب ہو جانا اس بات کی نشانی ہے کہ ان شاء اللہ مصنف کا مستقبل تابناک ہے۔

رہی بات کتاب میں موجود کہانیوں کی تو ہر کہانی ہی اپنے اندر بہت کچھ سموئے بیٹھی ہے کسی ایک یا دو کہانیوں کا انتخاب کرنا کہ یہ سب سے بہتر ہیں مشکل ہے کیوں کہ کتاب میں موجود سو کہانیوں میں آپ کو سیاست بھی نظر آئے گی،معاشرے کے معاشرتی اور سماجی حالات بھی اور مزاح بھی نظر آئے گا لہذا یہاں چند ایک کہانیوں کا نام لکھنا باقی کہانیوں سے زیادتی ہو گی۔

اب بات کرتے ہیں کتاب کی ڈیزائنگ کی تو کتاب کا کور خوبصورت اور جاذب نظر ہے کور دیکھ کر قاری کا تجسس بڑھتا ہے لیکن میرا ناقص خیال ہے کہ کتاب کے صفحات کو مزید بہتر طریقے سے ڈیزائن کیا جاسکتا تھا اور صفحات کا معیار بھی مزید اچھا ہو سکتا تھا اس سے قاری کی دلچسپی مزید بڑھ سکتی تھی امید ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں اس چیز کا خیال رکھا جائے گا۔یہ فقیر کی ذاتی رائے ہے غلط بھی ہو سکتی ہے۔

دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ سیف بھائی کو مزید اسی طرح عزتوں سے نوازے اور آپ کے ادبی سفر کو چار چاند لگائے اور رب کریم آپ کو استقامت عطا فرمائے۔آمین

("اس دور کی سب سے بڑی کرامت استقامت ہے" حضرت واصف علی واصف)

 

معزز قارئین! "تصویر " کو ضرور خریدیے،اس کا مطالعہ کیجیے اور اس کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیے۔ کتاب کی قیمت زیادہ نہیں صرف 500 روپے ہے ۔کتاب حاصل کرنے کے لیے ابھی اس نمبر پر رابطہ فرمائیے۔

بشکریہ اردو کالمز