یکم دسمبر کو فقیر کی ورکشاپ پہ ایک صاحب کام کی غرض سے آئے. ان صاحب کا شمار بھی میرے مستقل گاہکوں میں ہوتا ہے. کہنے لگے آج یکم دسمبر ہے میں نے کہا جی بالکل آپ نے بجا فرمایا تو مسکرا کر کہنے لگے کے آج میری سالگیرہ ہے. ان کو مبارک باد دی اللہ تعالی آپ کی عمر میں برکتیں عطا فرمائے اسی طرح کے دو چار اور رسمی جملے ان کی سماعتوں کی نظر کیے. پھر انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بری اور نہایت افسردگی سے بولے کہ شکر ہے خدا کا کہ یہ سال گزرنے والا ہے.اس سال نے بہت دکھ دیے ہیں یہ سال بڑا کٹھن تھا.
طالب علم ان صاحب کی باتوں سے تھوڑا بہت اتفاق کرتا ہے کیوں کے بلاشبہ یہ سال ان لوگوں کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا کہ جن کے اپنے عزیز کرونا کے باعث دار فانی سے کوچ کر گے اور بعض لوگوں کے کاروبار کا بھی دیوالیا ہوگیا. چار پانچ جید علماء کرام بھی اس سال ہمیں چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے ان علماءکرام میں سے سب سے ذیادہ دکھ اور الم امت مسلمہ کو تحفظ ختم نبوت کے علمبردار اور مفسر اقبال قبلہ باباجی خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کا ہوا. لیکن خیر ہم مسلمان ہیں اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ کائنات کا مالک سب کچھ جاننے والا ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے بہتری والا معاملہ ہی فرماتا ہے.
معزز قارئین! جہاں یہ سال اپنے ساتھ مصیبتوں اور تکلیفوں کے پہاڑ لے کر آیا وہاں یہ سال بہت سارے مواقع بھی لے کر آیا. مثال کے طور پہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں جن لوگوں نے غربا و مساکین کا خیال رکھا رات کے اندھیرے میں ان کے گھروں تک راشن پہنچایا ان لوگوں نے نیکیاں کمانے کے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا اور خوب نیکیاں کمائیں پھر تھیلسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کے لیے بے شمار نوجوانوں نے خون عطیہ کیا. ہمیں موقع ملا کہ ہم اپنی شادی بیاہ کی تقریبات کو سادہ کریں غیر شرعی رسومات کو ترک کریں. ہم نے صدق قلب سے اللہ تعالی کو یاد کیا اور گناہوں سے سچی توبہ کی. پھر اگر ہم غور کریں تو قدرت نے ہمیں موقع دیا کہ ہم اپنی زندگی انجوائے کریں لاک ڈاؤن کے دو تین ماہ ہم نے بادشاہوں کی طرح زندگی بسر کی. ہم پر کسی کام کا بوجھ تھا اور نا ہی پڑھائی کا بوجھ تھا. ہم نے فرمائشی کھانے بنوائے، اچھا کھایا اور اچھا پہنا، اپنی مرضی سے سو کر اٹھتے تھے اور کوئی ہمیں فارغ رہنے کا طعنہ بھی نہیں دیتا تھا. لاک ڈاؤن کے بعد بہت سے نوجوان طلبہ نے محسوس کیا کہ حالات اتنے سازگار نہیں کہ صرف پڑھائی کی جائے لہذا بہت سے طلبہ نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام کرنا شروع کر دیا اور یوں بے شمار نوجوان ہنر مند ہو گئے. ہمارے ایک دوست ہیں انہوں نے لاک ڈاؤن کے موقع کو غنیمت جانا اور انہوں نے آئن لائن شاپ کھول لی جو ماشاءاللہ چل نکلی اور اب وہ اچھی انکم کما رہے ہیں.
دوستو! اگر ہماری سوچ مثبت ہو گی تو حالات جیسے بھی ہوں قدرت ہمیں مواقع فراہم کرے گی حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ "اللہ تعالی تم سے ویسا ہی معاملہ کرے گا جیسا تم نے اللہ تعالی سے گمان کیا" اگر ہماری سوچ منفی رہی تو پھر ہفتے گزریں گے، مہینے گزریں گے، سال گزریں گے، تاریخ بدلے گی لیکن ہمارے حالات نہیں بدلیں گے جب تک کہ ہم نے اپنی سوچ نہ بدلی. دو ہزار کے ساتھ اکیس آئے گا بائیس آئے گا وقت گزرتا رہے گا اور ہم ہر سال کے آخر پہ یہی کہیں گے کہ شکر ہے یہ سال گزرا بڑا مشکل اور کٹھن سال تھا.