ایک سال قبل 2019 ءکی بات کی ہے ،جب میںنے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی میںبی ایس اردوڈیپارٹمنٹ داخلہ لیا تو ہمارے کلاس میں جودوست شامل تھے ان کاتعلق کشمیر، پنجاب اوربلوچستان سے تھا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے بلوچستان کے بارے آج تک حقائق کا علم ہی نہیں ہے محمدناصر بلوچ اکثرفکرمند پریشان حال رہتا اورہمیں بتاتا کہ ہمارے صوبے کے بیشتر لوگ عید نہیں خوشیاں نہیںمناتے!مگر مجھ سمیت پوری کلاس کبھی اس بات پر غورنہ کرتی اوراس بات کو ہمیشہ نظر اندا ز
کردیتی ۔ہم میںسے کبھی کسی نے بھی پوچھنے کی زحمت ہی نہ کی کے آخرکیا ماجرہ ہے؟
ہم روٹین سے روزانہ دن کو ساتھ کھانا کھاتے ہیںاور وہ بھی یہی حالات سناتا وہ بتا رہا تھا کہ بلوچستان سے لوگ اٹھا لئے جاتے ہیں پتہ نہیں کہالے جاتے ہیں کون لے جاتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے ہمارے گھروں میں لوگ عید نہیں مناتے جس ماں کا بیٹا اس چھین لیا جائے اس کو اغوا کر لیا جائے۔ اس ماں پر کیا
گزرتی ہیں ہم جانتے ہیں۔بہرحال ہم دوستوں نے کبھی محمدناصر بھائی کی باتوں کو سیریس نہیں لیا ہمیشہ
نظرانداز کیا ۔ محمدناصر ہمیشہ پوری کلاس کا ایسے خیال رکھتا ہے جیسے بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائیوں کی حفاظت کرتا ہے ۔یہی ایک انسانیت ہے جودرد سے گزر ہے ہوتے ہیں ان کو دوسروں کے دردکا پتہ ہوتا
ہے۔اور سب سے بڑی بات ہم نے جب کبھی ملک کی بات کی اس انسان کے لب پر ہمیشہ ہم سے زیادہ
حب الاوطنی ہی رہی ہے۔اگر یہی حالات ہم میں سے شاید کسی کے ساتھ درپیش آتے پنجاب میں رہنے
والے کسی فرد کے ساتھ اس کے باپ بھائی کو اس طرح کوئی اٹھالیتا تواب تک ہم قوانین شاید چکے ہوتے
ہمت ہے ناصر بھائی کی اتنے حالات سے گزرنے کے بعد بھی ہمیشہ اس ملک پر جان دینے کی باتیں ایسے لوگ ہیں اس ملک کی شان ہیں ۔
مگر جب چند دن قبل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اس نے میرے پاو¿ں تلے سے زمین کھینچ لی
بلوچستان کی ایک بیٹی ،بل کہ اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بیٹی ،ایک غیورکی بیٹی جب رورو کر انصاف کی بھیک مانگ رہی تھی۔یہ محض ایک ویڈیو نہیں تھی انسانیت پر ایک سوال تھا۔ ہمارے اداروں
کی غفلت ہے کو ایک بیٹی جس کو اللہ پاک نے رحمت قرار دیا ،وہ بیٹی ایک ایسے قبیلے کی بیٹی جو پاکستان کے تمام قوموں میں ایک غیرمند قوم ہے ۔اس قوم کی بیٹی ایک غیور قوم کی بیٹی سربازار آکر انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے ۔اس بہن کی آنکھ سے نکلا ہواایک ایک آنسوقطرہ عرش الہی کو ہلا کر رکھ دیا ہوگا۔ بلوچ قوم ہمارے ملک کی غیرت مند ،نڈربہادرقوم ہے۔جب بھی میرے پاک وطن پرمشکل وقت آیا،
جب بھی دشمن نے ہمیں مٹانے کی ناکام کوشش کی سب سے پہلے فرنٹ پر بہادربلوچ اورپٹھان قوم ہمیں
نظرآئی اوردشمن کودھول چٹادی ہمارے ملک کے حکمران اورعدلیہ کونجانے کیا ہوگیا ہے ۔کیوں خاموشی ٹھان رکھی ہے آخر غائب ہونے والے لوگ کہاں ہیں۔ میرے عظیم ملک پاکستان کی اس عظیم
غیورقوم (بلوچ)کی بیٹی کے وہ الفاظ سن کر ہر وہ انسان جس میں انسانیت زندہ ہے اس بہن حسان قمرانی
کی ہمشیرہ کےالفاظ سن کرضرور رویا ہوگا یہ بہن صرف حسان قمرانی کی بہن نہیںہر پاکستانی کی بہن ہے اس کادرد دکھ ہم سب کا درددکھ ہے ناجانے بلوچستان کس اذیت سے گزررہا ہے۔بلوچستان کی ان ماو¿ں کادکھ جن کے لال سالوں سے لاپتہ ان بہنوں پر کیابیتی ہوگی جن کے بھائی ان سے جدا ہوئے دس سال سے زائد عرصہ گزرچکا ہے۔ 14فروری 2020جمعہ کے دن کوحسان قمرانی اورحزب اللہ قمرانی کو
جبری طورپرتشددکرکےانہیںلے کر گئے انہیں اغواہ کیاگیا۔قمبرانی کی ہمشیرہ کہتی ہے میں در در گئی میں نے FIRکٹوائی ابھی تج ان کا کوئی پتہ نہیں۔میںدردرگئی جب میں گھر سے نکلتی ہوںمجھے لوگوں کی نظریں
چھپتی ہیں۔ہم ایسے گھروں سے نہیںاٹھ کر آتے ہم کس تکلیف میں ہیںاوروتے روتے اللہکہا
ہمارامطالبہ ہے ہمارے بھائیوں کورہا کیا جائے انہیں بازیاب کرایا جائے۔ہمارے بلوچستان کاہردوسرا
گھر اس صدمے میںمبتلا ہے۔یہی تکلیف ہمیں کھائی جارہی ہے ہمارا بھائی کب گھر آئے گا۔ہماری خوشیاں ملیامیٹ ہوچکی ہیں،ہم خوشیاں نہیں مناتے ہم سوگ کرتے ہیں۔اپنے بھائیوں کا۔میرا بھائی
یونیورسٹی میں طالب علم تھا BBAکررہاتھا۔ہم اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کراپنے بھائیوں کوپڑھاتے ہیںہم خودنہیںپڑھتے انہیں پڑھاتے ہیںوہ باشعور ہوکر اس قوم وملک کا نام روشن کریں،لیکن انہیں اغوا کر لیا جاتاہے ۔ہمارے گھر میں صرف ایک دومرد ہوتے ہیں،یاتو ان کو منشیات میں مبتلا کردیتے ہویاان کواغوا
کرلیا جاتا ہے ۔ہمیں ہمارے بھائیوں کولوٹادو،مجھے نہیںسمجھ آتی میں کہاں جاو¿ں؟کس سے درخواست کروںکس سے بولوں،میرے بھائیوں کو لے کر آئیںمیںسراپااجتجاج ہوںمیں بلوچستان
ہوں۔میری امی تڑپ تڑپ کر روتی ہے۔میرے ابااس غم سے بول نہیں پاتے ۔یہ تھے وہ الفاظ جو بلوچستان کی بیٹی میرے عظیم ملک پاکستان کی بیٹی جواس اذیت سے گزر رہی تھی اورسراپا اجتجاج تھی کہ
لاپتہ افراد بازیاب کرایا جائے۔کیا قیامت گزر ہے بلوچستان کے ہر گھر میں اس ویڈیو کو دیکھنے سننے کے بعد مجھے ناصر بھائی کاوہ دکھ وہ درد محسوس ناجانے ناصر بھائی کب سے شاید پیدا ہوتے ہی اس اساذیت
میں مبتلا ہوگیا ہو۔بلوچستان میں لوگ عید نہیں مناتے سوگ مناتے ہیںوہاں شادیاں نہیںہورہی کیونکہ اغوا ہونے والے مردکے نکاح میں عورت بیٹھی ہے وہ شادی نہیں کر سکتی شاید وہ آجائے واپس آجائے میرے بلوچستان کی ناجانے کتنی بہنیںاس انتظار میں بوڑھی ہوچکی ہیں ۔جواپنے منگیتر کے انتظار میں جوانیاں گزار چکی ہیں۔مائیں اپنے لخت جگر کی یاد میں اس دنیا کو چھوڑ چکی ہیںاپنے رب کو جا کر فریاد کی ہوگی شاید کیا قیامت ہوگی بلوچستان ہمارے ملک کااہم حصہ ہے وہاں یہ حالات ہیں کہ ہرگھر سے مرد
اغوا تو کیا ہوگا اس ملک کا ہمارے حکمران کہاں ہیں؟ہماری عدلیہ کہاں ہے ؟کیوں بلوچستان غیرت مند بیٹیوںکویوں سربازار آکر انصاف کی بھیک مانگنا پڑتی ہے اور انصاف تو دور کی بات ہے جہاں13سال ہوچکے لاپتہ افراد کا پتہ ہی نہ مل سکا ۔ان کے ساتھ کیا گزرہی ہوگی وہ اس غیور قوم کی مائیں بہنیں وہ گھر سے باہر نہیں نکلتی تھی آج سڑکوں پر اجتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔اب حالات یہ ہیں
ایک رپورٹ کے مطابق ''لاپتہ افرادکی بازیابی کے لئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے اجتجاج کمیپ کو
کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 3986دن مکمل ہوگئے ۔اب اس حالات سے اندازہ لگائیں کہ کیا اذیت بیت رہی ان پر جب بھی ہمارے پیارے عظیم ملک پاکستان پر کوئی ایسا حادثہ درپیش آتا ہے جو کہ
ناقابل برداشت ہو ہم سیاہ دن مناتے ہیں اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو بلوچستان میں ان کے لئے
ہردن سیاہ دن ہوا۔جہاں پاکستان عید جشن منارہاہوتاہے(افسوس صد افسوس)بلوچستان سوگ منا رہا ہوتا ہے۔میں کشمیر کا درد لکھوں ،کافلسطین کادکھ بیاں کروں،میری امت مسلمہ کارونا روو¿ یا پھر سوگ میں
مبتلا سالوں سے اپنے بلوچستان غم لکھوںان بہنوں ماو¿ں کوسربازار لانے والے بھی خدا کی عدالت میں
جواب دہ ہونگے ۔خدا کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ایک غیور قوم کی بیٹی کاغم پاکستان کا غم 22کروڑ عوام کا غم
ہے ہماری عدلیہ کا غم ہے،ہمارے حکمرانوں کا غم ہے ،افواج پاکستان کا غم ہے ۔مگر افسوس آج ہم سب
اس غم کو بھلا بیٹھے ہیںاوریہ بلوچوں کا غم کہہ کر ڈال دیتے ہیںانڈیا کے بہت سارے ''را''کے ایجنٹ میرے بلوچستان سے پکڑے گئے جودہشت گردی پھیلا رہے تھے۔دشمن ہمیں ہرحال ہمیں زیر کرنا چاہتا ہے ۔اوراپنی ہرچال چل رہاہے۔افسوس کہ ہم مسئلہ کشمیر ودیگر سائل پراجتجاج کرتے ہیںمگر بلوچستان کے لئے کبھی اجتجاج کیا ہے ۔قیام پاکستان کے وقت بلوچستان نے پاکستان کاساتھ دیا آج
عدلیہ خاموش ہے ،حکمران چپ ہیں ۔۔آخرکیوں؟ آخر کب تک یہ ظلم جارہی رہے گا؟آخر کب تک
بلوچستان کی بیٹیاں اس ملک عظیم پاکستان کی بیٹیاں اس طرح سربازار بھائیوں کی واپسی کی بھیگ مانگیں
گی خدا کے خوف سے ڈراس ملک کے حکمرانوں اپنے عہد نبھاو¿،عدلیہ عدل کب کرے گی؟میرے ملک کی سرحدوں کے محافظ ان بہن بیٹیوں کے آنسوو¿ں کودیکھ لو اب تو انصاف دو ،انصاف دو ،بلوچستان
کوانصاف دو
512