516

      آن لائن کلاسز میں درپیش مسائل ؟


آن لائن کلاسز دور جدید کی اہم ضرورت ہے۔دنیا میں بہت سے ممالک ہیں ،جہا ں آن لائن سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔اس کا مقصد ان لوگوںکوتعلیم دینا ہے۔جو روزگارکی مصروفیت کی وجہ سے یا کسی
دیگر وجوہات کی بنا پر تعلیم حاصل نہیں کرسکتے ۔
آن لائن طریقہ تعلیم میں لیپ ٹاپ،ٹیب اور سمارٹ فون کی مدد سے تعلیم دی جاتی ہے۔اس میں بہت بڑا دخل اخراجات کاہے جو اس سلسلے میں آتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں آن لائن تعلیم کو پسند کیا جاتا ہے عوام میں آن لائن کلاسز کا شعور پختہ ہوچکا ہے۔نیشنل انٹر نیشنل اشیوزتمام موضوعات پر لاکھوں کتب
انٹر نیٹ پر پڑھنے کے لئے موجود ہیں۔دورجدید نے آن لائن تعلیم کوبھی ایک کاروبار بنا دیا ہے۔یہ نعمت 
صرف ان لوگوں کو میسر ہے۔جواس کا تصرف رکھتے ہیں۔وقت کے ساتھ اس طرز زندگی کی ضرورت میںاضافہ ہورہا ہے۔پاکستان جو کہ ایک زرعی ملک ہے 70فیصد حصہ دیہاتوں پرمشتمل ہے۔پاکستان
کی اکثریت آبادی کاحصہ کھیتی باڑی ،محنت مزدوری سے منسلک ہے۔تعلیمی بجٹ 4فیصد تک جانے کے باوجودلوگوں میںشعور اس قدر نہ بڑھ سکا کہ لوگ دورجدید کے تمام تقاضے پورے کرسکیں ۔ آن لائن تعلیم 
اورکلاسز شہری آبادی کے دوفیصد لوگ حاصل کرسکتے ہیں۔ اکثر دیہاتی آبادی کے لوگ اس علم سے کوسوں دور ہیں۔فیس بک ،واٹس ایپ ، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک بھی 20فیصد لوگوںکوچلانا آتا ہے۔
آن لائن تعلیم اورکلاسز سے اس وقت ہی حاصل ہونگے ۔جب سمارٹ فون ،لیپ ٹاپ وٹیب خریدنے کی اسطاعت ہوگی ۔جن گھروں میں لوگ روزی روٹی کمانے کےلئے لوگ مزدوری کرتے ہوں وہ لوگ معجزوں کے منتظر رہتے ہیںایسے میں آن لائن کلاسز اورآن لائن تعلیم محض ایک خواب ہے اور کچھ بھی نہیں

        مسائل غربت وبے روزگاری
بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور غربت کے پیش نظرہمیں اس وقت 
غذائی قلت کاسامناہے۔ اس وقت پاکستان میں کڑوروں افرادخط غربت سے انتہائی کسمپرسی کی حالت
میں زندگی بسر کررہے ہیں۔جنہیں ٹھیک سے پیٹ بھر کر دوٹائم کی روٹی تک میسر نہیں۔جہاں لوگوں کو روزی روٹی کو مسئلہ درپیش ہو، وہاں آن لائن کلاسز کا تصور کرنا بھی احمقانہ فیصلہ ہوگا۔اس وقت کرونا جیسی وبا نے جو حالات بنا رکھے ہیںگھرگھر فاقے ہیں کھانے کےلئے روٹی تک نہیں عوام کے پاس جہاں کرونا نے کاروباری طبقہ کومتاثر کردیا ہے وہاں ایک غریب ،مزدور،دیہاڑی دار کا جوحال اس وقت ہوا ہے شاید HECان حالات کوتصور بھی نہیں کرسکتی اگر ان حالات کوتصور کرلیتی یاپھر ایسے علاقوں کا وزٹ
کرلیتی تو آن لائن کلاسز آغاز کرنے کافیصلہ کبھی نہ ہوتا۔
           نیٹ ور ک پرابلم
ہمارے پاکستان کاحصہ صرف اسلام آباد،راولپنڈی،لاہور،کراچی،جیسے شہر نہیںبل کہ ساتھ ساتھ روہی،تھل دامان،تھر،بلوچستان،خیبرپختوخواہ،آزادکشمیر میں ایسے ایسے علاقے ہیں جہاں سادہ مبائل سے کال تک نہیں ہوتی وہاں نیٹ کہاں سے آئے گا ؟آن لائن کلاسز کاآغاز کرنے سے قبل اس معاملات کو جاننا نہایت ضروری ہے ۔مگرای سی کمروں میں بیٹھ کر فیصلہ کرنے والوں کو کیا خبر تھر ،روہی ،تھل ،دامان میں گرمی کی تپش کیا ہوتی ہے۔جہاں لوگوں کو سایہ تک میلوں میسر نہیں ہوتا ۔HECنے کیا کوئی ایسا سروے کیا؟نہیں تو وادی کشمیر کاچکر لگائیں ،جنوبی کے صحراو¿ں کی زیارت کریںبلوچستان کے پہاڑوں کارخ کریں سب کچھ عیاں ہوجائے گا ۔ایسے علاقوں میں بجلی تک میسر نہیں ہے مبائل نیٹ ورک کہاں سے آئے گا۔خدارا ان طلبہ وطلبات پر رحم کریںان کے مسائل کودیکھیں تب فیصلہ کریں دوٹوک بات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔اس حقیقت کو جانیں۔
لیپ ٹاپ ،سمارٹ فون جیسی سہولیات سے محروم طلبہ وطلبات
حکومت اور HECنے جوفیصلہ کیا ہے یہ صرف اورصرف امیر طبقہ ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر اس سے محروم ہوجائے گا،پاکستان کا وہ 80فیصد طلبہ وطلبات جوکہ لیپ ٹاپ ،سمارٹ فون اورٹیب جیسی سہولیات سے محروم ہیںان کا کیا ہوگاان کامستقبل تو تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ان 80فیصد طلبہ وطلبات کی کیا کوئی اہمیت نہیں ؟کیا وہ 80فیصدطلباوطلبات فیس ادا نہیں کرتے ؟کیاان طلبہ وطلبات کی کوئی اہمیت وحیثیت نہیں ؟ایک مزدور کابیٹا جس کا والد دیہاڑی کرتا ہے 300سے500مزدوری
لیتا ہے اور وہ بھی ہفتہ میں 3سے چاردن کام ملتا ہے ،مزدوری کرنے والا ،رکشہ چلانے والا، مستری کے ساتھ کام کرنے والا،قلفی کی ریڑھی لگانے والا ،ایک سبزی بیچنے والا کہا سے لائے 20سے
25ہزار جو مبائل فون ،لیپ ٹاپ یاپھر ٹیب خرید کر دے اپنی اولاد دے کو محلوں میں رہنے والوں کو کہاں معلوم جھوپڑیوں میںرہنے والوں کا دکھ ،جن کے گھر پرچھت نہیں ہوتی کس حالت سے اپنی اولا د کوپڑھا رہے ہوتے ہیںاس وقت جو حالت ہے دنیا میں اور ہمارے ملک پاکستان میں کسی سے پوشیدہ نہیں ،لوگوں کے پاس کھانے کےلئے کچھ نہیں تو ان کے پیسے کہاں سے لائیں 
      نصابی وتجرباتی سرگرمیاںسے دوری
آن لائن کاسز سسٹم کے تحت تعلیمی نصابی وتجرباتی سرگرمیاں دب کر رہ جائیں گی اورایسی دیگر کئی سرگرمیوں سے طلبہ وطلبات کومحروم ہونا پڑے گااورطالب علم مشاہدے سے کوسوں دور چلے جائے گا۔المختصر یہ کہ وہ مخصوص قسم کے الفاظ کوپڑے گااوراپنی صلاحیت کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرے گا۔باقی تمام تر پریکٹیکل سرگرمیوں سے محروم ہوجائے گا۔اس آن لائن تعلیم کے ذریعے طلبہ وطلبات کاکانسیپٹ
کلیئر نہیں ہوگا۔ آن لائن تعلیمی سسٹم کے تحت اس وقت جو حالات ہیں ملکی فوائد سے زائدنقصانات نظرآ ر ہے ہیں۔اس آن لائن سسٹم کے تحت طلبہ وطلبات کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام بھی بھی خود کنفیوزنظر آرہے ہیں۔
ّ      طلباءوطلبات کا اجتجاج 
چندروز سے طلباءطلبات کا اسلام آباد کےساتھ ملک بھر ملک اجتجاج بھی کیے جارہے ہیں۔کہ آن لائن سسٹم 
کے تحت ان کو خدشات ہیں ۔اوروہ طلبہ وطلبات اپنے حق کی بات کررہے انصاف کی بات کرہے ہیں۔
اپنے حقوق کی بات کرہے ہیں ان کو جو درپیش مسائل وہ بتا رہے غربت ،نیٹ ورک پرابلم صحرا ،میں
تھل روہی ،تھر میں وہ کیسے کلاسز لیں جب کہ نیٹ ورک ہی موجود نہیں یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے نہ حکومت سے اور نہ ہیHECسے پھر ان طلبہ ءوطلبات کے مستقبل کے ساتھ کیوں کھیلا جا رہا ہے ۔کیاان کے اجتجاج میں کوئی صداقت نہیں ؟کیاان کے مسائل حقیقت پر مبنی نہیں ؟ سب کچھ سچ ہے سب جانتے ہوئے بھی HECاپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔
      طلباءوطلبات کوپرموٹ کردیاجائے 
حالات حاضرہ کے مظابق پرموٹ کرنا ہی ایک واحد حل ہی ہے جواس مشکل وقت کو مدنظر رکھ کیا جائے ۔
ویسے بھی یونیورسٹی کے طلباءطلبات جب کرونا وائرس آنے سے قبل 70فیصد موا دپڑھ تو چکے تھے باقی وہ
30فیصد کامطالعہ گھر میں کر چکے ہیںاس لیے ان کو پرموٹ کرنا ہی واحد حل ہے اس کے علاوہ آن لائن کلاسز پاکستان کے ان امیر 20فیصد طلباءطلبات کے تو لگائی نہیں جاسکتی اگر لگا بھی دی جائے تو ان 80
فیصد غریب طلبہ ءطلبات کو کیا ہوگا۔ جو کلاس نہیں لے سکتے آن لائن جن کے مبائل نہیں ، جن کانیٹ ورک پرابلم ہے کیا ان 80فیصد طلباءوطلبات کو فیل کردیاجائے ۔ان سب مسائل کاحل صرف اور صرف 
پرموٹ کرنا ہی واحد حل ہے۔وگرنہ 80فیصد طلبہ کامستقبل تباہ ہونے کا خدشہ ہے
    تعلیمی سفر کو خیر آباد کرنے کے خدشات
بہت سارے طلبہ وطلبات ایسے بھی ہیںجو پہلے گھریلوں مجبوریوں اورکئی مسائل کا سامناکرتے آرہے ہیںاوربڑی مشکل سے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے تھے خود پارٹ ٹائم جاب کر کے گھر کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اپنے تعلیمی اخراجات خوداٹھا رہے تھے مگر اس وقت خود بے روزگاری کے چنگل میں پھنس
چکے ہیں۔ اس وقت ان کو بہت سارے مسائل کاسامنا کرنا پڑھ رہا ہے گھریلوں ذمہ داریوں ہی نہیں سنبھالی جارہی ہیںاورتعلیمی اخراجات ،مبائل فون ،لیپ ٹاپ ،نیٹ کااخرجات کا کہاں سے لائیں گے
موجودہ صورت حال اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ان طلبہ ءوطلبات کاکہ وہ کہیں تعلیمی سفر کو خیر آباد نہ
کہہ دیں یہ خدشات بھی بہت اہم ہیں بہت سارے طلبہ ءوطلبات سے یہ بات سننے کو ملی ایک کالم نگار ہونے کے ناطے بہت کچھ میں حاصل کیا معلومات اکھٹی کی تاکہ زیادہ سے زیادہ مسائل حکومت اورHECتک اپنی قلم اور میڈیا کے ذریعے پہنچا سکوں۔اگر ایک بڑا طبقہ آن لائن کلاسز کے مسائل کی وجہ سے تعلیمی سفر کوخیر آباد کہہ دیتا ہے توان کا ذمہ دار کون ہوگا ؟
    احساس سکالر شپ اورصرف خواب!
احساس سکالر شپ میں نام آنے کے بعد بھی اب تین ماہ ہوچکے ہیں مگر وعدہ وفا ہوا ۔حکومت نے اس کو نظرانداز کر دیا ہے۔ جوطلبہ وطلبات پہلے ہی بڑی مشکل سے تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے تھے اس امید پر کہ جلد سکالرشپ مل جائے گی ان کے دیگر مسائل حل ہوجائیں گے مگر وہ بھی ایک خواب بن کر رہ گیا
آن لائن کلاسز میں درپیش دیگر مسائل؟ 
آن لائن کلاسز سسٹم میں دیگر بہت سارے مسائل مسائل ہیں جن کا المختصر بتاتا چلوںسوشل میڈیا سروے اورشکالرشپ میں نام آنے والے دوستوںسے اور ،اساتذہ کرام ،طلبہ وطلبات سمیت غریب طلبا اوران کے والدین سے رائے لینے کے بعد دیگر مسائل سامنے آئے جو عیاں کرتا چلوں
تعلیم کے نام پر طلبہ وطلبات کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے
مخصوص مواد جو طلبہ کو حقیقت پسندی سے دوری کے جانب لے جائے گا
کتابی رشتے سے دوری ہوجانے کاخدشات 
مستقبل میں طلبہ وطلبات کی مہارت کا محدود رہ و مخصوص رہ جانا
ذہنی صلاحیتوں کا کھل کر سامنے نہ آنا
تربیت سے دوری ،مایوسی کی قربت 
ّآن لائن کلاسز صرف رسمی 
مہنگائی کے جن سے لڑائی یا تعلیم سے وابستگی
طلبہ وطلبات کے ساتھ اساتذہ کرام عدم دلچسپی
اب ان سب مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے آن لائن کلاسز لینے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا پرموٹ کرنا ہی بہتر
رہے گا ابھی ہمارا ملک اور ملکی حالات آن لائن کلاسز کی اجازت ہر گز نہیں دیتے کرونا وائرس کے ختم ہونے کے بعد پھر کلاسز کا عام روٹین میں آجانا پھر مسائل پیدا کر ے گا پرموٹ کرنا ہی سب مسائل کاحل ہے

بشکریہ اردو کالمز