155

تونسہ کے بچوں میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ

تونسہ میں ایچ آئی وی وائرس کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، اور حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک اور بچے میں اس وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 107 تک جا پہنچی ہے۔ یہ صرف ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ ایک لمحۂ فکریہ ہے، جو ہمارے صحت کے نظام، احتیاطی تدابیر، اور پبلک ہیلتھ پالیسی کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔

 

اسپتال انتظامیہ کے مطابق متاثرہ بچوں کی عمریں چھ ماہ سے دس سال کے درمیان ہیں۔ یہ بات اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ وائرس کسی خاص طبقے یا مخصوص رویے کی وجہ سے نہیں بلکہ ممکنہ طور پر غیر محفوظ طبی طریقوں یا دیگر وجوہات کے باعث پھیل رہا ہے۔ ان بچوں نے کوئی غیر محفوظ جنسی عمل نہیں کیا، نہ ہی نشہ آور سرنجوں کا استعمال کیا، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ معصوم بچے کیسے اس مرض میں مبتلا ہو گئے؟

 

ہمارے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں غیر مستند ڈاکٹرز (جعلی حکیم، عطائی) کا راج ہے، جو ایک ہی سرنج کو کئی مریضوں پر استعمال کر لیتے ہیں، جس سے ایچ آئی وی سمیت دیگر خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی مریض کو خون کی ضرورت پڑے اور وہ غیر محفوظ بلڈ بینک سے لیا گیا ہو تو اس میں ایچ آئی وی وائرس کی موجودگی ممکن ہے۔ اسی طرح، اگر حاملہ ماں ایچ آئی وی سے متاثرہ ہو تو اس کے بچے میں بھی یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔ تونسہ میں بچوں میں زیادہ شرح اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ یا تو ماؤں میں وائرس پہلے سے موجود تھا، یا پھر طبی عمل میں سنگین غفلت ہوئی۔

 

تونسہ میں پہلے ہی صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ایچ آئی وی کنٹرول پروگرام نے ادویات تو بھیج دی ہیں مگر عملہ تاحال نہیں پہنچا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی مریضوں کے لیے تاحال کوئی مستقل حل موجود نہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس مسئلے کا نوٹس لے کر جامع پلان طلب کیا ہے، جو ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم، یہ نوٹسز اور پلانز تبھی موثر ثابت ہوں گے جب عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

 

تونسہ میں نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ عام شہریوں کی بھی بڑے پیمانے پر ایچ آئی وی ٹیسٹنگ کی جائے، تاکہ مزید کیسز کا پتہ چل سکے اور پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ عطائی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ طبی مراکز کو فوری طور پر بند کیا جائے تاکہ غیر محفوظ سرنجوں اور آلات کے استعمال کو روکا جا سکے۔ یہ یقینی بنایا جائے کہ بلڈ بینکس سے دیا جانے والا خون مکمل طور پر اسکرین شدہ ہو، تاکہ متاثرہ خون کسی دوسرے شخص میں منتقل نہ ہو۔ اسپتال میں الگ وارڈ قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن جب تک ماہرین اور طبی عملہ وہاں نہیں پہنچے گا، مریضوں کی مناسب دیکھ بھال ممکن نہیں ہو سکے گی۔ اس لیے عملے کی فوری تعیناتی ناگزیر ہے۔ تونسہ سمیت دیگر علاقوں میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے، تاکہ لوگ غیر محفوظ طبی طریقوں، غیر محفوظ انتقالِ خون اور دیگر ممکنہ وجوہات سے بچ سکیں۔

 

تونسہ میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ ایک سنگین بحران ہے، جو ہمارے صحت عامہ کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اور دوسرے علاقوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔ حکومت، طبی اداروں، اور عوام کو یکجا ہو کر اس مسئلے سے نمٹنا ہوگا، ورنہ آنے والے دنوں میں ہمیں مزید خوفناک اعداد و شمار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

یہ وقت ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں اور ان معصوم بچوں کے مستقبل کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھائیں۔ صرف بیانات دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، عملی اقدامات ناگزیر ہیں!

بشکریہ اردو کالمز