421

پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی میں منعقدہ پنجابی کتاب ایوارڈ، کل پنجاب پنجابی مشاعرہ و تقریب ِ رُونمائی کُتب

پنجابی ادبی و ثقافتی تنظیم دل دریا پاکستان اور پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی کے زیر اہتمام دسواں سالانہ پنجابی کتاب ایوارڈ، کل پنجاب پنجابی مشاعرہ اورپنجابی کتابوں کی تقریب رُونمائی پنجا ب آرٹس کونسل راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔تقریب کے پہلے سیشن کی صدارت سرپرست اعلیٰ دل دریا پاکستان،ماہر تعلیم و لسانیات پروفیسر ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی (نمل یورنیورسٹی)نے کی۔مہمانانِ خصوصی میں مسرت شیریں اسلام آباد، ادریس چیمہ اسلام آباد،نامور شاعرنسیمِ سحر راولپنڈی، قیوم طاہرراولپنڈی،رفعت وحید راولپنڈی اور ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد اسلام آباد، پروفیسرسیدنصرت بخاری اٹک، ولی محمد خان میانوالی اور ربنواز سرگودھا شامل تھے۔مہمانانِ اعزاز میں شہزاد حسین بھٹی اسلام آباد، امتیاز قیس چٹھہ علی پورچٹھہ، شبیہہ مظہر رانجھا ڈنگہ گجرات، شاہ راز وٹو تاندلیانوالہ، ارشاد ملک کوٹ رادھا کشن جبکہ تقریب کے منتظمین میں،ظہیر بدر،اتفاق بٹ،مائرہ ملک،اقبال زرقاش،مرزا سیف اللہ ساجد، محمد سعداوراسد عباس راز تھے۔ تقریب میں پنجاب بھر سے پنجابی شعراء، ادیبوں اور سیوکوں نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کاباقاعدہ آغاز تین بجے شروع ہوا۔پہلے مرحلے میں پنجابی زبان کی ترویج کے حوالے سے استقبالیہ خطاب میں پنجابی زبان و ادب کے لیے بانی دل دریا پاکستان علی احمد گجراتی نے تنظیم کے اغراض و مقاصد پر بھرپور روشنی ڈالی۔ ممتاز ماہر تعلیم ادریس چیمہ نے پنجابی زبان کے نفاز کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے اپنے خطاب میں پنجابی کو گھر سے شروع کرنے اور لہجوں کو زبان کہنے والوں کو آگاہ کیا کہ زبان وہ ہوتی ہے جو کسی دوسرے کو سمجھ نہ آئے اور اس کا رسم الخط بھی علیحدہ ہو۔انہوں نے کہا کہ لہجوں کی جہاں تک بات ہے تو لہجے عوام الناس کی علاقائی سہولت کے تحت ہر چند کلومیٹر کے بعد تبدیل ہو جاتے ہیں،فوکس زبان کے اطلاق پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں ۵۴ کے قریب پشتو کے اخبارات نکلتے ہیں،سندھی میں ۶۵ کے قریب روزنامے نکلتے ہیں جبکہ پنجابی میں گنتی کے چند اخبار نکلتے ہیں جو عوام الناس کی رسائی میں بھی نہیں ہوتے۔ پروگرام کے دُوسرے مرحلے '' پنجاب کُتب کی رُونمائی'' میں ڈاکٹرعامر ظہیر بھٹی اور میجر (ر)محسن آرائیں کابالائی سندھ وادی کے لیے معیاری سانجھے الفاظ کی پٹی کا ترتیب کردہ پنجابی قاعدہ (سانجھا قاعدہ)کی رُونمائی کی گئی جسے حاضرین محفل نے بھرپور سہراہا۔سانجھا قاعدہ کی افادیت کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی نے کہا کہ یہ قاعدہ بالائی سندھ یعنی پنجاب میں بولے جانے والے سینتیس لہجوں کی بھرپور نمائیندگی کرتا ہے اور انہیں یکساں رسم الخط مہیا کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یونی کوڈ کے استعمال کے لیے کی پیڈ تک مہیا کیاگیا ہے۔اس قاعدے میں پنجابی میں روزمرہ استعمال ہونے والی ضرب المثال بھی دی گئی ہیں تاکہ پنجابی پڑھنے والے کی بنیاد پختہ ہو سکے۔ پیرزادہ محمد اویس باسل کے نعتیہ شعری مجموعہ ''ورقے لتھا نُور'' کی بھی رُونمائی کی گئی جسے حاضرین محفل نے بے حد سراہا۔پیر زادہ محمد اویس باسل بانی دل دریا پاکستان کے شاگرد بھی ہیں ا ن کے پہلے نعتیہ مجموعہ کلام پر علی احمد گجراتی،مسرت شیریں اور پروفیسر ادریس چیمہ نے مختص اظہار خیال بھی کیا۔ پروگرام کے تیسرے مرحلے میں کل پنجاب پنجابی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا جسکی صدارت معروف شاعر طاہر قیوم نے کی۔مشاعرے میں پنجاب بھر سے آئے نامور پنجابی شعراء نے اپنا خوبصورت پنجابی کلام پیش کیاجن میں علی احمد گجراتی،قیوم طاہر،رفعت وحید،ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، پروفیسر سید نصرت بخاری،مسرت شیریں،مائرہ ملک،شبیہہ مظہر رانجھا، نصرت یاب،مبشر سلیم،قابل جعفری،جعفر انجم جٹیانہ، ایوب جوزف، داؤد تابش مغل، آنسہ مظہر، حسین امجد،صدیق حیدر، امتیاز قیس چٹھہ، مرزا سیف اللہ ساجد،ظہیر بدر،جاویدنقاش،الفت حسین الفت، عمران ساگر، مرزا سیف اللہ شامل تھے جبکہ پروگرام میں خصوصی طور پر شرکت کرنے والے مہمانوں میں جاوید ملک گروپ ایڈیٹر روزنامہ نیوز مارٹ اسلام آباد،مرزا ناصر مغل میگزین ایڈیٹر روزنامہ اساس راولپنڈی،صحافی صفدر بھٹی حضرو،ماہر آثار قدیمہ راجہ نور محمدنظامی،پنجابی سیوک محمد طاہر ایم سی بی، راجہ زاہد حسین، شہنشاہ دانش، سحرش فاروق فتح جنگ،ادیب و مصنف ابرار شاکرشامل تھے۔ پروگرام کے آخری مرحلے میں برائے سال ۲۲۰۲۔۳۲۰۲ میں پنجابی زبان(ہرصنف) میں شائع ہونے والی کتابوں پرمیرٹ ایوارڈز دیئے گئے۔پہلا پنجابی نعت ایوارڈکشف الصدور محمد ساجد ڈھلوں نوری،پہلا پنجابی پندھ ورتی ایوارڈاکھیاں تکی رحمت مسرت شیریں،پہلا پنجابی کھوجکاری ایوارڈقصہ سوہنی مہینوال دی روایت ڈاکٹر اکبر علی غازی،پہلا پنجابی غزل ایوارڈ واہ حافظ صادق فدا،دوسرا پنجابی غزل ایوارڈ سفنے کت نہ ہوئے فاروق عابد،دوسرا پنجابی غزل ایوارڈ چپ تے میں عمران سحر،تیسرا پنجابی غزل ایوارڈ سولی ٹنگیا سورج رفعت وحید،تیسراپنجابی غزل ایوارڈ تاکاں مگروں جھات محمد اسحاق عارف،چوتھا پنجابی غزل ایوارڈجیون تارو تارشوکت مغل،پہلا پنجابی نظم ایوارڈ ٹھل رضا شاہ، دوسرا پنجابی نظم ایوارڈدل درگاہ طلحہ بن سہیل،تیسرا پنجابی نظم ایوارڈسونہہ پروین سجل،پہلا پنجابی افسانچہ ایوارڈگونگے اکھرنعیم یاد،پہلا پنجابی کہانی ایوارڈسِکّھاں ممتاز غزنی،پہلا پنجابی مزاح نگاری ایوارڈچروکنی گل ممتاز غزنی،دوسرا پنجابی مزاح نگاری ایوارڈرنگ پرنگے تہاگے علی احمد کیانی،پہلا پنجابی افسانہ نگاری ایوارڈبِسواس ڈاکٹر محمد صغیر خان،بیت نگاری ایوارڈنگینے محمد عباس مرزا،وکھریاں سوچاں ارشد مخلص اعزازی شیلڈ،پہلا پرکھ پڑچول ایوارڈنوشاہیاں نے شاہ اشتیاق احمد نوشاہی سچیاری،بیلے دیاں کلیاں ایم زیڈ کنول اعزازی شیلڈ،اوکھیاں ہوئیاں ساہنواں شاکر جتوئی اعزازی شیلڈ،گلاں یار دیاں ارشد مخلص اعزازی شیلڈ،اوکھا پندھ سیف علی اعوان اعزازی شیلڈ،لعلاں دا ونجارہ عاشق مدنی ماہی دا باب الحوائج مرشدِ کامل فضل شاہ کلیامی یعقوب فروسی اعزازی شیلڈ،چپ دیاں رمزاں امجد عارفی اعزازی شیلڈ،دُھپ کڑاکی طفیل عامراعزازی شیلڈ،لکھ واری شکرانہ محبوب علی محبوب اعزازی شیلڈ،پنجابی سیوک ایوارڈ سال برائے ۳۲۰۲قابل جعفری چکوال،عارف یار سوہلوی گجرات،ڈاکٹر محمد سخی خان میانوالی،راجہ زاہد حسین اٹک دیئے گئے۔

بشکریہ اردو کالمز