86

پاک افغان تجارت: کشیدگی کی نذر ہوتا اقتصادی تعاون

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں سفارتی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور پالیسیوں میں عدم تسلسل نے انہیں بری طرح متاثر کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم، جو کبھی ڈھائی ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکا تھا، اب گھٹ کر ڈیڑھ ارب ڈالرز تک آ چکا ہے۔ خاص طور پر طورخم سرحد کی بندش، جو تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے، نے تجارتی سرگرمیوں کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے اور تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

 

سرحد کی بندش کے باعث پاک افغان شاہراہ پر مال سے لدے سینکڑوں ٹرک مختلف مقامات پر کھڑے ہیں، جن میں پڑی اشیاء خراب ہونے کے قریب ہیں۔ پاکستان سے افغانستان کو برآمد کی جانے والی اہم مصنوعات میں سیمنٹ، سریا، ادویات، چکن، گوشت، آٹا، چینی اور دیگر اشیائے خورد و نوش شامل ہیں، جبکہ افغانستان سے پاکستان کو پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات اور کوئلہ درآمد کیا جاتا ہے۔ طورخم بارڈر کی مسلسل بندش نے اس تجارتی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تاجر اور ٹرانسپورٹرز کے مطابق، اگر سرحدی راستہ جلد نہ کھلا تو ان کا کروڑوں روپے کا نقصان مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ مجموعی طور پر دونوں ممالک کی معیشتوں کو اب تک تین ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔

 

چند سال قبل تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارتی حجم ڈھائی ارب ڈالرز تھا، لیکن گزشتہ سال یہ کم ہو کر ایک ارب چالیس کروڑ ڈالرز تک آ گیا، اور اب اس میں مزید کمی ہو رہی ہے۔ اس زوال کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سرحدی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات، سفارتی سطح پر عدم استحکام، اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت اور دیگر ممالک کے ساتھ افغانستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات شامل ہیں۔

 

طورخم بارڈر کی حالیہ بندش کی بڑی وجوہات میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ ساتھ حکومتِ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں مقیم غیر قانونی مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن بھی شامل ہے۔ پاکستانی حکام نے افغانستان کے غیر قانونی مہاجرین کے انخلاء کے لیے 31 اگست کی حتمی تاریخ مقرر کر رکھی ہے، اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افغان حکومت نے اس فیصلے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کی واپسی قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ اس تناؤ نے سرحدی نقل و حرکت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی براہ راست اثر ڈالا ہے۔

 

اس مسئلے کے حل کے لیے قبائلی عمائدین اور تاجروں پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دیا گیا ہے، جو بارڈر کھلوانے کے لیے دونوں ممالک کے حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔ جرگے کے ممبران پُرامید ہیں کہ وہ جلد کسی معاہدے پر پہنچ کر سرحد کو کھلوانے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن مستقل حل کے بغیر یہ خدشہ باقی رہے گا کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے مسائل جنم لیتے رہیں گے۔

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک سفارتی سطح پر مذاکرات کو فروغ دیں اور ایسے میکنزم ترتیب دیں جو وقتی تنازعات کے باوجود اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر نہ ہونے دیں۔ تجارتی راہداریوں کو بہتر بنانے، قانونی تجارت کو فروغ دینے اور متبادل تجارتی راستے کھولنے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ اگر موجودہ صورتحال کا فوری حل تلاش نہ کیا گیا تو افغانستان اپنی تجارت مکمل طور پر دیگر ممالک کی طرف منتقل کر سکتا ہے، اور پاکستان اپنی ایک بڑی مارکیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

بشکریہ اردو کالمز